Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 190 of 289

3776Sunan An Nasai

اس اختلاف کا تذکرہ جو کہ زہری پر اس خبر میں نقل کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْمِرَهَا يَرِثُهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْطَاهَا مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ جس شخص نے کسی کو کوئی چیز یہ کہہ کر عمریٰ کیا کہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہوگا جسے اس نے عمریٰ کیا ہے، اور اس کے ساتھی سے جسے اس نے دیا ہے اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصوں اور اس کے حق کے مطابق اس کے ورثاء وارث ہوں گے (دینے والے کو کچھ نہیں لوٹے گا) ۔

Shuaib narrated from Az-Zuhri, who said: "Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated to me, that Jabir told him: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) ruled that whoever gives a lifelong gift to a man, it belongs to him and to his heirs. It belongs to the one to whom it was given, on the basis of Umra. It will be inherited from its recipient according to Allahs (injunctions on) inheritance and its rights.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3746
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3777Sunan An Nasai

اس اختلاف کا تذکرہ جو کہ زہری پر اس خبر میں نقل کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِيمَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَهِيَ لَهُ بَتْلَةٌ لَا يَجُوزُ لِلْمُعْطِي مِنْهَا شَرْطٌ وَلَا ثُنْيَا، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ فَقَطَعَتِ الْمَوَارِيثُ شَرْطَهُ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جسے کوئی چیز عمری کی گئی ہو کہ یہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے فیصلہ صادر فرمایا کہ دینے والے کو اس میں کوئی شرط لگانا اور کوئی استثناء کرنا جائز و درست نہیں ہے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث کا قانون ہوگیا اور اس کی شرط کو باطل کردیا (یعنی وہ شرط لغو قرار دے دی) ۔

Ibn Abi Dhib narrated from Ibn Shihab, from Abu Salamah, from Jabir, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) ruled -concerning a person who has been given a lifelong gift (Umra)- that it belongs to him and to his descendants: "It is undoubtedly his, and it is not permissible for the giver to stipulate any conditions or exceptions." Abu Salamah said: "Because he gave it as a gift and thus, it is subject to the same ruling as the estate, and the condition (that it will revert to the giver on the death of recipient) has become invalid.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3747
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3778Sunan An Nasai

اس اختلاف کا تذکرہ جو کہ زہری پر اس خبر میں نقل کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَأَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ قَالَ قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی شخص اور اس کی اولاد کو عمریٰ کیا اور کہا کہ میں نے اسے تم کو اور تمہاری اولاد کو دے دیا ہے جب تک کہ کوئی بھی ان میں سے زندہ رہے، تو وہ چیز اسی کی ہوجائے گی جسے وہ چیز دی گئی ہے، اب وہ چیز دینے والے کو واپس نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ اس نے اسے دیا ہی اس انداز سے ہے کہ اس میں میراث نافذ ہوگی ۔

Salih narrated from Ibn Shihab, that Abu Salamah informed him from Jabir, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Any man who gives a lifelong gift to another man, it belongs to him (the recipient) and his descendants. He said: I have given it to you and to your descendants so long as any of you are still alive. So it belongs to the one to whom it was given, and it cannot revert to the first owner, since he has given it as a gift, and as such, it becomes subject to the same ruling as the estate.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3748
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3779Sunan An Nasai

اس اختلاف کا تذکرہ جو کہ زہری پر اس خبر میں نقل کیا گیا ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِالْعُمْرَى أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَلِعَقِبِهِ الْهِبَةَ وَيَسْتَثْنِيَ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ وَبِعَقِبِكَ فَهُوَ إِلَيَّ وَإِلَى عَقِبِي إِنَّهَا لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَلِعَقِبِهِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمریٰ کے سلسلہ میں ایک شخص نے ایک شخص کو اور اس کی اولاد کو کوئی چیز ہبہ کی اور اس بات کا استثناء کیا کہ اگر تمہارے ساتھ اور تمہاری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا یا تو یہ چیز میری اور میری اولاد کی ہوجائے گی رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ وہ چیز اس کی ہوگی جس کو دے دی گئی ہے اور اس کے اولاد کی ہوگی (استثناء کا کوئی حاصل نہ ہوگا) ۔

