جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivering the khutbah on Friday standing, then he sat briefly and did not speak, then he stood up and delivered a second khutbah. So whoever tells you that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the khutbah seated, he has lied."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1417
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ١ ؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the khutbah standing, then he would sit, then he would stand up and recite some Verses and remember Allah (SWT), the Mighty and Sublime. His khutbah was moderate in length and his prayer was moderate in length."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1418
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ ؓ ہی کی ایک روایت میں یہ صراحت ہے کہ آپ جمعہ میں دو خطبے دیتے تھے، اور دونوں میں تلاوت قرآن اور وعظ و تذکیر کیا کرتے تھے، اس لیے وعظ و تذکیر کے لیے صرف پہلے خطبے کو خاص کرلینا خلاف سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣)، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ٩١، ٩٣، ٩٨، ١٠٢، ١٠٦، ١٠٧ ں ویأتی عند المؤلف فی العیدین ٢٦ (برقم: ١٥٨٥) (حسن )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آجاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کرلیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کرلیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would come down from the minbar and a man would come to him and speak to him, then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would listen to him until he gave him an answer, then he would go to his place of prayer and pray."
شاذ والمحفوظ أن ذلک کان في صلاة العشاءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1419
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (الجمعة ٢١) (٥١٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٩ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠)، مسند احمد ٣/١١٩، ١٢٧، ٢١٣ (شاذ) (صحیح بات یہ ہے کہ واقعہ عشاء کی صلاة میں پیش آیا تھا، بقول امام بخاری اس میں جریر بن حازم سے وہم ہوگیا ہے، کما نقل عنہ الترمذی )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا کہ جمعہ کی نماز، عید الفطر کی نماز، اور عید الاضحی کی نماز، اور سفر کی نماز، دو دو رکعتیں ہیں، اور یہ بزبان محمد ﷺ پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر ؓ سے نہیں سنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Laila that Umar said: "Jumuah prayer is two rakahs, the prayer of Al-Fitr is two rakahs, the prayer of Al-Adha is two rakahs, the prayer when traveling is two rakahs, complete and not shortened, on the tongue of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1420
Notes · وضاحت
١ ؎: محقق بات یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا سماع عمر ؓ سے ثابت ہے، دیکھئیے مسند احمد، ونصب الرایہ ( ٢ /١٨٩) نیز ابن ماجہ کی دوسری سند ( ١٠٦٤ ) میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اور عمر ؓ کے درمیان کعب بن عجرہ ؓ کا واسطہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٦)، مسند احمد ١/٣٧، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٤٤١ و ١٥٦٧ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز نماز فجر میں الم * تنزيل اور هل أتى على الإنسان پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورة جمعہ اور سورة منافقون پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn Abbas that : During the subh prayer on Friday, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite: "Alif-Lam-Mim. The Revelation" and: "Has there not been over man," and in Jumuah prayer he would recite Al-Jumuah (62) and Al-Munafiqin (63).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1421
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in jumuah prayer: Glorify the Name of your Lord, the Most Hight and: Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1422
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں اور اس سے پہلے والے باب کی روایت میں بظاہر تعارض ہے، پر یہ اختلاف دونوں کے جواز اور دونوں کے مسنون ہونے پر دلالت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورة جمعہ اور دوسری رکعت میں سورة منافقون پڑھتے اور کبھی سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورة الجمعہ کے بعد کون سی سورة پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Ad-Dahhak bin Qais asked An-Numan bin Bashir: "What did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) use to recite on Friday after Surat Al-Jumuah?" He said: "He used to recite: Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1423
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہوجاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite Glorify the name of your Lord, the Most High and Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the day of resurrection)? in the Jumuah prayer, and sometimes Eid and jumuah would fall on the same day, and he would recite them in both Eid and jumuah prayer."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1424
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے (جمعہ کی نماز) پا لی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever catches up with a rakah of jumuah prayer has caught up with it."
