Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 253 of 289

5031Sunan An Nasaiصحیح

زکوة بھی ایمان میں داخل ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ، وَلَا يُفْهَمُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ، يَقُولُ: لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.

طلحہ بن عبیداللہ (رض) سے روایت ہے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی گنگناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : دن رات میں پانچ وقت کی نماز ، اس نے کہا : اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں میرے اوپر ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل (سنت) پڑھنا چاہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رمضان کے مہینے کے روزے ، اس نے کہا : میرے اوپر اس کے علاوہ کچھ اور بھی روزے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے اس کے کہ تم نفل ادا کرو ، اور پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا : میرے اوپر اس کے علاوہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل دینا چاہو ، پھر وہ منہ موڑ کر چلا اور کہہ رہا تھا : نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہوا ۔

Abu Suhail narrated from his father,: That he heard Talhah bin Ubaidullah say: "A man from Najd with unkempt hair came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم); he was speaking loudly but his speech could not be understood until he came close. He was asking about Islam. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Five prayers every day and night. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Fasting the month of Ramadan. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) told him about Zakah. He said: Do I have to do any more than that? He said: No, not unless you do it voluntarily. The man left saying, I will not do any more than that or any less. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He will succeed, if he is telling the truth.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5028
Notes · وضاحت
١ ؎: زکاۃ بھی ایمان کے ارکان اور پہچان میں سے ہے اس لیے مؤلف نے یہ عنوان قائم کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٥٩ (صحیح )
5032Sunan An Nasaiصحیح

جہاد کا بیان

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، وَإِمَّا وَفَاةٍ أَوْ أَنْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ يَنَالُ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کی راہ میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا صرف اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے اور اس کی راہ میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ نے ایسے شخص کی) ضمانت اپنے ذمہ لے لی ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی طبعی موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا ۔

Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Allah has promised the one who goes out in His cause and does not go out except with faith in Me and for Jihad in My cause, that he is guaranteed to enter Paradise no matter how, either he is killed, or he dies, or he will be brought back to his home from which he departed having acquired whatever he acquired of reward or spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5029
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٣١٢٥ (صحیح )
5033Sunan An Nasaiصحیح

جہاد کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَضَمَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي فَهُوَ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اس شخص کی جو اس کے راستے میں نکلا ہو اور اس کا یہ نکلنا جہاد کے مقصد سے، اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے ہو تو وہ ضامن ہے اس کا کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے وطن لوٹا دے جہاں سے وہ نکلا تھا اس اجر یا مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو جو بھی ملا ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah, the Mighty and Sublime, has guaranteed to the one who goes out in His cause, and he does not go out for any other purpose except Jihad in My cause and faith in Me, believing in My Messengers, but he is guaranteed that I will admit him to Paradise or I will send him back to his dwelling from which he set out, having acquired whatever he acquired of reward or spoils of war.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5030
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٦) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١ (٢٧٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٠١) ، مسند احمد (٢/٢٣١، ٣٨٤) (صحیح )
5034Sunan An Nasaiصحیح