Yazid bin Abi Habib narrated from Ibn Shihab, from Abu Salamah, from Jabir, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) ruled concerning Umra -when a man gives a gift to another man, and his descendants, but stipulates that if something happens to you and your descendants, then it will belong to me and my descendants- "It belongs to the one to whom it was given, and to his descendants.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3749
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3780Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ۔

Hisham said: "Yahya bin Abi Kathir narrated to us, he said: Abu Salamah bin Abdur-Rahman narrated to me, he said: "I heard Jabir say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "A lifelong gift belongs to the one to whom it was given.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3750
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3781Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ۔

Abu Ismail said: "Yahya narrated to us that Abu Salamah narrated to him, from Jabir bin Abdullah, from the Prophet of Allah who said: A lifelong gift belongs to the one to whom it was given.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3751
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٧٢ (صحیح )
3782Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ (کرنا اچھا) نہیں ہے، لیکن جس کسی کو عمریٰ میں کوئی چیز دے دی گئی تو وہ چیز اس کی (ہمیشہ کے لیے) ہوگئی ۔

Ismail narrated from Muhammad, from Abu Salamah, from Abu Hurairah, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "There is no lifelong gift. Whoever is given something as a lifelong gift, it belongs to him.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3752
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٠٠٧)، مسند احمد (٢/٣٥٧) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الہبات ٣ (٢٣٧٩)، وانظرمایأتي برقم: ٣٧٨٥ (حسن صحیح )
3783Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: جس آدمی کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی تو وہ چیز اسی کی (ہمیشہ کے لیے) ہوگئی ۔

Muhammad bin Amr said: "Abu Salamah narrated to us, from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever is given something as a lifelong gift, it belongs to him.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3753
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٥) (حسن صحیح )
3784Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: عمریٰ نافذ ہوگا ۔

Bashir bin Nahik narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "A lifelong gift (Umra) is permissible.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3754
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٣٢ (٢٦٢٦)، صحیح مسلم/الہبات ٤ (١٦٢٦)، سنن ابی داود/البیوع ٨٧ (٣٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٢)، مسند احمد (٢/٣٤٧، ٤٢٩، ٤٦٨، ٤٨٩)، ویأتي عند المؤلف: ٣٧٨٧ (صحیح )
3785Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ، عَنِ الْعُمْرَى، فَقُلْتُ: حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: وَقُلْتُ كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ،

قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہوگا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ ؓ روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: عمریٰ نافذ ہوگا ، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا: حسن بصری کہتے تھے کہ عمریٰ نافذ ہوگا (جس کے لیے عمریٰ کیا جاتا ہے وہ چیز اسی کی ہمیشہ کے لیے ہوجاتی ہے) ۔

It was narrated that Qatadah said: "Sulaiman bin Hisham asked me about a lifelong gift. I said: Muhammad bin Sirin narrated that Shuraih said: "The Prophet of Allah صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ruled that a lifelong gift is permissible."" Qatadah said: "I said: And An-Nadr bin Anas narrated to me, from Bashir bin Nahik, from Abu Hurairah, that the Prophet of Allah said: "A lifelong gift is permissible."" Qatadah said: "I said: Al-Hasan used to say: "A lifelong gift is permissible.

3786Sunan An Nasai

اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان

قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّمَا الْعُمْرَى إِذَا أُعْمِرَ وَعَقِبُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ عَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لِلَّذِي يَجْعَلُ شَرْطَهُ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ قَتَادَةُ: فَسُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: كَانَ الْخُلَفَاءُ لَا يَقْضُونَ بِهَذَا، قَالَ عَطَاءٌ: قَضَى بِهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ.

