Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 222 of 289

4412Sunan An Nasaiصحیح

جس جانور میں درندہ دانت مارے اس کا ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا.

زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دئیے، لوگوں نے اسے دھاردار پتھر سے ذبح کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دی۔

It was narrated from Zaid bin Thabit that: a wolf attacked a sheep so they slaughtered it with a Marwah, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed it to be eaten.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4407
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤٠٥ (صحیح) (اس کے راوی ” حاضر بن مہاجر “ لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
4413Sunan An Nasaiضعیف

اگر جانور کنوئیں میں گر جائے اور وہ مر نے کے قریب ہوجائے تو اس کو کس طرح حلال کریں؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ، وَاللَّبَّةِ ؟، قَالَ: لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ.

ابو العشراء کے والد (مالک دارمی رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح ذکا ۃ صرف حلق اور سینے میں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے ۔

It was narrated from Abu Ushara that his father said: "I said: "O Messenger of Allah, is slaughtering only in the throat or upper chest?" He said: If you stab it in the thigh, that will suffice,"(Daif)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4408
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ١٦(٢٨٢٥) ، سنن الترمذی/الصید ١٣(١٤٨١) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩(٣٨١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٩٤) ، مسند احمد (٤/٣٣٤) ، سنن الدارمی/الأضاحی ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوالعشراء “ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر ٤٣٠٢ سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے )
4414Sunan An Nasaiصحیح

بے قابو ہوجانے والے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ؟، قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا، فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا : دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، پھر رسول اللہ ﷺ کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا : ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا : ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو ۔

It was narrated that Rafi said: "I said: O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives. He said: If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails." Then the Messenger of Allah ﷺ got some spoils of war and a camel ran away. A man shot and arrow at it and stopped it. He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said; Some of these animals - or these camels- are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4409
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٠٢ (صحیح )
4415Sunan An Nasaiصحیح

بے قابو ہوجانے والے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى ؟، قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَأَصَبْنَا نَهْبَةَ إِبِلٍ، أَوْ غَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا : جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے ، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I said: O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives. He said: If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians,; We acquired some spoils of war including sheep or camels, and a camel ran away, so a man shot an arrow at it an stopped it. The Messenger of Allah ﷺ said: some of these animals or these camels- are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4410
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٠٢ (صحیح )
4416Sunan An Nasaiصحیح

بے قابو ہوجانے والے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ إِذَا ذَبَحَ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کرلیا کرو اور ذبیحہ کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ۔

It was narrated that Shaddad bin Aws said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4411
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١٠ (صحیح )
4417Sunan An Nasaiصحیح

عمدہ طریقہ سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو، اور تم اپنی چھریاں تیز کرلیا کرو اور جانور کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ۔

It was narrated that Shaddad bin Aws said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4412
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١٠ (صحیح )
4418Sunan An Nasaiصحیح

عمدہ طریقہ سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کرلو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو ۔

It was narrated that Shadad bin Aws said: "I heard two things from the Messenger of Allah ﷺ He said Allah, the Mighty and Sublime, ahs decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spear suffering to the animal he slaughter."" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4413
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١٠ (صحیح )
4419Sunan An Nasaiصحیح

عمدہ طریقہ سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ. ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کی ہیں : اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو۔ تم اپنی چھریاں تیز کرلو اور جانور کو آرام دو ۔

It was narrated that Shaddad bin Aws said: "Two things that I memorized form the Messenger of Allah ﷺ; Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughter,"" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4414
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١٠ (صحیح )
4420Sunan An Nasaiصحیح

قربانی کا جانور ذبح کرنے کے وقت اس کے پہلو پر پاؤں رکھنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، يُكَبِّرُ، وَيُسَمِّي، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ. قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ؟، قَالَ: نَعَمْ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ اللہ اکبر اور بسم اللہ پڑھ رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان (کی گردن) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں۔ (شعبہ کہتے ہیں) میں قتادہ نے عرض کیا : کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔

Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed two horned, Amlah rams, saying: Allah Akbar and pronouncing the Name of Allah. I saw him slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides." I said: You heard it from Him? He said: Yes. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4415
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأضاحي ٩ (٥٥٥٨) ، صحیح مسلم/الأضاحي ٣ (١٩٦٦) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٠) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١١٥، ١١٨، ١٨٣، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٢، ٢٧٨، سنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٨) ، ویأتي عند المؤلف ٤٤٢١، ٤٤٢٢) (صحیح )
4421Sunan An Nasaiصحیح

قربانی ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَكَانَ يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ بسم اللہ پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ١ ؎، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔

Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice two pronounce the name of Allah and say: Allah Akabar, and I saw him slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides "(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4416
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بسم اللہ، اللہ اکبر کہتے تھے، بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں کہتے تھے ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤٢٠ (صحیح )
4422Sunan An Nasaiصحیح

قربانی ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر کہنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْرَأَيْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ، يُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ، كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یعنی نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے دو سینگ دار اور چتکبرے مینڈھے ذبح کر رہے ہیں، اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ آپ (ذبح کرتے ہوئے) بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ رہے ہیں۔

