عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو دس عادتیں ناپسند تھیں : پیلا رنگ لگانا یعنی خلوق، بڑھاپے کا رنگ بدلنا ١ ؎، تہبند (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، چوسر شطرنج کھیلنا، بےموقع و محل عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے بن ٹھن کر نکلنا، معوذات کے علاوہ دوسرے منتر پڑھنا، تعویذ لٹکانا، ناجائز جگہ میں منی بہانا، بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا، ٢ ؎ البتہ آپ اسے حرام نہیں کہتے تھے۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) disliked ten things: Yellow dye, meaning Khaluq, changing gray hair, dragging ones Izar, wearing gold rings, playing with dice (Kiab), (a woman) showing her adornment to people to whom it is not permissible for her to show it, reciting Ruqyah, unless it is with Al-Muawidhat (Verses seeking refuge with Allah), hanging amulets, removing to ejaculate in other than the right place, and taking away the milk of an infant boy (by having intercourse with his mother)- but he did not say that this is Haram.
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5088
Notes · وضاحت
١ ؎: بڑھاپے کا رنگ بدلنا یعنی انہیں اکھیڑنا یا ان میں کالا خضاب لگانا۔ بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا یعنی ایام رضاعت میں بچے کی ماں سے صحبت کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخاتم ٣ (٤٢٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٥٥) ، مسند احمد (٣/٣٨٠، ٣٩٧، ٤٣٩) (منکر) (اس کے راوی ” قاسم “ اور ” عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، وہ بولی : اللہ کے رسول ! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا ، میں نے عرض کیا : عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ نے فرمایا : اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that: A woman reached out her hand (to give) a letter to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he withdrew his hand. She said: "O Messenger of Allah, I reached out my hand (to give you) a letter and you did not take it." He said: "I did not know whether it was the hand of a woman or a man." She said: "It is the hand of a woman." He said: "If you were a woman, you would change your nails (by dyeing them with Henna).
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5089
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
کریمہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا : ان سے کسی عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں : اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن میں اسے اس لیے ناپسند کرتی ہوں کہ میرے محبوب ﷺ اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔
Karimah said: "I heard a woman asking Aishah (RA) about dyeing the hair with Henna. She said: There is nothing wrong with it, but I do not like to do it because my beloved- meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- disliked its smell.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5090
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٤ (٤١٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٩) ، مسند احمد (٦/١١٧، ٢١٠) (ضعیف) (اس کی راویہ ” کریمہ “ لین الحدیث ہیں )
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر ١ ؎ کا تھا دونوں ایلیاء (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ صحابہ میں سے قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک شخص تھے، میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے، پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا : آپ نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا ؟ میں نے کہا : نہیں، وہ بولے : میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے : دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، (سفید) بال اکھیڑنے سے، دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، دوسروں کے مال لوٹنے سے، درندوں کی کھال پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ (حاکم) کے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Husain Al-Haitham bin Shufayy that he said: "A friend of mine who was called Abu Amir, from Al-Maafir, and I went out to pray in Jerusalem. Their preacher was a man from (the tribe of) Azd who was called Abu Raihanah, one of the Companions." Abu Al-Husain said: "My companion reached the Masjid before I did, then I caught up with him, and sat beside him. He said: Have you heard the preaching of Abu Raihanah? I said: No. He said: I heard him say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade ten things: Filing (the teeth), tattoos, plucking (hair), for two men to lie under one cover with no barrier between them, for two women to lie under one cover with no barrier between them, for a man to add more than four fingers width of silk to the bottom of his garment like the foreigners (Persians), (and he forbade) plundering, riding (while sitting on) leopard skins and wearing rings- except for rulers.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5091
Notes · وضاحت
١ ؎: معافر یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: اکثر سلف نے صرف زیب و زینت کی خاطر انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے، (کچھ علماء اس ممانعت کو مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں) بادشاہ، یا بادشاہ کے نائبین جیسے عامل، گورنر، اسی طرح کسی بھی ادارے یا اس کے سربراہ کے لیے اپنی تحریر پر مہر لگانے کی خاطر انگوٹھی کے جواز کے سب قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١١ (٤٠٤٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٦ (٣٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٩) ، مسند احمد (٤/١٣٤، ١٣٥) ، سنن الدارمی/الإستئذان ٢٠ (٢٦٩٠) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٥١١٣-٥١١٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو عامر معافری لین الحدیث ہیں، لیکن نمبر ٥١١٤ کی سند میں ان کا واسطہ نہیں ہے اس لیے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے )
سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان (رض) کو منبر پر دیکھا ان کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں عورتوں کے بالوں کی ایک چوٹی تھی، انہوں نے کہا : کیا حال ہے مسلمان عورتوں کا جو ایسا کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس عورت نے اپنے سر میں کوئی ایسا بال شامل کیا جو اس میں کا نہیں ہے تو وہ فریب کرتی ہے ۔
It was narrated that Saeed Al-Maqburi said: "I saw Muawiyah bin Abi Sufyan on the Minbar, holding a ball of hair such as women use. He said: "What is wrong with Muslim women who put such things (on their heads)? I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Any woman who adds hair to her head that is not hers, it is something false, that she is adding to her head.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5093
اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور بال جو ڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
It was narrated from Hisham bin Urwah, from his wife Fatimah, from Asma bint Abi Bakr, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5094
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) ولید بن ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, the woman who does tattoos and the woman who has that done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5095
نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
It was narrated from Nafi that he heard that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, the woman who does tattoos and the woman who has that done.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5096