مال غنیمت میں سے اللہ کے راستہ میں پانچواں حصہ نکالنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، فَقَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَيَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْمُزَفَّتِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بنی عبدقیس کا وفد آیا، تو ان لوگوں بت کہا : ہم لوگ قبیلہ ربیعہ سے ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں کے علاوہ کبھی نہیں آسکتے تو آپ ہمیں کچھ باتوں کا حکم دیجئیے جو ہم آپ سے سیکھیں اور جو ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اسے ان تک پہنچا سکیں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں : اللہ پر ایمان ۔ پھر آپ نے اس کی تشریح کی کہ ایک تو گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں - دوسرے نماز قائم کرنا، تیسرے زکاۃ کی ادائیگی، چوتھے یہ کہ مال غنیمت کا پانچواں (خمس) مجھے لا کردینا، اور میں تمہیں روکتا ہوں : (تمبی) کدو کے بنے پیالے، لاکھی (سبز رنگ) کے برتنوں، لکڑی کے برتنوں اور تار کول ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: We are a group of people from (the tribe of) Rabiah, and we can only reach you during the sacred month. Tell us something that we can take from you and to which we may call those who are behind us. He said: I command you to do four things and I forbid you from four: Faith in Allah- and he explained that to them- bearing witness that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah, and giving me one-fifth (the Khumus) of the spoils of war you acquire. And I forbid you from Ad-Dubba, Al-Hantam, Al-Muqayyir, and Al-Muzaffat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5031
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں وارد الفاظ میں دباء، حنتم، مزفت، نقیر، مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا تاکہ لوگ شراب سے بالکل دور ہوجائیں اور اس حرام چیز کو اپنی زندگی سے مکمل طور پر خارج کردیں، یہ حکم سد باب کے طور پر تھا، جب مسلمان اس وبا سے دور ہوگئے تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت ہوگئی، بریدہ اسلمی (رض) کی روایت میں ہے كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء اس حدیث کی رو سے اب سابقہ نہی کا حکم منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٠ (٥٣) ، العلم ٢٥ (١٨٧) ، المواقیت ٢ (٥٢٣) ، الزکاة ١(١٣٩٨) ، الخمس ٢ (٣٠٩٥) ، المناقب ٥ (٣٥١٠) ، المغازي ٦٩ (٤٣٦٩) ، الأدب ٩٨ (٦١٧٦) ، خبرالواحد ٥ (٧٢٦٦) ، التوحید ٥٦ (٧٥٥٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦ (١٧) ، الأشربة ٦ (١٧) ، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٦٩٢) ، سنن الترمذی/السیر ٣٩ (١٥٩٩) (مایتعلق بالخمس فحسب) الإیمان ٥ (٢٦١١) (مختصرا) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٢٤) ، مسند احمد (١/١٢٨، ٢٩١، ٣٠٤، ٣٣٤، ٣٤٠، ٣٥٢، ٣٦١ ویأتی عند المؤلف فی الأشربة بأرقام ٥٦٩٥) (صحیح )
5035Sunan An Nasaiصحیح

جنازہ میں شرکت بھی ایمان میں داخل ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ الْأَزْرَقِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کسی مسلمان کے جنازے کے پیچھے جائے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے، اس کی نماز جنازہ ادا کرے پھر قبر میں رکھے جانے تک انتظار کرے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ایک قیراط جبل احد کی طرح ہوگا، اور جس نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور لوٹ آیا تو اسے صرف ایک قیراط ثواب ملے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever follows the funeral procession of a Muslim out of faith and in the hope of reward, then offers the funeral prayer for him and waits until he is placed in his grave, then he will have two Qirats, each of which is like Mount Uhud. Whoever offers the funeral prayer for him then returns, he will have one Qirat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5032
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٩٩٦ (صحیح )
5036Sunan An Nasaiصحیح

شرم و حیاء

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا، جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، (یعنی اس کو یہ نصیحت کرنی چھوڑ دو ) شرم و حیاء تو ایمان میں داخل ہے ۔

It was narrated from Salim, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a man who was censuring his brother about modesty. He said: "Let him be, for modesty is part of faith.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5033
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٦ (٢٤) ، الأدب ٧٧(٦١١٨) ، سنن ابی داود/الأدب ٧ (٤٧٩٥) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٦) ، سنن الترمذی/الإیمان ٧ (٢٦١٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٩١٣) ، موطا امام مالک/حسن الخلق ٢ (١٠) ، مسند احمد (٢/٥٦، ١٤٧) (صحیح )
5037Sunan An Nasaiصحیح

