Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 254 of 289

5051Sunan An Nasaiصحیح

سر منڈانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال: احْلِقُوهُ كُلَّهُ، أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا : یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو ۔

It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw a boy, part of whose head had been shaven and part had been left. He forbade that and said: "Shave all of it, or leave all of it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5048
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠) ، سنن ابی داود/الترجل ١٤ (٤١٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٢٥) ، مسند احمد ٢/٨٨) (صحیح )
5052Sunan An Nasaiضعیف

عورت کو سر منڈانے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا.

علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Ali: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade women to shave their heads.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5049
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٧٥ (٩١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٨٥) ، ١٨٦١٧) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے )
5053Sunan An Nasaiضعیف

قزع (سر کے کچھ بال مونڈنا اور کچھ چھوڑنا) کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَهَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اللہ تعالیٰ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع کیا ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, has forbidden me from Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5050
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧٢(٥٩٢١) ، صحیح مسلم/اللباس ٣١(٢١٢٠) ، سنن ابی داود/الترجل ١٤(٤١٩٣) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٨(٣٦٣٧) ، مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام ٥٢٣٠- ٥٢٣٣ (منکر) (اس کے راوی ” عبدالرحمن “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے )
5054Sunan An Nasaiصحیح

قزع (سر کے کچھ بال مونڈنا اور کچھ چھوڑنا) کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع (سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (to shave part of the head and leave part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5051
Notes · وضاحت
١ ؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ کے ضمن میں نمبر ٥٢٣٢ ، ٥٢٣٣ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٩٠١) (صحیح )
5055Sunan An Nasaiصحیح

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا : نحوست ہے ، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چناچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے ۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I had hair. He said: This is bad, and I thought he meant me, so I cut my hair then I came to him. He said to me: I didnt mean you, but this is better.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5052
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں الأخذ من الشعر ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١١ (٤١٩٠) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٧ (٣٦٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٨٢) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٠٦٩) (صحیح الإسناد )
5056Sunan An Nasaiصحیح

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرًا رَجْلًا، لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بال درمیانے قسم کے تھے، نہ بہت گھنگرالے تھے، نہ بہت سیدھے، کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک ہوتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was wavy, neither curly nor straight, and (hung down) between his ears and his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5053
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٥٩٠٥، ٥٩٠٦) ، صحیح مسلم/فضائل ٢٦ (٢٣٣٨) ، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٤) ، مسند احمد (٣/ ١٣٥، ٢٠٣) (صحیح )
5057Sunan An Nasaiصحیح

سر کے بال کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًاصَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ.

حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ابوہریرہ (رض) کی طرح چار سال رہا تھا، اس نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman Al-Himyari said: "I met a man who accompanied the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) as Abu Hurairah accompanied him for four years, who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from combing our hair everyday.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5054
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، ناسخین کتاب کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٣٩ (صحیح )
5058Sunan An Nasaiصحیح

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا.

عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (بالوں میں) کنگھی کرنے سے منع فرمایا، مگر ایک دن چھوڑ کر۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade combing ones hair, except every other day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5055
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١ (٤١٥٩) ، سنن الترمذی/اللباس ٢٢ (١٧٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٠، ١٨٥٦٢، ١٩٣٠٦) مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح )
5059Sunan An Nasaiصحیح

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا.

حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر۔

It was narrated from Al-Hasan that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade coming ones hair except every other day.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5056
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، وہ بھی حسن بصری کی جو مدلس بھی ہیں، لیکن پچھلی روایت متصل مرفوع ہے )
5060Sunan An Nasaiصحیح

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، قَالَا: التَّرَجُّلُ غِبٌّ.

حسن بصری اور محمد بن سیرین کہتے ہیں : (بالوں میں) کنگھی ایک ایک دن چھوڑ کر کرنا چاہیئے۔

It was narrated that Al-Hasan and Muhammad said: "Combing ones hair (should be done) every other day.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5057
Takhrij · تخریج
انظر للمرفوع قبلہ (صحیح )
5061Sunan An Nasaiصحیح

ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌمِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ، قَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ ؟ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ، قُلْنَا: وَمَا الْإِرْفَاهُ، قَالَ: التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا، تو انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں ؟ وہ بولے : نبی اکرم ﷺ ہمیں ارفاہ سے منع فرماتے تھے، ہم نے کہا : ارفاہ کیا ہے ؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا۔

It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "One of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was a governor in Egypt, and one of his companions came to him and found him with unkempt, wild hair. He said: How come I see you with wild hair when you are a governor? He said: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us from Al-Irfah, and we said: What is Al-Irfah? He said: To comb your hair every day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5058
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٧٤٧، ١٥٦١١) ویأتی عندہ برقم : ٥٢٤١ (صحیح )
5062Sunan An Nasaiصحیح

دائیں جانب سے پہلے کنگھی کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ، وَيُعْطِي بِيَمِينِهِ، وَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کاموں کو) دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے (کوئی چیز) لیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، دیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے، نیز آپ ﷺ ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to like to start in the right. He would accept with his right hand and give with his right hand, and he liked to start on the right in all his affairs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5059
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٠٠٦) (صحیح )
5063Sunan An Nasaiصحیح

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُمَّتُهُ تَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ.

براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو لال جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے مونڈھوں تک تھے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Bara said: "I have never seen anyone who looked more handsome in a red Hullah than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), with his long hair that came down to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5060
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے سر کے بال تین طرح تھے : آدھے کانوں تک، پورے کانوں تک، اور کندھے تک، تینوں صورتیں مختلف احوال میں ہوتی تھیں، ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١) ، اللباس ٣٥ (٥٨٤٨) ، ٦٨(٥٩٠١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٢) ، مسند احمد (٤/٢٩٥، ٣٠٣) (صحیح )
5064Sunan An Nasaiصحیح

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال کان کے آدھے حصہ تک ہوتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "The hair of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came halfway down his ears.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5061
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٩) ، مسند احمد (٣/١١٣، ١٦٥) (صحیح )
5065Sunan An Nasaiصحیح

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَرَأَيْتُ لَهُ لِمَّةً تَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ.

براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے لال جوڑے میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی آدمی کو نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بال آپ کے مونڈھوں کے قریب تھے۔

Al-Bara said: "I have never seen any man more handsome in a red Hullah than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." He said: "And I saw his long hair, coming almost to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5062
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٠٣) (صحیح )
5066Sunan An Nasaiصحیح

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ ؟، لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ، يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں، اس وقت زید (زید بن ثابت) کی دو چوٹیاں تھیں، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ١ ؎۔

Abdullah bin Masud said: "According to whose recitation do you want me to recite? Because I recited seventy-odd Surahs to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when Zaid had two braids, and was playing with the other boys.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5063
Notes · وضاحت
١ ؎: لمبے بال کو ذوابہ کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود (رض) کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم ﷺ و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ ﷺ نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ٥٠٦٩ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو : فتح الباری : کتاب اللباس، باب الذوائب) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٥٩٢) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ اور ” اعمش “ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے )
5067Sunan An Nasaiصحیح

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْأَبِي وَائِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ مجھ سے زید بن ثابت کی قرأت کے مطابق پڑھنے کو کہتے ہو ١ ؎، اس کے بعد کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ستر سے زائد کئی سورتیں سن چکا ہوں، اس وقت زید بچوں کے ساتھ تھے، ان کی دو چوٹیاں تھیں ؟۔

It was narrated that Abu Wail said: "Ibn Masud addressed us and said: How do you want me to recite? According to the recitation of Zaid bin Thabit, when I learned seventy-odd Surahs from the mouth of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) while Zaid was with the other boys with two braids?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5064
Notes · وضاحت
١ ؎: جب ابن مسعود (رض) سے کہا گیا ہے کہ آپ عثمان (رض) عنہ کے مصحف کے مطابق قرآن پڑھا کریں کیونکہ آپ کے مصحف اور اس میں فرق ہے، تب انہوں نے مصحف عثمانی کے جمع کرنے والے زید بن ثابت (رض) کے بارے میں یہ بات کہی، آپ کی نظر اس بات پر نہیں گئی کہ عام صحابہ نے مصحف عثمانی ہی پر اجماع کیا، بہرحال بتصریح رسول اللہ ﷺ قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا، ابن مسعود صحابی رسول تھے، اور ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا، لیکن مصحف عثمانی پر اجماع کے بعد اس کے مطابق پڑھنے پر اجماع امت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٢٥٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل القرآن ٨ (٥٠٠٠) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٢ (٢٤٦٢) ، مسند احمد (١/٣٨٩، ٤٠٥، ٤١١، ٤٤٢) (صحیح )
5068Sunan An Nasaiصحیح

چوٹی رکھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ.

حصین (رض) کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا : میرے قریب آؤ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔

Ziyad bin Al-Husain narrated that his father said: "When he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Al-Madinah, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Come closer to me. So he came closer to him, and he put his hand on his braid and wiped his head and prayed for him.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5065
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٤١٥) (صحیح الإسناد )
5069Sunan An Nasaiصحیح

بالوں کو لمبا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ: ذُبَابٌ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ.

وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا : نحوست ہے ، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے ۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I had long hair. He said: It is not good, and I thought he meant me, so I went and cut my hair. He said: I did not mean you, but this is better.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5066
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٠٥٥ (صحیح )
5070Sunan An Nasaiصحیح

داڑھی کو موڑ کر چھوٹا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ: مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ، أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ.

رویفع بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے رویفع ! شاید میرے بعد تمہاری عمر لمبی ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتادینا کہ جس نے کر اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالی (کہ نظر نہ لگے) یا کسی چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد اس سے بری ہیں ۔

Ruwaifi bin Thabit said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: O Ruwaifi, you may live for a long time after me, so tell the people that whoever ties up his beard, or twists it, or hangs an amulet, or cleans himself (after relieving himself) with animal dung or bones, Muhammad has nothing to do with him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5067
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٠ (٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٦) ، مسند احمد (٤/١٠٨، ١٠٩) (صحیح )