Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 223 of 289

4432Sunan An Nasaiصحیح

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.

عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری (رض) ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا، انہوں نے کہا : میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کرلوں، چناچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے (وہ بدری صحابی تھے) اور ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی۔

It was narrated from Ibn Khabbab - who is Abdullah bin Khabbab - that: Abu Sa eed Al- Kahudri arrived from a jouney and his family offered him some meat from the sacrificial animal. He said: "I am not going to eat it until I ask about it," So he went to his half-brother through his mother, Qatadah bin An- Nu man who had been presently at Badr, and asked him about that. He said: "The opposite of what you were forbidden occurred after that, and (Permission was granted) to eat the sacrificial meat after three days" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4427
Notes · وضاحت
١ ؎: اخیافی بھائی وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازی ١٢ (٣٩٩٧) ، الأضاحی ١٦(٥٥٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٧٢) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٨) (صحیح )
4433Sunan An Nasaiضعیف

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ.

ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر قتادہ (رض) ابو سعید خدری (رض) کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری (رض) کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، ابوسعید نے قتادہ کو (گوشت) پیش کیا، تو وہ بولے : کیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے روکا نہیں ہے ؟ ابوسعید (رض) نے کہا : اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: the Messenger of Alllah forbade (Eating) the meat of sacrificial animals after three days. Then Qatadh bin An-Nu man, who was brother of Abu Saeed through his mo0ther, and had been present at Badr, came and they offered him (some of the meat) .He said: "Didnt the Messenger of Allah ﷺ forbid it?" Abu Sa eed said: "Something happened later. The Messenger of Allah ﷺ forbade us to eat it for more than three days, then he allowed us to eat it and store it." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4428
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے )
4434Sunan An Nasaiصحیح

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا. وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں امسکوا روک کر رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: " The Messenger of Allah ﷺ said: I used to forbid you from doing three things: to visit graves, but now visit three, for you may benefit from that. And I used to forbid you (from eating) the meat of sacrificial animals after three days but now eat it, and keep whatever you want. A and I forbade you to drink form (certain kinds of) vessels, but now drink form whatever kind of vessel you want but do not drink any kind of intoxicant." (Sahih ) Muhammad (one of the narrators) did not mention: "kept (whatever you want).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4429
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٠٣٤ (صحیح )
4435Sunan An Nasaiصحیح

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِالزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his fhater said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "I used to forbid you (from eating) the meat of sacrificial animals after three days, and to (make) Nadidh except in a water skin, and to visit graves. But now eat whatever you want of the meat, or take some with you (when traveling) or store it: and whoever wants to visit graves, it will remind him of the Hereafter; and drink, but beware of any kind of intoxicant." (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4430
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٧٦) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٦٥٤) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے )
4436Sunan An Nasaiصحیح

قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو ، اس کے بعد لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا : تو اب کیا ہوا ؟ وہ بولا : جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا : میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: " "Some Bedouins came to Al-Madinah at the time of (Eid) Al-Adha and the Messenger of Allah ﷺ said: Eat, and store (the meat) for three days. After that they said: O Messenger of Allah, the people used to benefit form their sacrifices by melting down the fat, and (also) making water skins from them. He said: Why are you asking? He said: Because you forbade us form keeping the meat of the sacrificial animals. He said: I only forbade that because of the Bedouins who came. (Now) eat it, store it and give it in charity," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4431
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧١) ، سنن ابی داود/الضحایا ١٠ (٢٨١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٠١) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) ، مسند احمد (٦/٥١) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٦ (٢٠٠٢) (صحیح )
4437Sunan An Nasaiصحیح

قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَىعَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، ثُمَّ قَالَت: لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مِمَّ ذَاكَ ؟ فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر عرض کیا : کیا رسول اللہ ﷺ تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے ؟ بولیں : ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں : میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا : یہ کس وجہ سے ؟ وہ ہنسیں اور بولیں : محمد ﷺ کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abis that his father said: "I came in to Aishah (RA) and said: Did the Messenger of Allah ﷺ forbid (eating) the meat of sacrificial animals after three day? She said: Yes Hardship had befallen the people, and the Messenger of Allah ﷺ wanted the rich to feed the poor. Then she said: I remember the family of Muhammad eating the trotters after fifteen days. I said: Why is that" She laughed and said: The family of Muhammad never ate their fill of bread and something to go with it, for three days in row, until he met Allah, the Mighty and Sublime," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4432
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٧ (٥٤٢٣) ، ٣٧ (٥٤٣٨) ، الأضاحی ١٦ (٥٥٧٠) ، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٧٠) ، سنن الترمذی/الأضاحی ١٤ (١٥١١) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١٦ (١٥١١) ، الأطعمة ٣٠ (٣١٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٦٥) ، مسند احمد (٦/١٠٢، ١٢٧، ١٣٦، ١٨٧، ٢٠٩) (صحیح )
4438Sunan An Nasaiصحیح

قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ؟، قَالَتْ: كُنَّا نَخْبَأُ الْكُرَاعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، ثُمَّ يَأْكُلُهُ.

عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔

It was narrated from AbdurRahman bin Abis that his father said: "I asked Aishah (RA) about the meat of the sacrificial animals and she said: We used to keep the trotters for the Messenger of Allah ﷺ for a month, then he would eat them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4433
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4439Sunan An Nasaiصحیح

قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا : کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ۔

It was narrated that AbuSaeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade keeping the meat of the sacrificial animals for more than three days, then he said: Eat and feed other," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4434
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٢٩٥) ، مسند احمد (٣/٥٧) (صحیح )
4440Sunan An Nasaiصحیح

یہود کے ذبح کئے ہوئے جانور

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ.

عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا : اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے ہیں ١ ؎۔

Abdullah bin Mughaffal said: "A bag of fat was thrown on the day of Khaibar, and I caught it and said: "I will not give anything of this to anyone. I turned around and saw the Messenger of Allah ﷺ there, smiling." (Sahih

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4435
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت : ٥ ، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ٢٠ (٣١٥٣) ، المغازي ٣٨ (٤٢١٤) ، الصید ٢٢ (٥٥٠٨) ، صحیح مسلم/الجہاد ٢٥ (١٧٧٢) ، سنن ابی داود/الجھاد ١٣٧ (٢٧٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٥٦) ، مسند احمد (٤/٨٦ و ٥/٥٥، ٥٦) ، سنن الدارمی/السیر ٥٧(٢٥٤٢) (صحیح )
4441Sunan An Nasaiصحیح

وہ جانور جس کا علم نہ ہو کہ بوقت ذبح اللہ کا نام لیا گیا یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ كَانُوا يَأْتُونَا بِلَحْمٍ، وَلَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَمْ لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكُلُوا.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Aishah (RA) that: some Bedouin people used to bring us meat, and we did not know whether they had mentioned the Name of Allah (when slaughtering it) or not. The Messenger of Allah ﷺ said: "Messenger of Allah said: "Mention the Name of Allah and eat." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4436
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہوجائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٥٦) (صحیح )
4442Sunan An Nasaiصحیح

آیت|"ولا تاکلوا مما لم یذکراسم اللہ|" کی تفسیر و تشریح

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121، قَالَ: خَاصَمَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ، وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت کریمہ : ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ (الأنعام : ١٢١) کے بارے میں کہتے ہیں : (یہ اس وقت اتری جب) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا : جسے اللہ ذبح کرتا ہے (یعنی مرجائے) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو ؟۔

Harun bin Abi Walki-who is Harun bin Antarah -narrated from his father, form Ibn Abbas, concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "Eat not of that on which Allahs name has not been pronounced" - that he said: "The idolaters argued with them and said: Whatever Allah kills you do not eat, and whatever you kill you eat!

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4437
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٣٢٥) (صحیح الإسناد )
4443Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ.

ابوثعلبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجثمة حلال نہیں ہے ۔

It was narrated that Abu Thalabah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: An animal that has been taken as a target is not lawful.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4438
Notes · وضاحت
١ ؎: مجثمة یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٣١ (صحیح )
4444Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.

ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس (رض) کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔

It was narrated that Hisham bin Zaid said; "Ans and I entered upon Al-Hakam - that it, Ibn Ayyb - and there were some people shooting at a chicken in the house of the governor. He said: The Messenger of Allah ﷺ forbade using animals as targets;

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4439
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٣) ، صحیح مسلم/الصید ١٢ (١٩٥٦) ، سنن ابی داود/الأضاحی ١٢ (٢٨١٦) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٠) ، مسند احمد (٣/١١٧، ١٧١، ١٨٠، ١٩١) (صحیح )
4445Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ: لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ.

عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا : جانوروں کا مثلہ نہ کرو ۔

It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by some people who were shooting arrows at a ram. He denounced that and said: Do not disfigure animals (by using them as targets)." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4440
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٩) (صحیح )
4446Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت بھیجی جس نے ایسی چیز کو نشانہ بنایا جو جاندار ہو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed those who take anything that has a soul as a target." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4441
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نشانہ بازی کے مقصد سے نشانہ بنایا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٥) ، صحیح مسلم/الصید ١١(١٩٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٥٤) ، مسند احمد ١/٣٣٨ و ٢/١٣، ٤٣، ٦٠، ٨٦، ١٠٣، ١٤١) ، سنن الدارمی/الأضاحی ١٣ (٢٠١٦) (صحیح )
4447Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said; "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: May Allah curse the one who disfigures and animal. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4442
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4448Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not take anything that has a soul as a target.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4443
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٥ م تعلیقًا) ، صحیح مسلم/الصید ١٢ (١٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٥٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأطعمة ١ (١٤٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٧) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٧٤، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٩١، ٣٤٠، ٣٤٥) (صحیح )
4449Sunan An Nasaiصحیح

مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas Said: "The Messenger of Allah forbade us from using anything with a soul as a target." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4444
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4450Sunan An Nasaiصحیح

جو کوئی بلاوجہ کسی چڑیا کو ہلاک کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا حَقُّهَا ؟، قَالَ: حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا، وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا، فَيُرْمَى بِهَا.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr, who attributed it to the Messenger of Allah ﷺ: "There is no person who kills a small bird or anything larger, for no just reason, but Allah will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah, what does just reason mean?" He said: "That you slaughters it and eat it, and o not cut off its head and throw it aside.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4445
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٥٤ (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٩٩٩، تراجع الالبانی ٤٥٨ )
4451Sunan An Nasaiضعیف

جو کوئی بلاوجہ کسی چڑیا کو ہلاک کرے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْخَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُالشَّرِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ.

شرید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی : اے میرے رب ! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا ۔

It was narrated that Amr bin Sharid said: "I heard Sharid say: I herd the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever kills a small bird for no reason, it will beseech Allah on the Day of Resurrection saying: O Lord, so and so killed me for no reason. And he did not kill me for any beneficial purpose.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4446
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٨٤٣) ، مسند احمد (٤/٣٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی صالح بن دینار لین الحدیث ہیں )