It was narrated that Anas said: "I saw him: - meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - "slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides, pronouncing the name of Allah and saying: Allah Akbar, (sacrificing) two horned, Amlah rams." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4417
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤٢٠ (صحیح )
4423Sunan An Nasaiصحیح

اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، يَطَؤُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے۔ آپ ان (کی گردن) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) told them that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sacrificed two Amlah horned rams, putting his foot on their sides and slaughtering them pronouncing the name of Allah, and saying: Allahu Akbar."" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4418
Notes · وضاحت
١ ؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٣ (١٩٦٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٩١) (صحیح )
4424Sunan An Nasaiصحیح

ایک شخص دوسرے کی قربانی ذبح کرسکتا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ بُدْنِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهَا غَيْرُهُ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ slaughtered some of his sacrificial animals with his won hand, and someone else slaughtered some of them. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4419
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٦٢٦) (صحیح )
4425Sunan An Nasaiصحیح

جس جانور کو ذبح کرنا چاہے تو اس کو نحر کرے تو درست ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ. خَالَفَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ.

اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ قتیبہ نے (فاکلناہ کے بجائے) فاکلنا لحمہ پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا کہا۔ عبدہ بن سلیمان نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے۔

It was narrated that Asma said: "We slaughtered (Naharna) a horse during the time of Messenger of Allah ﷺ and ate it." In his Hadith Qutaibah (one of the narrators) said: "And we ate its meat." (Sahih ) Abdah bin sulaiman contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4420
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١١ (صحیح )
4426Sunan An Nasaiصحیح

جس جانور کو ذبح کرنا چاہے تو اس کو نحر کرے تو درست ہے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ.

اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔

It was narrated that Asma said: "We slaughtered (naharna) a horse during the time of the Messenger of Allah ﷺ while we were in Al-Madinah, and we ate it." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4421
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نحرنا کی جگہ ذبحنا ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت نحرنا ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں ذبحنا ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٤١١ (صحیح )
4427Sunan An Nasaiصحیح

جو شخص ذبح کرے علاوہ خداوند قدوس کے کسی دوسرے کے واسطے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ حَيَّانَ يَعْنِي مَنْصُورًا، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ ؟، فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا كَانَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا دُونَ النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي، بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَأَنَا وَهُوَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ.

عامر بن واثلہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی (رض) سے سوال کیا : کیا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے ؟ اس پر علی (رض) غصہ ہوگئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہوگیا اور کہا : آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں، میں اور آپ ایک گھر میں تھے، آپ نے فرمایا : اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد (ماں یا باپ) پر لعنت کی، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ١ ؎، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے ٢ ؎۔

It was narrated that Amir bin Wathilah said: "A man asked Ali" Did the Messenger of Allah ﷺ used to tell you anything in secret that he did not tell the people? Ali got so angry that his face turned red, and he said: He used not to tell me anything in secret that he died not tell the people except that he told me four things when he and I were alone in the house. He said: Allah curses the alone who curses his father, Allah curses the one who offers a sacrifice to anyone other than Allah, Allah curse the one who gives refuge to an offender and Allah curses the one who changes boundary markers."" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4422
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ٢ ؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحي ٨ (١٩٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٢) مسند احمد (١/١٠٨، ١١٨، ١٥٢) (صحیح )
4428Sunan An Nasaiصحیح

تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the meat of sacrificial animals after three days" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4423
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ٤٤٣٤ ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأضاحی ١٦ (٥٥٧٤) ، سنن الترمذی/الأضاحی ١٣ (١٥٠٩) ، مسند احمد (٢/٩، ١٦، ٣٤، ٨١، ١٣٥) (صحیح )
4429Sunan An Nasaiصحیح

تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.

عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے) ۔

It ws narrated that Abu Ubaid - the freed slave of Ibn Awf - said: "I saw Ali bin Abi Talib - may Allah honor his face on the day of Id. He started with the prayer before the Khutbah, and then he prayed with no Adhan and no Iqamah. Then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ forbidding anyone form keeping anything of his sacrificial animal for more than three days." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4424
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٣٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأضاحی ١٦ (٥٥٧٣) ، صحیح مسلم/الضحایا ٥ (١٩٦٩) ، مسند احمد (٣/٣١٧، ٣٧٨، ٣٨٨) (صحیح )
4430Sunan An Nasaiصحیح

تین روز سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا اور رکھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔

Ali bin Abi Talib Said: "The Messenger of Allah ﷺ has forbidden you from eating the meat of your sacrificaial animals for more than three day." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4425
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4431Sunan An Nasaiصحیح

تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنا اور اس کو کھانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا : کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the meat of the sacrificial animals after three days then he said: "Eat, take some with you (if traveling). And store some." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4426
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ١٢٤ (١٧١٩) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٦) ، مسند احمد (٣/٣٢٥، ٣٤٤) (صحیح )