ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl on Friday is obligatory for everyone who has reached the age of puberty."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1377
Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کی نماز کے لیے غسل شروع میں واجب تھا، جو بعد میں منسوخ ہوگیا، دیکھئیے حدیث رقم: ١٣٨٠ ، ١٣٨١ ۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے، اور وہ جمعہ کا دن ہے ۔
t was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Every Muslim man has to perform Ghusl one day in every seven, and that is on Friday."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1378
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ عالیہ میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آسکتے ۔
Abdullah bin Al-Ala narrated that: He heard Al-Qasim bin Muhammad bin Abi Bakr (say) that they mentioned Ghusl on Fridays in the presence of Aishah and she said: "Some people used to live in Al-Aliyah and they would come to Jumuah with dirt on them (because of their work). When a breeze came it would carry their smell to the people which annoyed them. Mention of that was made to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Why dont you perform ghusl?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1379
Notes · وضاحت
١ ؎: عالیہ شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں عالیہ (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں عوالی کہا جاتا ہے۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ١ ؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ ؓ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ واللہ اعلم۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever performs wudu on Friday, that is all well and good, but whoever performs ghusl, the ghusl is better."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1380
Notes · وضاحت
١ ؎: فبہا کا مطلب ہے فبالرخص ۃ أخذ یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور نِعْمَتْ کا مطلب نعمت ہی الرخص ۃ ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ٢ ؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ ؓ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ ؓ سے سنا ہے۔
اوس بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو غسل کرائے ١ ؎ غسل کرے، سویرے سویرے (مسجد) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا ۔
It was narrated from Aws bin Aws that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever washes (ghassala) and performs ghusl, comes early to the masjid and sits near the imam, and does not engage in idle talk, he will have for every step he takes (the reward of) a years worth of good deeds, fasting it and praying Qiyam during it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1381
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جمعہ کے لیے اپنے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہوجائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے (ریشم کا) ایک جوڑا (بکتے) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر ؓ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو ، تو عمر ؓ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that : Umar bin al-Khattab saw a Hullah and said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), why dont you buy this and wear it on Fridays and when meeting the delegations when they come to you?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is worn by one who has no share in the Hereafter." Then something similar was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave a Hullah to Umar from it. Umar said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), have you given me this when you said what you said about the Hullah of Utarid?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have not given it to you to wear it." So Umar gave it to an idolator brother of his in Makkah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1382
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو، ہر بالغ شخص پر واجب ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Saeed, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl should be performed on Friday by everyone who has reached the age of puberty, and using the siwak, and he should put on whatever he is able of using perfume."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1383
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی بیوی کو غسل کرائے، صبح سویرے ہی جمعہ کے لیے نکلے، شروع خطبہ ہی سے موجود رہے، پیدل چل کر مسجد جائے، سواری نہ کرے، امام سے قریب بیٹھے، اور خاموش رہے کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کے عمل کا ثواب ملے گا ۔
Abu Al-Ashath narrated that: He heard Aws bin Aws, the Companion of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever performs Ghusl on Friday and washes (ghassala), and comes early to the masjid, walking not riding, and sits close to the imam and listens attentively and does not engage in idle speech, for every step he takes he will have (the reward of) a years worth of good deeds."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1384
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے (اس دن) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When Friday comes, the angels sit at the doors of the masjid and record who comes to jumuah prayers. Then, when the imam comes out, the angels roll up their scrolls." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The one who comes early to jumuah prayers is like one who sacrifices a camel, then like one who sacrifices a cow, then like one who sacrifices a sheep, then like one who sacrifices a duck, then like one who sacrifices a chicken, then like one who sacrifices an egg."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1385
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنی جلدی پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا، اور جتنی تاخیر کرے گا اتنا ہی ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا (بھی) ذکر کیا۔
It was narrated from Abu Hurairah, who was attributing it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "When Friday comes, at every gate of the masjid there are angels who write down the peoples names in the order in which they come, then when the imam comes out, they roll up the scrolls and listen to the khutbah. The one who comes early to the prayer is like the one who sacrifices a camel, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a cow, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a ram" until he mentioned a chicken and an egg.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1386
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٧ (٨٥٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٢ (١٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٨)، مسند احمد ٢/٢٣٩ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعۃ المبارک کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب کے مطابق لکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی تو اس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے اعلیٰ درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین مرغی صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی مرغی صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے قیمتی چڑیا صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام چڑیا صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین انڈہ صدقہ کیا اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام انڈہ صدقہ کیا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On Fridays the angels sit at the gates of the masjid writing down the peoples names in the order in which they come. So the people are like a man who sacrifices a camel and like a man who sacrifices a camel, then like a man who sacrifices a cow and like a man who sacrifices a cow, then like a man who sacrifices a sheep and like a man who sacrifices a sheep, then like a man who sacrifices a chicken and like a man who sacrifices a chicken, then like a man who sacrifices a sparrow and like a man who sacrifices a sparrow, then like a man who sacrifices an egg and like a man who sacrifices an egg."
