It was narrated that Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursing Al-Mutanammisat, women who have their teeth separated, and women who have tattoos done, those who change the creation of Allah, the Mighty and Sublime.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں ۔
It was narrated that Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: May Allah curse Al-Mutanammisat, women who have tattoos done and women who have their teeth separated, those who change the creation of Allah, Mighty and Sublime.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5109
ابوالحصین حمیری کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی ابوریحانہ (رض) کے ساتھ رہتے تھے اور خیر و بھلائی کی باتیں سیکھتے تھے، ایک دن میرے ساتھی میرے یہاں آئے اور مجھے بتایا کہ انہوں نے ابوریحانہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے، گودنے اور بال اکھاڑنے کو حرام قرار دیا ہے۔
It was narrated from Abu Al-Husain Al-Himyari that : He and a companion of his used to stay with Abu Raihanah to learn good things from him. He said: "One day my companion came and told me that he heard Abu Raihanah say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade filing (the teeth), tattoos, and plucking hairs.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5110
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٠٩٤ (ضعیف) (اس کے ایک راوی مبہم ہیں، اور وہ ابوعامر معافری ہیں جن کی صراحت سابقہ حدیث نمبر میں موجود ہے، یہ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت متصل اور صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "One of the best kinds of kohl that you use is Ithmid (antimony); it brightens the vision and makes the hair (eye-lashes) grow.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5113
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن دیگر بہت سے أئمہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز بقول حافظ ابن حجر : ایک روایت کے مطابق خود امام نسائی نے ان کی توثیق کی ہے، (دیکھئیے تہذیب التہذیب )
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ (رض) سے سنا، ان سے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کی سفیدی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : جب آپ اپنے سر میں خوشبو (دہن عود) یا تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی نظر نہ آتی اور جب نہ لگاتے تو نظر آتی۔
It was narrated that Simak said: "I heard Jabir bin Samurah being asked about the gray hairs of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: If he put oil on his head they could not be seen, but if he did not put oil on his head, they could be seen.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5114
زید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) اپنے کپڑوں کو زعفران میں رنگتے تھے۔ ان سے (اس بارے میں) کہا گیا۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ بھی رنگتے تھے ١ ؎۔
Abdullah bin Zaid narrated from his father that: Ibn Umar used to dye his garments with saffron. He was asked about that and he said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to dye his clothes (with it).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5115
محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ خوشبو لگاتے تھے ؟ کہا : ہاں، مردانہ خوشبو : مشک اور عنبر۔
It was narrated that Muhammad bin Ali said: "I asked Aishah (RA): Did the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) wear perfume? She said: Yes, the perfumes used by men: Musk and amber.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5116
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٥٩٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکر اور عبداللہ ہاشمی حافظے کے کمزور ہیں )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5117
Notes · وضاحت
١ ؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر : ٥١٢٣ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٥٠ (٢١٧٤) ، سنن الترمذی/الأدب ٣٦ (الاستئذان ٧٠) (٢٧٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٦) ، مسند احمد (٢/٤٤٧، ٥٤٠) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے )
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مردوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The perfume for men is that whose scent is apparent while its color is hidden, and the perfume for women is that whose color is apparent, while its scent is hidden.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5118
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن لغیرہ) (اس کے راوی ” طفاوی “ مبہم ہیں )
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل کی ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس میں مشک بھر دی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A woman from among the Children of Israel took a ring of gold and filled it with musk. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: That is the best kind of perfume.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5119
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا : جاؤ اور اسے دھو ڈالو ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو، پھر آئندہ نہ لگانا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing a little dab of Khaluq." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Go and scrub it off. Then he came (again) and he said: Go and scrub it off. Then he came to him (again) and he said: Go and scrub it off, and dont put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5120
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٢٧١) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے )
یعلیٰ بن مرہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تمہاری بیوی ہے ؟ کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا ۔
It was narrated from Yala bin Murrah that: He passed by the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing Khaluq. He said to him: "Do you have a wife?" I said: "No." He said: "Wash it off, then wash it off, then do not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5121
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٥١ (الإستئذان ٨٥) (٢٨١٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٤٩) ، مسند احمد (٤/١٧١، ١٧٣) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٥١٢٥-٥١٢٨) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے )
یعلیٰ بن مرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا : جاؤ اسے دھو لو، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا ۔
It was narrated from Yala bin Murrah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a man wearing Khaluq and said: "Go and wash it off, then wash it off, and do not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5122
اس سند سے بھی یعلیٰ (رض) سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چناچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔ )
Narrated from Ibn Amr: A similar report was narrated from Ibn Amr, from a man, from Yala.
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5123
یعلیٰ بن مرہ ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اسے دھو لو، پھر نہ لگانا، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا ، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا۔
It was narrated that Yala bin Murrah Ath-Thaqafi said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) saw me wearing a little dab of Khaluq. He said: O Yala, do you have a wife? I said: No. He said: Wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again, then wash it off and do not put it on again. I said: So I washed it off, and did not put it on again, then I washed it off and did not put it on again, then I washed it off, and did not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5124
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥١٢٤ (ضعیف) (اس کا راوی عبداللہ بن حفص وہی ابو حفص بن عمرو ہے جو مجہول ہے )
یعلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا، میں خلوق لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا : یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : جاؤ، اسے دھوؤ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ، پھر ایسا نہ کرنا ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا۔
It was narrated that Yala said: "I passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I was wearing Khaluq. He said: O Yala, do you have a wife? I said: No. He said: Go and wash it off, then wash it off, then wash it off, and do not put it on again. So I went and washed it off, then washed it off, then washed it off, and I did not put it on again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5125
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔
It was narrated that Al-Ashari said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Any woman who puts on perfume then passes by people so that they can smell her fragrance then she is an adulteress.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب عورت مسجد کے لیے نکلے تو خوشبو مٹانے کے لیے اس طرح غسل کرے جیسے غسل جنابت کرتی ہے ، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If a woman goes out to the Masjid, let her perform Ghusl to remove perfume as she would perform Ghusl to remove Janabah (impurity following sexual activity)." This is an abridged form of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5127
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٥٠٧) ، سنن ابی داود/فی الترجل ٧(٤١٧٤) ، وسنن ابن ماجہ/فی الفتن ١٩ (٤٠٠٢) ، وحم (٢/٢٩٧، ٤٤٤، ٤٦١) بلفظ ” لا تقبل صلاة لامرأة تطیب للمسجد حتی ترجع فتغسل غسلہا من الجنابة “ (صحیح )