ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب عورت خوشبو لگائے ہو تو ہمارے ساتھ عشاء کی جماعت میں نہ آئے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے عن ابی ھریرہ کہنے میں متابعت کی ہو۔ اس کے برعکس یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اسے روایت کرنے میں عن زینب الثقفی ۃ کہا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a woman has perfumed herself with incense, let her not attend Isha prayer.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5128
Notes · وضاحت
١ ؎: یزید بن خصیفہ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، یہ بالکل ممکن ہے کہ روایت یزید کے پاس دونوں سندوں سے ہو۔
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے (مسجد) آئے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated that Zainab, the wife of Abdullah, said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: If one of you wants to attend Isha prayer, let her not touch perfume.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5129
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے، واللہ اعلم ١ ؎۔
It was narrated that Zainab, the wife of Abdullah, said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If one of you wants to attend Isha prayer, let her not touch perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5130
Notes · وضاحت
١ ؎: جریر کی روایت یہی ہے، اور جریر و یحییٰ کی مشترکہ روایت نمبر ٥٢٦٢ پر آرہی ہے، مؤلف کا مقصد یہ ہے زینب رضی اللہ عنہا کی روایت میں بسر بن سعید سے روایت کرنے والے بکیر کا ہونا یعقوب بن عبداللہ کے بالمقابل زیادہ قرین صواب بات ہے۔
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں جو کوئی عورت مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah that : The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If any one of you goes out to the Masjid, let her not go near perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5131
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ثقفیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ جب عشاء کے لیے مسجد جائیں تو خوشبو نہ لگائیں ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah, the wife of Abdullah, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told her not to touch perfume if she wanted to go out to Isha the later.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5132
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب عورت عشاء کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔
It was narrated from Zainab Ath-Thaqafiyyah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a woman goes out to (pray) Isha, let her not touch perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5133
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Zainab Ath-Thaqafiyyah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If one of you wants to attend the prayer, let her not touch perfume.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5134
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : بسر سے زہری کا راوی ہونا غیر محفوظ ہے، ان کی جگہ بکیر کا ہونا محفوظ ہے، بہرحال روایت محفوظ ہے۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ ﷺ دھونی لیتے تھے۔
It was narrated that Nafi said: "When Ibn Umar burned incense he would burn Al-Uluwwah that was not mixed with anything else, or camphor mixed with some Al-Uluwwah. Then he said: This is what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to burn.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5135
عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے : اگر تم لوگ جنت کے زیورات اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو ١ ؎۔
Uqbah bin Amir narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to tell his wives not to wear jewelry and silk. He said: "If you want the jewelry and silk of Paradise, then do not wear them in this world.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5136
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں مذکور بعض احادیث میں عورتوں کے لیے بھی سونے کے استعمال کو حرام بتایا گیا ہے، مؤلف نیز جمہور أئمہ عورتوں کے لیے سونے کے مطلق استعمال کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے مؤلف نے ان احادیث کی گویا ایک طرح سے تاویل کرتے ہوئے یہ باب باندھا ہے، یعنی : ان احادیث میں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب وہ ان کو پہن کر بطور فخر و مباہات کی نمائش کرتی پھریں، ورنہ ہر طرح کا سونے کا زیور عورتوں کے لیے حلال ہے، بعض علماء ان احادیث کو اس حدیث سے منسوخ مانتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سونا اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام کردیا گیا ہے، اور عورتوں کے حلال کردیا گیا ہے ، اس حدیث میں کوئی قید نہیں کہ سونے کا زیور حلقہ دار ہو یا ٹکڑے والا، علامہ البانی نے دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق کی راہ یہ نکالی ہے (جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے) کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کا زیور (جیسے کنگن، بالی اور انگوٹھی وغیرہ) حرام ہے، ہاں ٹکڑے ٹکڑے والا زیور حلال ہے جیسے بٹن، ٹپ، اور ایسا ہار جس کا بعض حصہ دھاگہ ہو، وغیرہ وغیرہ، احتیاط علامہ البانی کے قول ہی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو : آداب الزفاف للألبانی )
حذیفہ (رض) کی بہن کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے خطاب کیا تو فرمایا : اے عورتوں کی جماعت ! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں ؟ دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہوگا ۔
It was narrated from Ribi, from his wife, that the sister of Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and said: O women, do you not have any silver to wear for adornment? For there is no woman among you who wears gold and shows it, but she will be punished because of it.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5137
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٤٣، ١٨٣٨٦) ، مسند احمد (٦/٣٥٧، ٣٥٨، ٣٦٩) ، سنن الدارمی/الاستئذان ١٧ (٢٦٨٧) (ضعیف) (اس کی راویہ ” ربعی کی اہلیہ “ مجہول ہیں )
حذیفہ (رض) کی بہن کہتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطاب کیا اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت ! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں، دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہوگا ۔
It was narrated from Ribi, from his wife, that the sister of Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed us and said: O women, do you not have any silver to wear for adornment? For there is no woman among you who wears gold and shows it, but she will be punished because of it.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5138
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اللہ تعالیٰ اس کی گردن میں اسی جیسا آگ کا ہار پہنائے گا، اور جو کان میں سونے کی بالیاں پہنے گی، اللہ تعالیٰ اس کے کان میں اسی جیسی آگ کی بالیاں قیامت کے دن پہنائے گا ۔
Asma bint Yazid narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Any woman who puts on a necklace of gold, Allah will put something similar of fire around her neck. Any woman who puts earrings of gold on her ears, Allah, the Mighty and Sublime, will put earrings of fire on her ears on the Day of Resurrection.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5139
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٨ (٤٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٧٦) ، مسند احمد (٦/٤٥٣، ٤٥٧، ٤٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمود “ لین الحدیث ہیں )
