جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر سے فارغ ہوجاتے تو آپ اپنے مصلیٰ ہی پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1357
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا: آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں (پھر انہوں نے بیان کیا) کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ ﷺ بھی مسکراتے۔
It was narrated that Simak bin Harb said: "I said to Jabir bin Samurah: Did you used to sit with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)?" He said: Yes. When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose, and his companions would talk and remember things from the time of Jahilliyah and recite poetry, and they would laugh and he would smile."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1358
سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ ﷺ کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
It was narrated that As-Suddi said: "I asked Anas bin Malik (RA) : How should I leave after I have prayed- to the right or to the left? He said: I usually saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) leave to the right.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1359
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کرلے، میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Al-Aswad said: "Abdullah said: No one among you should allow the Shaitan to give him wrong ideas by making him believe that he can only leave after praying by moving to his right, because I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) usually departing to the left."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1360
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد (کبھی) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور (کبھی) اپنے بائیں طرف۔
It was narrated that Aishah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) drink standing and sitting, and he prayed barefoot and with sandals, and he left (after prayer) to the right and to the left."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1361
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: "Women used to pray fajr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and when he said the taslim they would leave, wrapped in their Mirts, unrecognizable because of the darkness."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1362
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی ، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) led us in prayer one day, then he turned to face us and said: I am now your imam, so do not hasten to bow or prostrate or stand or leave before I do. I can see you in front of me and behind me. Then he said: By the One in Whose Hand is my soul, if you had seen what I have seen, you would laugh little and weep much. We said: What have you seen, O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)? He said: Paradise and Hell."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1363
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ ﷺ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے (اور پڑھاتے رہے) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے (ولید بن عبدالرحمٰن نے) کہا: سحری کھانا۔
It was narrated that Abu Dharr said: "We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) did not lead us in Qiyam until there were seven days left of the month, then he led us in Qiyam until one-third of the night had passed. Then, when there were six days left, he did not lead us in Qiyam. When there were five days left, he led us in praying Qiyam until half the night had passed. We said: O Messenger of Allah (SA), why dont you lead us in praying Qiyam for the rest of the night? He said: If a man prays with the Imam until he leaves, that will be continued for him as if he spent the whole night in prayer. Then, when there were four days left, he did not lead us in praying Qiyam. When there were three days left he sent for his daughters and women, and gathered the people, and he led us in praying Qiyam until we feared that we would miss Al-Falah. Then he did not lead us in praying Qiyam for the rest of the month." Dawud (one of the narrators) said: "I said: What is falah? He said: Sahur.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1364
عقبہ بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑگئے، کچھ صحابہ کرام ؓ آپ کے پیچھے گئے (کہ کیا معاملہ ہے) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آگیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔
It was narrated that Uqbah bin Al-Harith said: "I prayed Asr with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Madinah, then he left, stepping over the necks of the people, so quickly that the people were surprised at his haste. He entered unto one of his wives, then he came out and said: While I was praying Asr, I remembered some gold that we had, and I did not want it to stay with us overnight, so I ordered that it be distributed."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1365
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٨ (٨٥١)، العمل فی ال صلاة ١٨ (١٢٢١)، الزکاة ٢٠ (١٤٣٠)، الاستئذان ٣٦ (٦٢٧٥)، مسند احمد ٤/٧، ٨، ٣٨٤، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٦) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے ، چناچہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود (پہلے) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: On the Day of Al-Khandaq, after the sun had set, Umar bin Al-Khattab started cursing the disbelievers of the Quraish and said: "O Messenger of Allah, I was hardly able to pray until the sun set." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "By Allah, I did not pray." So we went down with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) to Buthan. He performed wudu for prayer and so did we, and he prayed Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1366
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دنیا میں) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور (قیامت میں) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ١ ؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے (یعنی جمعہ کے دن سے) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ٢ ؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ (سنیچر) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی (یعنی اتوار کی) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: We are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection, but they were given the Book before us and we were given it after them. They differed concerning this day which Allah (SWT), the Mighty and Sublime, had prescribed for them and Allah (SWT), the Mighty and Sublime, guided us to"--meaning Friday--"so the people follow us, the Jews the next day and the Christians the day after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1367