شاذ بذکر الجمعة والمحفوظ الصلاةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1425
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٠ (٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩١ (١١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٣)، مسند احمد ٢/٢٤١، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (شاذ بذکر الجمعة) (جمعہ کا لفظ صرف مؤلف کے یہاں ہے، باقی تمام محدثین کے یہاں صرف ” صلاة “ کا لفظ ہے، تفاصیل کے لیے مذکور تخریج ملاحظہ فرمائیں، اس لیے جمعہ کا لفظ شاذ ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When any one of you prays jumuah let him pray four (rakahs) after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1426
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں چار رکعت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد والی حدیث میں دو رکعت کا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں بعض لوگوں نے دونوں رایتوں میں اس طرح سے تطبیق دی ہے کہ جو مسجد میں پڑھے وہ چار رکعت پڑھے، اور جو گھر جا کر پڑھے وہ دو رکعت پڑھے، اسی طرح چار رکعت کس طرح پڑھی جائیں، اس میں بھی دو رائے ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں رکعتیں پڑھی جائیں، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں، کیونکہ صحیح حدیث میں ہے صلا ۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ رات اور دن کی (نفلی نمازیں) دو دو کر کے ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر لوٹ آتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would not pray after jumuah until he had left, then he would pray two rakahs. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1427
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کو لمبی کرتے تھے اور کہتے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn Umar that: He used to pray two rakahs after jumuah, making them lengthy, and he said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to do this."
شاذ بذکر إطالتهماصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1429
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٤ (١١٢٧، ١١٢٨)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٨، مسند احمد ٢/١٠٣ (شاذ) (ان دونوں رکعتوں کو لمبی کرنے کا ذکر شاذ ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں طور پہاڑی پر آیا تو وہاں مجھے کعب (کعب احبار) ؓ ملے تو میں اور وہ دونوں ایک دن تک ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں (دنیا میں) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی، زمین پر رہنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو جمعہ کے دن قیامت کے ڈر سے صبح کو سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے، سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کسی مومن کو یہ گھڑی مل جائے اور نماز کی حالت میں ہو اور وہ اللہ سے اس ساعت میں کچھ مانگے تو وہ اسے ضرور دے گا ، کعب نے کہا: یہ ہر سال میں ایک دن ہے، میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو کعب نے تورات پڑھ کر دیکھا تو کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، یہ ہر جمعہ میں ہے۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا، تو میری ملاقات بصرہ بن ابی بصرہ غفاری ؓ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے کہا: طور سے، انہوں نے کہا: کاش کہ میں آپ سے وہاں جانے سے پہلے ملا ہوتا، تو آپ وہاں نہ جاتے، میں نے ان سے کہا: کیوں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے: سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس ١ ؎ کی طرف۔ پھر میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا تو میں نے کہا: کاش آپ نے مجھے دیکھا ہوتا، میں طور گیا تو میری ملاقات کعب سے ہوئی، پھر میں اور وہ دونوں پورے دن ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنوں میں بہترین دن جمعہ کا دن ہے جس میں سورج نکلا، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں دنیا میں اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی میں قیامت قائم ہوگی، زمین پر کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو قیامت کے ڈر سے جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان کو وہ گھڑی نماز کی حالت میں مل جائے، اور وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دے گا، اس پر کعب نے کہا: ایسا دن ہر سال میں ایک ہے، تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: کعب نے غلط کہا، میں نے کہا: پھر کعب نے (تورات) پڑھی اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، وہ ہر جمعہ میں ہے، تو عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا: کعب نے سچ کہا، پھر انہوں نے کہا: میں اس گھڑی کو جانتا ہوں، تو میں نے کہا: اے بھائی! مجھے وہ گھڑی بتادیں، انہوں نے کہا: وہ گھڑی جمعہ کے دن سورج ڈوبنے سے پہلے کی آخری گھڑی ہے، تو میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: جو مومن اس گھڑی کو پائے اور وہ نماز میں ہو جبکہ اس گھڑی میں کوئی نماز نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص نماز پڑھے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ، میں نے کہا: کیوں نہیں سنا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: تو وہ اسی طرح ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I went out to At-Tur and met Kab. He and I spent a day together, when I narrated things to him from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he narrated things to me from the Tawrah. I said to him: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam was created, on this day he was sent down, on it repentance was accepted, on this day he died, and on this day the Hour will begin. There is no living creature on Earth that does not listen out from Friday morning until the sun rises, fearing the onset of the Hour, except the son of Adam. On (Friday) there is an hour in which, if a believer prays and asks Allah (SWT) for something, He will give it to him. Kab said: Is than one day in every year? I said: No, it is every Friday. Then Kab read in the Tawrah and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoke the truth; it is every Friday. Then I went out and met Basrah bin Abi Basrah Al-Ghifari. He said: From where have you come? I said: From At-Tur. He said: If I had met you before you went there, you would not have gone. I said to him: Why? He said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Do not travel especially to visit a masjid except three: Al Masjid Al Haram (in Makkah), my masjid (in Al-Madinah) and