قتادہ کہتے ہیں: زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے (تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو۔ قتادہ کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ نافذ ہوگا ، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا: خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے، تو عطاء نے کہا: اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے۔

Qatadah said: "Az-Zuhri said: A lifelong gift is when it is stipulated that it is for the one to whom it is given and his descendants, but if his descendants were not mentioned then the condition is valid (and it reverts to the one who gave it)." Qatadah said: "So Ata bin Abi Rabah was asked, and he said: Jabir bin Abdullah narrated to me that Allahs Messenger said: "Umra is permissible."" Qatadah said: "Az-Zuhri said: The Caliphs (Khulafa) did not rule according to this." Ata said: "Abdul-Malik bin Marwan ruled according to this.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3755
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٧٩٩) (صحیح) (حدیث مختصراً صحیح ہے سلیمان بن ہشام کا قصہ اور زہری کا دونوں قول صحیح نہیں ہے )
3787Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ هِبَةٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا، اللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جب اس کی عصمت کا مالک اس کا شوہر ہوگیا جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے ہبہ و بخشش کرے ، اس حدیث کے الفاظ (راوی حدیث) محمد بن معمر کے ہیں۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "It is not permissible for a woman to give a gift from her wealth, once her husband has marital authority over her." This is the wording of (one of the narrators) Muhammad.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3756
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٧٨٥ (صحیح )
3788Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. ح وأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا.

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) conquered Makkah, he stood up to address (the people) and said in his Khutbah: It is not permissible for a woman to give (a gift) except with her husbands permission.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3757
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٤١ (صحیح )
3789Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِّيِّ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ ثَقِيفٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُمْ هَدِيَّةٌ، فَقَالَ: أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ كَانَتْ هَدِيَّةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ، وَإِنْ كَانَتْ صَدَقَةٌ فَإِنَّمَا يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالُوا: لَا بَلْ هَدِيَّةٌ فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ وَقَعَدَ مَعَهُمْ يُسَائِلُهُمْ وَيُسَائِلُونَهُ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ مَعَ الْعَصْرِ.

عبدالرحمٰن بن علقمہ ثقفی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، ان کے ساتھ کچھ ہدیہ بھی تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی اور ضروریات کی تکمیل مطلوب اور پیش نظر ہے، اور اگر صدقہ ہے تو اس سے اللہ عزوجل کی خوشنودی مطلوب و مقصود ہے۔ ان لوگوں نے کہا: یہ ہدیہ ہے، تو آپ نے اسے ان سے قبول فرما لیا اور ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور وہ لوگ آپ سے مسئلہ مسائل پوچھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ظہر عصر کے ساتھ ملا کر پڑھی ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Alqamah Ath-Thaqafi said: "The delegation of Thaqif came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم), bringing a gift with them. He said: Is it a gift or charity? If it was a gift it would be for the sake of the Messenger of Allah and to have their needs met, and if it was charity then it would be in the cause of Allah. They said: It is a gift. So he accepted it from them, and sat with them, and they asked questions, until he prayed Zuhr with Asr.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3758
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اور اس کے بعد کی تینوں حدیثیں متفرق ابواب کی ہیں، ان کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٠٧) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عبدالملک “ مجہول ہیں، نیز ” عبدالرحمٰن بن علقمہ “ کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ تابعی ہیں )
3790Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے ارادہ کرلیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "I was thinking of not accepting gifts except from a Quraishi, an Ansari, a Thaqafi or a Dawsi.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3759
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نبی اکرم ﷺ نے اس وقت کہا تھا جب ایک اعرابی نے آپ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا اور آپ نے اسے اس کے اس ہدیہ کے بالمقابل بہت کچھ نوازا مگر اس اعرابی نے اسے بہت کم سمجھا اور اس سے زیادہ کا حریص ہوا اسی موقع پر آپ نے یہ بات کہی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٠٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٨٢ (٣٥٣٧)، سنن الترمذی/المناقب ٧٤ (٩٣٩٤٦)، مسند احمد (٢/٢٩٢) (حسن، صحیح )
3791Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔

It was narrated from Anas that some meat was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and he said: "What is this?" It was said: "It was given in charity to Barirah." He said: "It is charity for her and a gift for us.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3760
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٢ (١٤٩٥)، الہبة ٧ (٢٥٧٧)، صحیح مسلم/الزکاة ٥٢ (١٠٧٤)، سنن ابی داود/الزکاة ٣٠ (١٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٢)، مسند احمد (٣/١١٧، ١٣٠، ١٨٠، ٢٧٦) (صحیح )
3792Sunan An Nasai

بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ دے سکے اس کے بیان میں

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينٌ يَحْلِفُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی لا ومقلب القلوب نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیر نے والا ہے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The oath by which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) used to swear was: No, by the Controller of the hearts.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3761
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ١٤ (٦٦١٧)، الأیمان ٣ (٦٦٢٨)، التوحید ١١ (٧٣٩١)، سنن الترمذی/الأیمان ١٢ (١٥٤٠)، (تحفة الأشراف: ٧٠٢٤)، مسند احمد (٢/٢٦، ٦٧، ٦٨، ١٢٧)، سنن الدارمی/النذور ١٢ (٢٣٩٥) (صحیح )
3793Sunan An Nasai

مصرف القلوب کے لفظ کی قسم

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْعَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا: لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی لا ومصرف القلوب نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔

It was narrated from Salim that his father said: "The oath by which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) used to swear was: No, by the Controller of the hearts.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3762
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الکفارات ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٥) (حسن )
3794Sunan An Nasai

اللہ تعالیٰ قدوس کی عزت کی قسم کھانے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، أَرْسَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ. قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَى النَّارِ وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ. فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَرَجَعَ، وَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چناچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ١ ؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ٢ ؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چناچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہوگا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ٣ ؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ (پھر اللہ تعالیٰ نے) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ٤ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "When Allah created Paradise and Hell, He sent Jibril to Paradise and said: Look at it and at what I have prepared for its people in it. He looked at it, then he came back and said: By Your Glory, no one will hear of it but he will enter it. So He commanded that it be surrounded by hardships and said: Go and look at it and at what I have prepared for its people in it. He looked at it and saw that it had been surrounded with hardships. He (Jibril) said: By Your Glory, I fear that no one will enter it. He (Allah) said: Go and look at the Fire and at what I have prepared for its people in it. So he looked at it and parts of it were piled upon other parts. He came back and said: By Your Glory, no one will enter it. So He commanded that it be surrounded with pleasures and said: Go and look at it. So he looked at it and saw that it was surrounded with pleasures. He came back and said: By Your Glory, I fear that no one will be saved from it and all will enter it.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3763
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔ ٢ ؎: یعنی صلاۃ، صوم، زکاۃ اور جہاد جیسے نیک اعمال سے اسے گھیر دیا گیا، ان اعمال کی ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انہیں اداء کرے، اور کتاب و سنت کے مطابق ان کی ادائیگی کے بغیر حصول جنت کا تصور ناممکن ہے، اس لیے کہ انہیں سارے اعمال صالحہ کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگا اور اس رحمت کے نتیجے میں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ٣ ؎: یعنی اس میں اس قدر شدت پائی جاتی ہے کہ لگتا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے۔ ٤ ؎: کیونکہ انسان اگر خواہشات کے پیچھے پڑگیا اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ رکھ سکا تو ڈر ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٠٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ٢٥ (٤٧٤٤)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٢١ (٢٥٦٠)، مسند احمد (٢/٣٣٣، ٣٧٣) (حسن صحیح )
3795Sunan An Nasai

اللہ تعالیٰ کے سوا قسم کھانے کی ممانعت کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قسم کھائے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھائے ، اور قریش اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو آپ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears, let him not swear by anything other than Allah." The Quraish used to swear by their forefathers, and so he said: "Do not swear by your forefathers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3764
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٦)، الأیمان ٤ (٦٦٤٨)، صحیح مسلم/الأیمان ١(١٦٤٦)، مسند احمد (٢/٩٨)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٦ (٢٣٨٦) (صحیح )