دن کے وقت نماز میں قرأت آہستہ کرنی چاہئے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ.
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔
It was narrated that Ata said: "Abu Hurairah (RA) said: "In should be recitation in every prayer. What the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) made us hear (by reciting out loud) we make you hear, and what he hid from us (by reciting silently) we hide from you".