عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة ص میں سجدہ کیا، اور فرمایا: داود (علیہ السلام) نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا، اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) prostrated in Sad and said: "Dawud did this prostration in repentance and we do it in thanksgiving".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 957
مطلب بن ابی وداعہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سورة النجم پڑھی، تو آپ نے سجدہ کیا، اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے اپنا سر اٹھائے رکھا، اور سجدہ کرنے سے انکار کیا، (راوی کہتے ہیں) ان دنوں مطلب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
It was narrated from Jafar bin Al-Muttalib bin Abi Wadaah that: His father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited Surat An-Najm in Makkah and prostrated, and those who were with him prostrated. I raised my head and refused to prostrate." At that time Al-Muttalib had not yet accepted Islam.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 958
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ١ ؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو والنجم اذا ھوی پڑھ کر سنایا، تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا ٢ ؎۔
It was narrated from Ata bin Yasar that: He asked Zaid bin Thabit about reciting with the Imam. He said: "There is no recitation with the Imam in anything". And he claimed that he had recited: "By the star when it goes down (or vanishes)" to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he did not prostrate.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 960
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ٢ ؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورة النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم ﷺ سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم ﷺ نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کردیا ہے۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے إذا السماء انشقت پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سجدہ کیا تھا۔
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur- Rahman that: Abu Hurairah (led them in prayer and) recited: "When the heaven is split asunder". And prostrated during it. When he had finished praying, he told them that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had prostrated during it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 961
Takhrij · تخریج
وقد اخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٩)، موطا امام مالک/القرآن ٥ (١٢)، مسند احمد ٢/٢٨١، ٤١٣، ٤٤٩، ٤٥١، ٤٥٤، ٤٦٦، ٤٨٧، ٥٢٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٢ (١٥٠٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربك میں سجدہ کیا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "We prostrated with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) during: When the heaven is split asunder and Read! In the Name of your Lord".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 963
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٥ (٥٧٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧١ (١٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦٥)، مسند احمد ٢/٢٤٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٢ (١٥١١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر ؓ نے إذا السماء انشقت میں سجدہ کیا، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی (یعنی نبی اکرم ﷺ نے بھی) ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Abu Bakr and Umar (RA) prostrated during: When the heaven is split asunder, as did the one who was better than them (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) صلی اللہ علیہ وسلم)".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 965
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر ؓ نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربك میں سجدہ کیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Abu Bakr and Umar (RA), may Allah be pleased with them both, and the one who was better than them prostrated during When the heaven is split asunder and Read! In the name of your Lord".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 966
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربك میں سجدہ کیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I prostrated with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) during; When the heaven is split asunder and Read! In the Name of your Lord".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 967
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورة إذا السماء انشقت پڑھی، اور اس میں سجدہ کیا، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا: اسے ابوالقاسم ﷺ نے کیا ہے، اور میں آپ کے پیچھے تھا، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم ﷺ سے جا ملوں۔
It was narrated that Abu Rafi said: "I prayed Isha prayer- meaning Al-Atamah behind Abu Hurairah (RA) and he recited: When the heaven is split asunder and prostrated during it. When he had finished praying, I said: O Abu Hurairah, (this is) a prostration that we are not used to. He said: Abu Al-Qasim (صلی اللہ علیہ وسلم) did this prostration and I was (praying) behind him, and I will continue to do this prostration until I meet Abu Al-Qasim (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 968
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔
It was narrated that Ata said: "Abu Hurairah (RA) said: "In should be recitation in every prayer. What the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) made us hear (by reciting out loud) we make you hear, and what he hid from us (by reciting silently) we hide from you".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 969
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٧)، مسند احمد ٢/٢٥٨، ٢٧٣، ٢٨٥، ٣٠١، ٣٤٣، ٣٤٨، ٤١١ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "In every prayer there is recitation. What the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) made us hear (by reciting out loud) we make you hear, and what he hid from us (by reciting silently) we hide from you".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 970
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس میں آپ نے جہر سے قرات کی ہم بھی اس میں جہر سے قرات کرتے ہیں، اور جس میں آپ نے سرّی قرات کی اس میں ہم بھی سرّی قرات کرتے ہیں۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے، تو ہم آپ سے سورة لقمان اور سورة والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Al-Bara (RA) said: "We used to pray Zuhr behind the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and we heard some of the verses from Surah Luqman and Adh-Dhariyat from him".
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 971
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ سری قرات کرتے تھے لیکن کبھی کبھی کوئی آیت زور سے بھی پڑھ دیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ سری نمازوں میں کبھی کبھی کوئی آیت جہر سے پڑھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨ (٨٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٩١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو اسحاق “ مختلط ہوگئے تھے، نیز مدلس بھی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں )
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر پڑھی، تو آپ نے (ظہر کی) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھی۔
Abu Bakr bin An-Nadr said: "We were in At-Taff with Anas, and he led them in praying Zuhr. When he had finished, he said: I prayed Zuhr with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he recited two surahs for us in the two rakahs: "Glorify the Name of your Lord, the Most High and Has there come to you the narration of the over-whelming (i.e. The Day of Resurrection)"?
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 972
Notes · وضاحت
١ ؎: طف کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧١٤) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابوبکر بن نضر “ مجہول الحال ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھرجانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں ہوتے، (کیونکہ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri (RA) said: "The Iqamah for Zuhr prayer would be said, and a person could go to the Al-Baqi, relieve himself, perform wudhu, and come (to the masjid), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would still be in the first rakah, making it lengthy.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 973
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧ (٨٢٥)، (تحفة الأشراف: ٤٢٨٢)، مسند احمد ٣/٣٥ (صحیح )
ابوقتادہ ؓ نبی اکرم ﷺ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ١ ؎۔
Abdullah bin Abi Qatadah (RA) narrated that: His father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to lead us in prayer, and he would recite in the first two rakahs and make us hear some verses. And he would make the (first) Rakah lengthy in Zuhr, and also the first rakah". Meaning in Subh.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 974
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ لوگ پہلی رکعت کی فضیلت سے محروم نہ ہونے پائیں۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔
Abdullah bin Abi Qatadah (RA) said: "My father told us that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite Umm Al-Quran and two surahs in the first two rakahs of Zuhr and Asr, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rakah lengthy".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 975
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم۔
Abdullah bin Abi Qatadah (RA) narrated that: His father told him: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite for us in the first two rakahs of Zuhr prayer, and he would make us hear a verse sometimes. He would make the first rakah longer and the second shorter. And he used to do that in Subh too, make the first rakah longer and the second shorter. And he used to recite in the first two rakahs of Asr prayer, making the first rakah longer and the second shorter".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 976