دین آسان ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَيَسِّرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدَّلْجَةِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ دین آسان ہے اور جو دین میں (عملی طور پر) سختی برتے گا تو دین اس پر غالب آجائے گا (اور اسے تھکا دے گا) لہٰذا صحیح راستے پر چلو (اگر مکمل طور سے عمل نہ کرسکو تو کم از کم) دین سے قریب رہو، لوگوں کو دین کے معاملے میں خوش رکھو (نفرت نہ پیدا کرو) انہیں آسانی دو اور صبح و شام اور کچھ رات گئے کی مدد سے اللہ کی عبادت کرو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Indeed, this religion is easy, and no one will ever overburden himself in religion, except that it will overcome him. So seek what is appropriate, and come as close as you can, and receive the glad tidings (that you will be rewarded), and take it easy; and gain strength by worshipping in the mornings, afternoons, and during the last hours of the nights.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5034
Notes · وضاحت
١ ؎: ان اوقات سے مدد طلب کرنے کا مطلب ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٢٩ (٣٩) ، الرقاق ١٨ (٦٤٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٦٩) ، مسند احمد (٢/٥١٤) (صحیح )
5038Sunan An Nasaiصحیح

اللہ کے نزدیک پسندیدہ عبادت

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟، قَالَتْ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ: مَهْ، عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ کہا : فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا : ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم ! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and there was a woman with her. He said: "Who is this?" She said: "So-and-so; she does not sleep"- she mentioned her excessive praying. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Keep quiet. You should do what you are able to, for by Allah, Allah, the Mighty and Sublime, does not get tired. The most beloved religion to Him is that in which a person persists.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5035
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٦٤٣ (صحیح )
5039Sunan An Nasaiصحیح

دین کی حفاظت کی خاطر فتنوں سے فرار اختیار کرنا

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ مُسْلِمٍ غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش ہونے کی جگہوں میں چلا جائے گا، وہ اس طرح فتنوں سے اپنے دین کو بچائے گا ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah(صلی اللہ علیہ وسلم) said: Soon the best wealth of a Muslim will be the sheep which follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing with his religion from the tribulations.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5036
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١٢ (١٩) ، بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٠) ، المناقب ٢٥ (٣٦٠٠) ، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٥) ، سنن ابی داود/الفتن ١٤(٤٢٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٠٣) ، موطا امام مالک/الاستئذان ٦ (١٦) ، مسند احمد (٣/٦، ٣٠، ٤٣، ٥٣) (صحیح )
5040Sunan An Nasaiصحیح

منافق کی مثال سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے ۔

It was narrated from Ibn Umar that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The parable of the hypocrite is that of a sheep that hesitates between two flocks, sometimes following one, and sometimes following another, not knowing which to follow.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5037
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ١٧ (٢٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٤٧٢) ، مسند احمد (٢/٣٢، ٤٧، ٦٨، ٨٢، ٨٨، ١٠٢) (صحیح )
5041Sunan An Nasaiصحیح

مومن اور منافق کی مثال جو کہ قرآن کریم پڑھتے ہوں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلَا رِيحَ لَهَا.

ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کے مانند ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ۔

Abu Musa Al-Ashari said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The parable of the believer who recites the Quran is that of a citron, the taste and smell of which are good. The parable of a believer who does not read the Quran is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The parable of a hypocrite who reads the Quran is that of basil, the smell of which is good but its taste is bitter. And the parable of a hypocrite who does not read the Quran is that of a colocynth (bitter-apple), the taste of which is bitter and it has no smell.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5038
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٧ (٥٠٢٠) ، ٣٦ (٥٠٥٩) ، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٧) ، التوحید ٥٧ (٧٥٦٠) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٧ (٧٩٧) ، سنن ابی داود/الأدب ١٩ (٤٨٢٩) ، سنن الترمذی/الأمثال ٤ (٢٨٦٥) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٤) ، (تحفة الأشراف : مسند احمد (٤/٣٩٧، ٤٠٣، ٤٠٤، ٤٠٨) سنن الدارمی/فضائل القرآن ٨ (٣٤٠٦) (صحیح )
5042Sunan An Nasaiصحیح

مومن کی نشانی سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، قَالَ الْقَاضِي يَعْنِي ابْنَ الْكَسَّارِ: سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ الْبُخَارِيَّ، يَقُولُ: حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَا أَعْرِفُهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَقَطَ الْوَاوُ مِنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ الْمَشْهُورُ بِالرِّوَايَةِ، عَنْ الْبَصْرِيِّينَ وَهُوَ ثِقَةٌ، ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي حَدِيثِ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ فِي بَابِ صِفَةِ الْمُسْلِمِ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ رَوَى حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَرْفُوعَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَبِزِيَادَةِ قَوْلِهِ: وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ الْبَصْرِيَّ، وَهُوَ فِي هَذَا الْجُزْءِ فِي بَابِ مَا يُقَاتِلُ النَّاسَ.

انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)(صلی اللہ علیہ وسلم) said: "None of you has believed until he loves for his brother what he loves for himself.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5039
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٥٠١٩ (صحیح )
5043Sunan An Nasaiصحیح

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دس چیزیں فطرت ٢ ؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں) : مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا ۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں : دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ten things are part of the Fitrah: Trimming the mustache, trimming the nails, washing the joints, letting the beard grow, using the Siwak, rinsing the nose, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and washing with water (after relieving oneself)." Musab bin Shaibah said: "I have forgotten the tenth, unless it was rinsing the mouth.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5040
Notes · وضاحت
١ ؎: عنوان کتاب : کتاب الزین ۃ من السنن ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان : کتاب الزین ۃ من المجتبیٰ ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کردیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں کتاب الزین ۃ : باب من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے : دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) ( ٣ /٤٥٥) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں ، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں کتاب الزین ۃ من السنن الفطر ۃ مطبوع ہے، جب کہ من السنن کا تعلق کتاب الزین ۃ سے ہے۔ ٢ ؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول : فبهداهم اقتده (سورة الأنعام : 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء (علیہم السلام) نے اپنایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٦١) ، سنن ابی داود/الطھارة ٢٩ (٥٣) ، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٨٨، ١٨٨٥٠) ، مسند احمد (١٣٧٦) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے )
5044Sunan An Nasaiصحیح

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ: عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ: السِّوَاكَ، وَقَصَّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ، وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ.

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں فطرت (انبیاء کی سنتیں) ہیں : مسواک کرنا، مونچھ کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا۔

Al-Mutamir narrated that his father said: "I heard Talq mentioning ten things that have to do with the Fitrah: Using the Siwak, trimming the mustache, clipping the nails, washing the joints, shaving the pubes, rinsing the nose, and I am not sure about rinsing the mouth.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5041
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5045Sunan An Nasaiصحیح

پیدائشی سنتوں سے متعلق

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں : مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Talq bin Habib said: "Ten things are from the Sunnah: Using the Siwak, trimming the mustache, rinsing the mouth, rinsing the nose, letting the beard grow, trimming the nails, plucking the armpit hairs, circumcision, shaving the pubes and washing ones backside.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5042
Notes · وضاحت
١ ؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5046Sunan An Nasaiصحیح

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلمخمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب. وقفه مالك .

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں : ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن اور مونچھیں کاٹنا ۔ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Five things are of the Fitrah: Circumcision, shaving the pubes, plucking the armpit hair, clipping the nails and trimming the mustache.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5043
Notes · وضاحت
١ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے یہاں حصر مراد نہیں ہے، خود پچھلی حدیث میں دس کا تذکرہ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ، یا دس چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں جن کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے (نیز دیکھئیے فتح الباری کتاب اللباس باب ٦٣ ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٩٧٨) (صحیح )
5047Sunan An Nasaiصحیح

پیدائشی سنتوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں : ناخن کترنا، مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "Five things are of the Fitrah: Clipping the nails, trimming the mustache, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and circumcision." (Sahih Mawquf)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5044
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٠١٣) (صحیح )
5048Sunan An Nasaiصحیح

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى.

عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔

It was narrated from Ibn Umar: That the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Trim the mustache and let the beard grow.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5045
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٢٩٧) ، مسند احمد (٢/٥٢) (صحیح )
5049Sunan An Nasaiصحیح

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو ۔

Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Let the beard grow and trim the mustache.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5046
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5050Sunan An Nasaiصحیح

مونچھیں کترنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا.

زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

It was narrated that Zaid bin Al-Arqam said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever does not take from his mustache, he is not one of us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5047
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٣ (صحیح )