Notes · وضاحت
١ ؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کرلیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ٢ ؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
ابوہریرہ اور حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah (SWT) sent astray from Friday those who came before us, so the Jews had Saturday and the Christians had Sunday. Then Allah (SWT), the Mighty and Sublime, brought us and guided us to Friday, so there is Friday, Saturday and Sunday, and thus they will follow us on the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world but the first on the Day of Resurrection for whom judgment will be passed before all other creatures."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1368
ابوجعد ضمری ؓ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Jad Ad-Damri-who was a Companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever missed three jumuahs out of negligence, Allah (SWT) will place a seal over his heart".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1369
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٠ (١٠٥٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٢، الجمعة ٧ (٥٠٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٣ (١١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، مسند احمد ٣/٤٢٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ١ ؎ اور وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے ٢ ؎۔
It was narrated from Al-Hakam bin Mina that: He heard Ibn Abbas and Ibn Umar narrated that while he was on the minbar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People should stop negleting jumuah or Allah (SWT) will place a seal on their hearts and they will be deemed as being among the negligent."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1370
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا مسلسل جمعہ کا چھوڑنا ایسا خطرناک فعل ہے جس سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد انسان کے لیے اخروی فلاح و نجات کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ ٢ ؎: غافلوں میں سے ہوجائیں کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے بالکل بےپرواہ ہوجائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٢ (٨٦٥) (وفیہ ” أبو ھریرة “ بدل ” ابن عباس “ )، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٧ (٧٩٤) (تحفة الأشراف: ٥٤١٣، ٦٦٩٦)، (وفیہ ” الجماعات “ بدل ” الجمعات “ )، مسند احمد ١/٢٣٩، ٢٥٤، ٣٣٥ و ٢/٨٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١١) (صحیح )
ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے لیے (مسجد) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Going to jumuah is obligatory for everyone who has reached the age of puberty."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1371
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٩ (٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٦)، (و عندہ زیادة ” وعلی کل من راح إلی الجمعة الغسل “ ) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے ۔
It was narrated that Samurah bin Jundub said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever misses jumuah with no excuse, let him give a dinar in charity, and if he cannot afford that, then half a dinar."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1372
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١١ (١٠٥٣، ١٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣١)، مسند احمد ٥/٨، ١٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” قدامہ “ مجہول ہیں، نیز ” سمرہ ؓ “ سے ان کا سماع نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا ١ ؎۔
Abdur-Rahman Al-Araj narrated that: He heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam, peace be upon him, was created, on this day he was admitted to Paradise, and on this day he was taken out of it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1373
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے جمعہ کے دن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے امور سر انجام پائے۔
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل (بہترین) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہوگی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ (درود و رحمت) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ١ ؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ (درود و رحمت) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہوچکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے جسم کو کھائے ۔
It was narrated from Aws bin Aws that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "One of the best of your days is Friday. On this day, Adam was created and on this day he died, on this day the Trumpet will be blown, and on this day all creatures will swoon. So send a great deal of salah upon me on this day, for your salah will be presented to me." They said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), how will our salah be presented to you when you have decomposed (after death)?" He said: "Allah (SWT), the Mighty and Sublime, has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s, peace be upon them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1374
Notes · وضاحت
١ ؎: تمہارے درود مجھ پر پیش کیے جائیں گے، سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ براہ راست کسی کا درود نہیں سنتے نہ قریب سے نہ بعید سے، قریب سے سننے کی ایک روایت مشہور ہے لیکن وہ صحیح نہیں، صحیح یہی ہے کہ آپ خود کسی کا درود نہیں سنتے فرشتے ہی آپ کا درود پہنچاتے ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پر وہ قادر ہو لگانا بھی ١ ؎۔
It was narrated (through two chains) from Abdur-Rahman bin Abi Saeed, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl and using siwak on Fridays are obligatory for everyone who has reached the age of puberty, and he should put on whatever he can find of perfume." Except that Bukair (one of the narrators in one chain) did not mention Abdur-Rahman, and about the perfume he said: "Even if it is womens perfume."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1375
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When any one of you wants to come to Jumuah prayer, let him perform ghusl."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1376