عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت ؓ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ١ ؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو والنجم اذا ھوی پڑھ کر سنایا، تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا ٢ ؎۔
It was narrated from Ata bin Yasar that: He asked Zaid bin Thabit about reciting with the Imam. He said: "There is no recitation with the Imam in anything". And he claimed that he had recited: "By the star when it goes down (or vanishes)" to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he did not prostrate.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 960
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ٢ ؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورة النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم ﷺ سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم ﷺ نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کردیا ہے۔