the Masjid of Bait Al-Maqdis (in Jerusalem). Then I met Abdullah bin Salam and said: If you had only seen me, I went to At-Tur and met Kab, and he and I spent the day together, when I narrated things to him from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he narrated things to me from the Tawrah. I said to him: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam was created, on this day he was sent down, on it repentance was accepted, on this day he died, and on this day the Hour will begin. There is no living creature on Earth that does not listen out from Friday morning until the sun rises, fearing the onset of the Hour, except the son of Adam. On (Friday) there is an hour in which, if a believer prays and asks Allah (SWT) for something, He will give it to him. Kab said: That is one day in every year. Abdullah bin Salam said: Kab is not telling the truth. I said: Then Kab read (in the Tawrah) and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoke the truth; it is every Friday. Abdullah said: Kab spoke the truth; I know when that time is. I said: O my brother, tell me about it. He said: It is the last hour of Friday, before the sun sets. I said: Did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If a believer prays, but that is not a time for prayer. He said: Did you not hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever prays and sits waiting for the (next) prayer, is in a state of prayer until the next prayer comes? I said: Of course. He said: That is what it is."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1430
Notes · وضاحت
١ ؎: لہٰذا ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے ثواب کی نیت سے سفر جائز نہیں ہے، ایسے ہی مقام کی زیارت کے لیے ثواب کی نیت سے جانا خواہ وہ کوئی قبر ہو یا شہر درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٧ (١٠٤٦) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (الجمعة ٢) (٤٩١) مختصراً، موطا امام مالک/الجمعة ٧ (١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٠٠)، مسند احمد ٢/٤٧٦، ٥٠٤، ٥/٤٥١، ٤٥٣، وقولہ: ” فیہ ساعة لایصادفھا ۔۔۔ الخ عند الشیخین و الترمذی من طریق الأعرج عنہ، أنظر رقم: ١٤٣٢ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی کو پالے، اور اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور دے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On Friday, there is an hour when, if a Muslim slave asks Allah (SWT) for something at that time, He will give it to him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1431
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جمعہ والے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اسے نماز میں کھڑا پالے، پھر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا ، اور آپ اسے ہاتھ کے اشارے سے کم کر کے بتا رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کون ہیں جانتے جس نے اس حدیث کو عن معمر، عن الزهري، عن سعيد (المقبري) کے طریق سے روایت کیا ہو، سوائے رباح کے، البتہ ایوب بن سوید نے اس کو عن يونس، عن الزهري، عن سعيد وأبي سلمة کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن ایوب بن سوید متروک الحدیث ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "Abu Al-Qasim (صلی اللہ علیہ وسلم) said: On Friday, there is an hour when, if a Muslim slave stands in prayer and asks Allah (SWT) for something at that time, He will give it to him." He was reducing it: lessening it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1432
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت کریمہ: ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے (النساء: ١٠١ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہوگئے ہیں؟ تو عمر ؓ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ١ ؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I said to Umar bin Al-Khattab: There is no sin on you if you shorten salah and if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you). But now the people are safe. Umar said: I wondered the same thing, so I asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) about that and he said: This is a favor from Allah (SWT) to you, so accept His favor."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1433
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری کمزوری اور درماندگی کو دیکھتے ہوئے تمہاری پریشانی اور مشقت کے ازالہ کے لیے بطور رحمت تمہارے لیے مشروع کیا ہے، لہٰذا آیت میں إن خفتم (اگر تمہیں ڈر ہو) کی جو قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ١ ؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ٢ ؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر ؓ نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ٣ ؎۔
It was narrated from Umayyah bin Abdullah bin Khalid that: He said to Abdullah bin Umar: "We find (mention of) prayer when one is at home (i.e., not traveling) and prayer at times of fear in the Quran, but we do not find any mention in the Quran of prayer when traveling. Ibn Umar said to him: O son of my brother, Allah (SWT) send Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) to us when we did not know anything, and all we should do is to do that which we saw Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) doing."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1434
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن کے سلسلہ میں جو مطلق اوامر وارد ہیں ان کا محمل یہی حضر کی صلاۃ ہے۔ ٢ ؎: خوف کی صلاۃ کا ذکر آیت کریمہ: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا (النساء: 101) میں ہے۔ ٣ ؎: اور آپ نے بغیر خوف کے بھی قصر کیا ہے، لہٰذا یہ ایسی دلیل ہے جس سے اسی طرح حکم ثابت ہوتا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ١ ؎ (اس کے باوجود) آپ (راستہ بھر) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) set out from Makkah to Al-Madinah, fearing nothing but the Lord of the worlds, and praying two rakahs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1435
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "We used to travel with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) between Makkah and Al-Madinah, fearing nothing but Allah, the Mighty and Sublime, and praying two rakahs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1436