Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 221 of 289

4392Sunan An Nasaiصحیح

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.

انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ واللہ اکبر کہا اور اپنا (دایاں) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sacrificed two horned, Amlah rams, slaughtering them with his own hand, pronouncing the name of Allah, and saying: Allahu Akbar, and placing his foot on their sides.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4387
Notes · وضاحت
١ ؎: جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کی گردن کے دائیں پہلو پر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں رکھے گا اس سے جانور پر مکمل قابو حاصل ہوجاتا ہے، اور جانور زیادہ حرکت نہیں کر پاتا جو اسی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأضاحي ١٤ (٥٥٦٥) ، صحیح مسلم/الأضاحی ٣ (١٩٦٦) ، سنن الترمذی/الأضاحي ٢ (١٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٧) ، مسند احمد (٣/٩٩، ١١٥، ١٧٠، ١٧٨، ١٨٩، ٢١١، ٢١٤، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٥٨، ٢٦٧، ٢٧٢، ٢٧٩، ٢٨١) ، سنن الدارمی/الأضاحی ١ (١٩٨٨) (صحیح )
4393Sunan An Nasaiصحیح

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، مُخْتَصَرٌ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور دو چتکبرے مینڈھوں کے پاس آئے پھر انہیں ذبح کیا (مختصر) ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenge of Allah addressed us on the Day of Sacrifice, and he went toward two Amlah rams and sacrificed them." An abridgment. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4388
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٥٨٩ (صحیح )
4394Sunan An Nasaiصحیح

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا.

ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ (گویا کہ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) قربانی کے دن (نماز عید کے بعد) دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف مڑے، انہیں ذبح کیا، اور بکری کے ایک ریوڑ کی طرف گئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کیا۔

It was narrated from Adbur-Rahman bin Abi Bakrah that his father said: "Then he" meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Sacrifice - "Went toward two Amlah rams and sacrificed them, then (he went toward) a small flock of sheep and distributed them among us." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4389
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٩ (١٦٧٩) ، سنن الترمذی/الأضاحی ٢١(١٥٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٨٣) (صحیح )
4395Sunan An Nasaiصحیح

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed a horned, intact ram, with black feet some black at the stomach and black around its eyes." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ٤(٢٧٩٦) ، سنن الترمذی/الضحایا ٤(١٤٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٤(٣١٢٨) (تحفة الأشراف : ٤٢٩٧) (صحیح )
4396Sunan An Nasaiصحیح

اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں : مجھے غالب یقین یہی ہے کہ میں نے اسے سعید بن مسروق (سفیان ثوری کے والد) سے سنا ہے اور اسے مجھ سے سفیان نے ان سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، واللہ اعلم۔

It was narrated that Rafi bin Khadij Said: "When distributing the spoils of war, the Messenger of Allah ﷺ used to make ten sheep equivalent to one camel." Shubah said: "I know most if it from what I heard form Saeed bin Masruq, and Sufyan narrated it to me." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4391
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٠٢ (صحیح )
4397Sunan An Nasaiصحیح

اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ قربانی کا دن آگیا، ہم ایک اونٹ میں دس دس لوگ اور ایک گائے میں سات سات لوگ شریک ہوئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "We were with the Mesenger of Allah on a journey, when the Day of Sacrifice came, so we shared a camel among ten men, and a cow among seven.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4392
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء قربانی میں اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور علماء صحیح مسلم میں مروی جابر (رض) کی حدیث (حج ٦١ ، ٦٢ ) کی بنیاد پر اونٹ میں بھی صرف سات آدمیوں کی شرکت کے قائل ہیں، حالانکہ دونوں (جابر و ابن عباس رضی اللہ عنہم کی) حدیثوں کا محمل اور مصداق الگ الگ ہے، ابن عباس (رض) کی حدیث قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ہے جب کہ جابر (رض) کی حدیث ہدی (حج کی قربانی) سے متعلق ہے، دونوں (قربانی و ہدی) کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کی وجہ سے علماء میں مذکورہ اختلاف واقع ہوا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے، (یعنی قربانی میں اونٹ دس کی طرف سے کافی ہے اور ہدی میں صرف سات کی طرف سے) علامہ شوکانی نے یہی بات لکھی ہے (کمافی نیل الا ٔوطار) ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٦(٩٠٥) ، والأضاحی ٨(١٥٠١) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحی ٥(٣١٣١) ، مسند احمد ١/٢٧٥ (صحیح )
4398Sunan An Nasaiصحیح

گائے کی قربانی کس قدر افراد کی جانب سے کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَنَشْتَرِكُ فِيهَا.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے۔

It was narrated that Jabir said: "We would make Tamattu when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was with us, and we would sacrifice a cow on behalf of seven people, sharing it among ourselves." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4393
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٢(١٣١٨) ، سنن ابی داود/الأضاحی ٧(٢٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٣٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحج ٦٦ (٩٠٤) ، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩) ، مسند احمد (٣/٣١٨) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٥ ١٩٩٨) (صحیح )
4399Sunan An Nasaiصحیح

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَادَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ: مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.

براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا : جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے قربانی میں جلدی کردی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوبارہ قربانی کرو ، انہوں نے عرض کیا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ٢ ؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے، آپ نے فرمایا : تم اسی کو ذبح کرو، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگی ۔

It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up on the Day of Sacrifice and Said: Whoever turn toward our Qiblah and prays as we pray and offers the same sacrifice as we do, let him not offer his sacrifice until he has prayed; My maternal uncle stood up and said: O Messenger of Allah, I hastened to slaughter my sacrifice, so that I could feed my family,. And the members of my household,; or my family and my neighbors,; The Messenger of Allah ﷺ said; Offer another sacrifice,; He said: I have a suckling she-goat kid that is dearer to me than two sheep raised for meat, He said: Sacrifice it, for it is the better of your two sacrifices. But no Jadhah will do as a sacrifice for anyone after you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4394
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے ؟ ٢ ؎: عناق لبن سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ٤٣٨٤ میں اسی تناظر میں عتود کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہوچکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٥٦٤ (صحیح )
4400Sunan An Nasaiصحیح

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.

براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ١ ؎ یہ سن کر ابوبردہ (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کرچکا ہوں، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو گوشت کی بکری ہے ۔ وہ بولے : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میرے لیے کافی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah ﷺ addressed us on the Day of Sacrifice and said: whoever prays as we pray nand offers the sacrtifice as we do, has done the rituals properly. Whoever offered the sacrifice before the prayer, that is just a sheep for meat." Abu Burdah said: O Messengers of Allah, by Allah, I offered my sacrifice before I went out to pray. I knew that this day is a day of eating and drinking, so I hastened to eat and to feed my family and my neighbors. The Messenger of Allah ﷺ said: The Messenger of Allah said; That was just a sheep for meat. He said: I have a Jadhah she-goat that is better than two sheep for meat; will it suffice for me (as a sacrifice)? He said: Yes, but it will never suff8ice for anyone after you." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4395
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٥٦٤ (صحیح )
4401Sunan An Nasaiصحیح

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا : جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہے، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا، گویا رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد آپ ﷺ دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ said on the Day of Sacrifice: Whoever slaughtered his sacrifice before the prayer, let him repeat it. A man stood up and said: O Messenger of Allah, this is a day when people want to eat meat. He mentioned that his neighbors were poor and it was as if the Messenger of Allah ﷺ believed him. He said: I have a Jadhah that is dearer to me than tow sheep for meat.; So he granted him a concession (allowing him to sacrifice it) but I do not know whether it applied to anyone else or not. Then he went toward two rams and sacrificed them." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4396
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ١٥٨٩ (صحیح )
4402Sunan An Nasaiصحیح

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ، هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ: اذْبَحْهَا. فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.

ابوبردہ بن نیار (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا : اسی کو ذبح کر دو ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

It was narrated from Abu Burdah bin Niyar that he slaughtered (his sacrifice) before the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him to repeat it. He said: "I have a Jadhah she-goat that is dearer to me than two Muslinnahs." He said: "Sacrifice it," According to the Hadith of: Ubaidullah, he said: "I cannot find anything but a Jadhah," and he told him to slaughter it. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4397
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٧٢٢) ، موطا امام مالک/الضحایا ٣ (٤) ، مسند احمد (٣/٤٦٦ و ٤/٤٥) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٧ (٢٠٠٦) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں ١٥٦٤ اور ٤٤٠٠ پر گزری ہے )
4403Sunan An Nasaiصحیح

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

جندب بن سفیان (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کرچکے ہیں، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرچکے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔

It was narrated that Jundab bin Sufyan said: "We slaughtered the sacrifice with the Messenger of Allah ﷺ on day, and the people slaughtered their sacrifices before the prayer. When he finished (the prayer) the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw that they had slaughtered their sacrifices before the prayer. He said: "Whoever slaughtered his sacrifice before the prayer, let him slaughter another in its place, and whoever did not slaughter his sacrifice until we had prayed, let him slaughter it in the name of Allah, The Mighty and Sublime," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4398
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٧٣ (صحیح )
4404Sunan An Nasaiصحیح

دھار دار پتھر سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ، فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ، أَفَآكُلُ ؟، قَالَ: كُلْ.

محمد بن صفوان (رض) سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کردیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کردیا، کیا میں انہیں کھاؤں ؟ آپ نے فرمایا : کھاؤ۔

It was narrated from Muhammad bin Safwan that: he caught two rabbits and he could not find a knife with which to slaughter then, so he slaughtered them with Marwah. Then he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Mesenger of Allah! I caught two rabbits but I could not find a knife with which to slaughter them, so I slaughtered them with Marwah;l can I eat them?" He said: "Eat (them).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4399
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣١٨ (صحیح )
4405Sunan An Nasaiصحیح

دھار دار پتھر سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاضِرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِالْمَرْوَةِ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا.

زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔

It was narrated from Zaid bin Thabit that: a wolf bit a sheep so he slaughtered it with Marwah, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed him to eat it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4400
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٧١٨) ، مسند احمد (٥/١٨٣) ویأتی عند المؤلف برقم ٤٤١٢(صحیح) (اس کے راوی ” حاضر “ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے )
4406Sunan An Nasaiصحیح

تیز لکڑی سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ، وَبِالْعَصَا ؟، قَالَ: أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنا کتا چھوڑتا، اور شکار کو پا لیتا ہوں، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو ۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, I release my dog and I catch the game, but I cannot find anything to slaughter it with, so I slaughter it with a Marwah or a stick,; He said: Shed the blood with whatever you wish, and say the name of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4401
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٠٩ (صحیح )
4407Sunan An Nasaiصحیح

تیز لکڑی سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ، فَعُرِضَ لَهَا، فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ، أَوْ حَدِيدٍ ؟، قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہوگیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کردیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا : لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی ؟ کہا : لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "A man form among the Ansar had a she-camel which used to graze in front of Uhud. Something happened to it, and he slaughtered it with a stake,"- (Ayyub, one of the narrators, said) I said to Zaid: A stake of wood or of iron?" He said "No of wood."- "Then he went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him, and he told him to eat it." (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4402
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤١٨٤) (صحیح الإسناد )
4408Sunan An Nasaiصحیح

ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ، فَكُلْ إِلَّا بِسِنٍّ، أَوْ ظُفُرٍ.

رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے اس کے جو دانت اور ناخن سے ذبح کیا گیا ہو ۔

It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unless (it is slaughtered) with teeth or nails.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4403
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٣٠٢ (صحیح )
4409Sunan An Nasaiصحیح

دانت سے ذبح کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا، أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمنوں سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو آپ نے فرمایا : جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو) تو اسے کھاؤ، جب تک کہ وہ آلہ دانت یا ناخن نہ ہو، اور جلد ہی تمہیں اس سلسلے میں بتاؤں گا، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے ۔

It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I said: O Messenger of Allah we are going to meet the enemy tomorrow and we do not have any knives. The Messenger of Allah ﷺ said: "If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unless (it is slaughtered (with teeth or nails, and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4404
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4410Sunan An Nasaiصحیح

چاقو چھری تیز کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: اثْنَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ١ ؎۔

It was narrated that Shaddad bin Aws said: "There are two things that I memorized from the Messenger of Allah ﷺ, who said: Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4405
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥) ، سنن ابی داود/الأضاحی ١٢ (٢٨١٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٤(١٤٠٩) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٣ (٣١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٨١٧) ، مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٤٤١٦- ٤٤١٩ (صحیح )
4411Sunan An Nasaiصحیح

اگر اونٹ کو بجائے نحر کے ذبح کریں اور دوسرے جانوروں کو بجائے ذبح کے نحر کریں تو حرج نہیں

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ الْعَسْقَلَانِيُّ عَسْقَلَانُ بَلْخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ.

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا پھر ہم نے اسے کھایا ١ ؎۔

It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: "We slaughtered (Naharna) a horse during the time of the Messenger of Allah ﷺ and ate it". (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4406
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑا نحر کیے جانے والے جانوروں میں سے نہیں ہے پھر بھی آپ کے سامنے نحر کیا گیا، اس سے ذبح کیے جانے والے جانورں کو نحر کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، تو اس کے برعکس سے جائز ہوگا یعنی ذبح کئے جانے والے جانورں کو نحر بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ صرف جواز کی صورت ہے، زیادہ اچھا یہی ہے کہ نحر کئے جانے والے جانورں کو پہلے نحر ہی کیا جائے، اور پھر ذبح کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانوروں کو ذبح کرنا ہی افضل ہے، (ذبح کئے جانے والے جانور جیسے : بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا، مرغی، اور نحر کئے جانے والے جانور جیسے : گائے، بیل، گھوڑا اور اونٹ) نحر میں پہلے دھاردار ہتھیار سے جانور کے سینے کے اوپری حصہ کے سوراخ میں مارا جاتا ہے، جب سارا خون نکل کر جانور ساکت ہوجاتا ہے تب گرا کر ذبح کیا جاتا ہے، نحر کے ذریعہ بڑے جانور پر آسانی سے قابو پا لیا جاتا ہے اس لیے ان کے حق میں نحر مشروع ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٤(٥٥١٠) ، ٢٧(٥٥١٩) ، صحیح مسلم/الصید ٦(١٩٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٢(٣١٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤٦) ، مسند احمد (٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٢٢ (٢٠٣٥) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٤٤٢٥، ٤٤٢٦ (صحیح )