حسن صحيح لکن قوله عصفور منکر والمحفوظ دجاجةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1387
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨٣) (حسن صحیح) (لیکن عصفور (گوریا) کا لفظ منک رہے، معروف ” دجاجہ “ (مرغی) کا لفظ ہے جیسا کہ پچھلی روایات میں گزرا، اور نکارت کا سبب ” ابن عجلان “ ہیں، ان سے ابوہریرہ کی روایات میں بڑا وہم ہوا ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند (خوب اہتمام سے) غسل کیا، پھر وہ (جمعہ میں شریک ہونے کے لیے) پہلی ساعت (گھڑی) میں مسجد گیا، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آجاتے ہیں، اور خطبہ سننے لگتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever performs ghusl as from janabah on Friday, then comes (to the masjid), it is as if he sacrificed a camel. Then the one who comes in the second hour, it is as if he sacrificed a cow. Then the one who comes in the third hour, it is as if he sacrificed a ram. Then the one who comes in the fourth hour, it is as if he sacrificed a chicken. Then the one who comes in the fifth hour, it is as if he sacrificed an egg. Then when the imam comes out, the angels attend to listen to the khutbah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1388
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کردیتے ہیں، اس میں نماز جمعہ کے لیے جلد سے جلد جانے کی ترغیب و فضیلت کا بیان ہے، جو جتنی جلدی جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعتوں (گھڑیوں) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Friday is twelve hours in which there is no Muslim slave who asks Allah (SWT) for something but He will give it to him, so seek it in the last hour after Asr."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1389
Notes · وضاحت
١ ؎: اس گھڑی کے بارے میں علماء میں بہت اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک راجح قول یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں: یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے، میں نے کہا: وہ کون سا وقت ہوتا؟، انہوں نے کہا: سورج ڈھلنے کا۔
It was narrated that Jafar bin Muhammad from his father, from Jabir bin Abdullah who said: "We used to pray jumuah with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) then we would go back and tend to our camels." I said: " At what time?" He said: "When the sun had passed its zenith."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1390
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جاسکے ١ ؎۔
Iyas bin Al-Akwa narrated that his father said: "We used to pray jumuah with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) then we would go back, and the walls had no shadow in which shade could be sought."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1391
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا، پھر جب عثمان ؓ عنہ کا دور خلافت آیا، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ١ ؎، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا۔
As-Saib bin Yazid narrated that: The first adhan used to be when the imam sat on the minbar on Friday, at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and Abu Bakr and Umar. During the caliphate of Uthman, when the number of people increased, Uthman commanded that a third adhan be given on Friday, so that adhan was given from the top of Az-Zawra, and that is how it remained.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1392
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبیر کو شامل کر کے تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان غنی ؓ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے، اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کی سنت کی اتباع کی۔
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان ؓ عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہوگئے تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا صرف ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔
As-Saib bin Yazid said: "The third adhan was ordered by Uthman when the number of people in Al-Madinah increased. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) only had one adhan, and the adhan on Friday was when the imam sat down."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1393
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اس وقت اذان دیتے جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ جاتے، پھر جب آپ اترتے تو وہ اقامت کہتے، اسی طرح ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانے میں بھی ہوتا رہا۔
It was narrated that As-Saib bin Yazid said: "Bilal used to call the adhan when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat on the minbar on Friday, and when he came down he would say the Iqamah. It continued like that during the time of Abu Bakr and Umar, may Allah (SWT) be pleased with them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1394
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد) آئے اور امام (خطبہ کے لیے) نکل چکا ہو ١ ؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے ۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Jabir bin Abdullah say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If any one of you comes and the imam has appeared, let him pray two rakahs. Shubah (one of the narrators) said: "On Friday."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1395
Notes · وضاحت
١ ؎: خواہ اس نے خطبہ شروع کردیا ہو یا ابھی نہ کیا ہو، بلکہ ایک روایت میں والإمام یخطب کے الفاظ وارد ہیں، اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں بھی یہ دونوں رکعتیں پڑھی جائیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے، پھر جب منبر بنایا گیا، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون (جس سے آپ سہارا لیتے تھے) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اتر کر اس کے پاس گئے، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا۔
Jabir bin Abdullah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered the khutbah, he used to lean against a palm tree trunk that formed one of the pillars of the masjid. When the minbar was made and he sat down on it, that pillar made a sound like the groaning of a camel, which the people of the masjid heard, until the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came down and embraced it, then it fell silent."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1396
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٢٦ (٩١٧)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٩ (١٤١٧)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٨٧٧)، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣٠٠، ٣٠٦، ٣٢٤ (صحیح )