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٧) ، ٨٥ (٥٩٤٠) ، ٨٧ (٥٩٤٧) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٤) ، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٨) ، سنن الترمذی/اللباس ٢٥ (١٧٥٩) ، الأدب ٣٣ (٢٧٨٤) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٧٥٩) ، مسند احمد (٢/٢١) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٥١ و ٥٢٥٣ (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بال جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔
It was narrated from Safiyyah bint Shaibah, that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah curse the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5097
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آ کر کہا : میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہوگا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس نے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے ؟ کہا : نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔
It was narrated from Masruq that: A woman came to Abdullah bin Masud and said: "I am a woman with little hair, is it alright for me to add extensions to my hair?" He said: "No." She said: "Is it something that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) or that you find in the Book of Allah?" He said: "No, rather I heard it from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and I find it in the Book of Allah." And he quoted the Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5098
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے والی، گودوانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the women who do tattoos and the women who have them done, Al-Mutanammisat, and the women who have their teeth separated for the sake of beauty, those who change (the creation of Allah).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5099
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے، گودوانے، بال جوڑنے، جڑوانے اور بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے والی عورتوں کو ایسا کرے کرنے سے منع فرمایا۔
Aban bin Samah narrated that his mother said: "I heard Aishah (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the woman who does tattoos and the woman who has that done, the woman who affixes hair extensions and the woman who has that done, An-Namisah (the one who does the plucking) and Al-Mutanammisah (the one who has it done).
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5101
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٩٧٥) ، مسند احمد (٦/٢٥٧) (صحیح) (اس کی راویہ ” ام ابان “ لین الحدیث ہیں، نیز ” ابان “ آخر میں مختلط ہوگئے تھے، مگر اس حدیث کے تمام مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : سود کھانے والا، کھلانے والا، اور اس کا لکھنے والا ١ ؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو (کہ یہ حرام ہے) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی (دیہاتی) ہوجانے والا ٢ ؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں۔
It was narrated from Abdullah bin Murrah, from Al-Harith, from Abdullah, who said: "The one who consumes Riba, the one who pays it, and the one who writes it down, if they know that it is Riba; the woman who does tattoos and the woman who has that done for the purpose of beautification; the one who withholds Sadaqah (Zakah); and the one who reverts to the life of a Bedouin after having emigrated- they will (all) be cursed upon the tongue of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Resurrection.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5102
Notes · وضاحت
١ ؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ٢ ؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوجانے کا یہی حکم ہوگا، مگر اب ایسا کہاں ؟۔
علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا حساب لکھنے والے اور صدقہ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ نوحہ (مردے پر چیخ چیخ کر رونے) سے منع فرماتے تھے۔ اسے ابن عون و عطا بن سائب نے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated from Husain, Mughirah, and Ibn Awn, from Ash-Shabi, from Al-Harith, from Ali, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down, and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning for the dead).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5103
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٠٣٦، ١٨٤٨٢) ، مسند احمد (١/٨٣، ٨٧، ١٠٧، ١٣٣، ١٥٠، ١٥٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٥١٠٧، ٥١٠٨) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حارث اعور “ ضعیف ہیں ۔ )
حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود پر گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا : ہاں اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر، اور زکاۃ نہ دینے والے پر (لعنت فرمائی) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نوحہ کے بارے میں) لعن کا لفظ نہیں کہا۔
It was narrated from Ibn Awn, from Ash-Shabi, from Al-Harith, who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who writes it down and the one who witnesses it; the woman who does tattoos and the woman who has that done"- he said: "Unless it is done as a remedy;" he said: "Yes"- "the man who married a woman in order to divorce her so that she may go back to her first husband and the man (the first husband) for whom that is done; and the one who withholds Sadaqah (Zakah). And he used to forbid wailing (in mourning), but he did not say cursed
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5104
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے )
شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے اور کھلانے والے، سود کی گواہی دینے والے، سود کا حساب لکھنے والے پر، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے، اور نوحہ سے منع فرمایا، (اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر) لعنت کا ذکر نہیں کیا۔
It was narrated that from Ata bin As-Saib, from Ash-Shabi who said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the one who consumes Riba, the one who pays it, the one who witnesses it and the one who writes it down; the woman who does tattoos and the woman who has that done; and forbade wailing (in mourning), but he did not say that its doer is cursed.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5105
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥١٠٦ (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح لغیرہ ہے )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنا گودتی تھی تو انہوں نے کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اس سلسلے میں تم میں سے کسی نے کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : چناچہ میں نے کھڑے ہو کر کہا : امیر المؤمنین ! میں نے سنا ہے۔ انہوں نے کہا : کیا سنا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : (اے عورتو ! ) نہ گودو اور نہ گودواؤ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A woman who did tattoos was brought to Umar and he said: I adjure you by Allah, did any one among you hear (anything from) the Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم)? Abu Hurairah said: "I stood up and said: O Commander of the Believers! I heard him (say something). He said: What did you hear? I said: I heard him say: Do not do tattoos and do not have tattoos done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5106
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں۔
It was narrated that Ibn Masud said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursing Al-Mutanammisat, women who have their teeth separated, and women who have tattoos done, those who change the creation of Allah, the Mighty and Sublime.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5107