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں رسول اللہ ﷺ ان کے ہاتھ پر مارنے لگے، وہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئیں تاکہ ان سے اس برتاؤ کا گلہ شکوہ کریں جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ کیا تھا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے کا سونے کا ہار نکالا اور بولیں : یہ مجھے ابوالحسن (علی) نے تحفہ دیا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ آگئے اور ہار ان کے ہاتھ ہی میں تھا، آپ نے فرمایا : فاطمہ ! تمہیں یہ بات پسند ہے کہ لوگ کہیں : رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور ہاتھ میں آگ کی زنجیر ؟ ، پھر آپ بیٹھے نہیں چلے گئے، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار بازار بھیج کر اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت سے ایک غلام (لڑکا) خریدا اور اسے آزاد کردیا، نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : شکر ہے اللہ کا جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دی ۔
It was narrated from Abu Asma Ar-Rahabi that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم), told him: "Fatimah bint Hubairah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) with a big ring on her hand." He (the narrator) said: "This is what I found in the book of my father, a huge ring."- "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) started hitting her hand, so she entered upon Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and complained to her about what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had done. Fatimah took off a gold chain from her neck and said: This was given to me by Abu Hasan. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came in and (صلی اللہ علیہ وسلم) the chain in her hand. He said: O Fatimah, would you like the people to say that the daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) has a chain of fire in her hand? Then he went out, without sitting down. Fatimah sent the chain to the market and sold it, and she bought a slave with the money, and set him free. He was told of that and he said: Praise be to Allah, Who has saved Fatimah from the Fire.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5140
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ ہبیرہ کی صاحب زادی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں، پھر آگے اسی طرح بیان کیا۔
It was narrated that Thawban said: "The daughter of Hubairah came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and on her hand were large gold rings." - a similar report.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5141
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سونے کے دو کنگن ہیں، آپ نے فرمایا : آگ کے دو کنگن ہیں وہ بولی : اللہ کے رسول ! سونے کا ہار ہے، آپ نے فرمایا آگ کا ہار ہے ، وہ بولی : سونے کی دو بالیاں ہیں، آپ نے فرمایا : آگ کی دو بالیاں ہیں ، اس عورت کے پاس سونے کے دو کنگن تھے، اس نے انہیں اتار کر پھینک دئیے اور بولی : اگر عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار نہ کرے تو وہ اس کے لیے پھر کس کام کی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں چاندی کی بالیاں بنانے پھر اسے زعفران یا عبیر سے پیلا کرنے سے کون سی چیز مانع ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I was sitting with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when a woman came to him and said: O Messenger of Allah, two bracelets of gold. He said: Two bracelets of fire. She said: O Messenger of Allah, a necklace of gold. He said: A necklace of fire. She said: Two earrings of gold. He said: Two earrings of fire. She was wearing two bracelets of gold, so she took them off and said: O Messenger of Allah, if a woman does not adorn herself for her husband, she will become unattractive to him. He said: What is there to keep any one of you from making earrings of silver and painting them yellow with saffron or some Abir? This is the wording of Ibn Harb.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5142
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٩٣٤) ، مسند احمد (٢/٤٤٠) (ضعیف) (اس کے راوی ابو زید صاحب ابی ہریرہ مجہول ہیں )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں سونے کی پازیب پہنے دیکھا، تو فرمایا : میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں، تم اسے اتار دو اور چاندی کی پازیب بنا لو، پھر انہیں زعفران سے رنگ کر پیلا کرلو، یہ بہتر ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ حدیث محفوظ نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw her wearing two bracelets of gold. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Shall I not tell you of something that is better than this? Why dont you take these off and wear two bracelets of silver, and paint them yellow with saffron, and they will look fine.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5143
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ١ ؎۔
Ali bin Abi Talib said: "The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took hold of some silk in his right hand and some gold in his left, then he said: These two are forbidden for the males of my Ummah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5144
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں کا استعمال مردوں کے لیے حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٤ (٤٠٥٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩ (٣٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٣) ، مسند احمد (١/١١٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٥١٤٨-٤٨٥٠) (صحیح )
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم لے کر اسے دائیں ہاتھ میں رکھا، سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا پھر فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔
Ali bin Abi Talib said: "The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took hold of some silk in his right hand, and some gold in his left, then he said: These two are forbidden for the males of my Ummah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5145
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا : یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ابن مبارک کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے سوائے ان کے قول افلح کے، اس لیے کہ ابو افلح زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
Ali said: "The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took hold of some silk in his right hand, and some gold in his left, then he said: These two are forbidden for the males of my Ummah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5146
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں لیث بن سعد سے روایت کرنے والے پہلے عبداللہ بن مبارک کا ہونا بمقابلہ دوسروں کے زیادہ صواب ہے۔ (جیسا کہ اس سند میں ہے) مگر ابن مبارک سے ابو افلح کے بارے میں وہم ہوگیا ہے، صحیح ابوافلح ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم، پھر فرمایا : یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Zurair Al-Ghafiqi said: "I heard Ali say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) took some gold in his right hand and some silk in his left hand and said: This is forbidden for the males of my Ummah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5147