عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ١ ؎۔
Yahya bin Abi Ishaq said: "A man from Banu Ghifar told me, in the gathering of Salim bin Abdullah, Salim bin Abdullah said: I heard Abdullah -that is, Ibn Umar- say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Allah forbids you to swear by your forefathers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3765
Notes · وضاحت
١ ؎: غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم مقصود ہوتی ہے جس کی قسم کھائی جاتی ہے حالانکہ حقیقی عظمت و تقدس صرف اللہ رب العالمین کی ذات کے ساتھ خاص ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے اسماء (نام) اور اس کی صفات (خوبیوں) کے علاوہ کی قسم کھانا جائز نہیں، اس سلسلہ میں ملائکہ، انبیاء، اولیاء وغیرہ سب برابر ہیں، ان میں سے کسی کی قسم نہیں کھائی جاسکتی ہے۔ رہ گئی بات حدیث میں وارد لفظ أفلح و أبیہ کی تو اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کا کلمہ عربوں کی زبان پر جاری ہوجاتا تھا، جس کا مقصود قسم نہیں ہوتا تھا، اور ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی زبان سے یہ کلمہ اس ممانعت سے پہلے نکلا ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ (عمر ؓ کہتے ہیں) اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر میں نے کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔
It was narrated from Salim, from his father, that on one occasion the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) heard Umar saying: "By my father and by my mother." He said: "Allah forbids you to swear by your forefathers." Umar said: "By Allah, I never swore by them again, whether saying it for myself or reporting it of others.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3766
عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ عمر ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے یا دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے ان کی قسم نہیں کھائی۔
It was narrated from Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah forbids you to swear by your forefathers." Umar (RA) said: "By Allah, I never swore by them again, whether saying it for myself or reporting of others.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3767
عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود کچھ بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی کسی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔
It was narrated from Salim, from his father, that he told him from Umar (RA): "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Allah forbids you to swear by your forefathers." Umar said: "By Allah, I never swore by them again, whether saying it for myself or reporting it of others.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3768
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ١ ؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Do not swear by your fathers, nor by your mothers nor by the idols. Swear only by Allah, and do not swear unless you are sincere.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3769
ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ، قتیبہ نے اپنی حدیث میں متعمدا کہا ہے (یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے) اور یزید نے کاذبا کہا ہے (جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا) تو وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ١ ؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔
It was narrated that Thabit bin Ad-Dahhak said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said." In his narration, Qutaibah said: "Intentionally." Yazid said: "Telling a lie will be as he said, and whoever kills himself with something. Allah will punish him with it in the Fire of Hell.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3770
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی نے قسم کھائی کہ اگر یہ کام مجھ سے نہ ہوا تو میں یہودی یا نصرانی یا مذہب اسلام سے بیزار و متنفر ہوں اور وہ اپنی اس قسم میں پورا نہیں اترا بلکہ جھوٹا ثابت ہوا تو وہ اپنے کہے کے مطابق ہوگا، لیکن علماء کا کہنا ہے کہ یہ وعید اور دھمکی کے طور پر ہے، اگر دلی طور پر وہ اپنے ایمان سے مطمئن ہے تو اسے اپنے اس قول سے کچھ بھی نقصان پہنچنے والا نہیں ہے۔
ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی ملت و مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے، جیسا اس نے کہا، اور جس نے خود کو کسی چیز سے مار ڈالا (خودکشی کرلی) تو اسے آخرت میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ۔
Thabit bin Ad-Dahhak narrated that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said, and whoever kills himself with something will be punished with it in the Hereafter.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3771
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کہا: (اگر میں نے یہ کیا ہوا تو) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever says: I have nothing to do with Islam, if he is lying then he is as he said, and if he is telling the truth, his Islam will not be sound.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3772
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہہ کر قسم کھانا کہ میں اسلام سے بری و بیزار ہوں اس کے گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے، اسے چاہیئے کہ توبہ و استغفار کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٩ (٣٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: تم لوگ (غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو: کعبے کی قسم! تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں: کعبے کے رب کی قسم! اور کہیں: جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Yasar, from Qutailah, a woman from Juhainah, that a Jew came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "You are setting up rivals (to Allah) and associating others (with Him). You say: Whatever Allah wills and you will, and you say: By the Kabah." So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded them, if they wanted to swear an oath, to say: "By the Lord of the Kabah;" and to say: "Whatever Allah wills, then what you will.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3773
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اچھی بات کی رہنمائی کوئی بھی کرے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، خصوصا جب اس کا تعلق توحید و شرک کے مسائل سے ہو تو اسے بدرجہ اولیٰ قبول کرنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٦)، مسند احمد (٦/٣٧١، ٣٧٢)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة ٢٨٤ (٩٨٦) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not swear by your forefathers or by false gods (At-Tawaghit).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3774
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٧)، مسند احمد (٥/٦٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو قسم کھائے اور کہے: لات (بت) کی قسم، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ پڑھے، اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ تمہارے ساتھ جوا کھیلیں گے) تو اسے چاہیئے کہ صدقہ کرے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever among you swears and says: By Al-Lat, let him say: La ilaha illallah (There is none worthy of worship except Allah). And whoever says to his companion: Come, let us gamble, then let him give in charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3775
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، الأدب ٧٤ (٦١٠٧)، الاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، الأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٧)، سنن ابی داود/الأیمان ٤(٣٢٤٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٧(١٥٤٥)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، مسند احمد (٢/٣٠٩)، والمؤلف في الیوم واللیلة ٢٨٥ (٩٩١ و ٩٩٢) (صحیح )
سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھالی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چناچہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تین بار: لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا ۔
It was narrated from Musab bin Sad that his father said: "We were talking about something, and I had only recently left Jahiliyyah behind, so I swore by Al-Lat and Al-Uzza. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to me: What a bad thing you have said! Go to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and tell him, for we think that you have committed Kufr. So I went to him and told him, and he said to me: Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah (There is none worthy of worship except Allah alone, without partner) three times, and seek refuge with Allah from the Shaitan three times, and spit dryly to your left three times, and do not say that again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3776
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٨)، مسند احمد (١/١٨٣، ١٨٦) والمؤلف في عمل الیوم واللیلة ٢٨٥ (ضعیف )
سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھالی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: کہو: لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا ۔
Musab bin Sad narrated that his father said: "I swore by Al-Lat and Al-Uzza and my companions said to me: What a bad thing you have said! You have said something horrible. So I went to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and told him about that. He said: Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa ala kulli shayin qadir (There is none worthy of worship except Allah with no partner or associate; His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things). Spit to your left three times, seek refuge with Allah from the Shaitan, and do not say that again.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3777
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ۔
Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) commanded us to do seven things: He commanded us to attend funerals, visit the sick, to reply (say: Yarhamuk Allah [may Allah have mercy on you]) to one who sneezes, to accept invitations, to support the oppressed, to fulfill oaths (when adjured by another) and to return greetings of Salaam.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3778
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا (جو بہتر ہوگا) ۔
It was narrated from Abu Musa that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is nothing on Earth that I swear an oath upon, and I see that something else is better, but I do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3779
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے ١ ؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں ۔
It was narrated that Abu Musa Al-Ashari said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) with a group of the Ashari people and asked him to give us animals to ride. He said: By Allah, I cannot give you anything to ride and I have nothing to give you to ride. We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him. He ordered that we be given three fine-looking camels. When we left, we said to one another: We came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something." Abu Musa (RA) said: "We came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that. He said: I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. By Allah, I do not swear an oath and then see something better than it, but I offer expiation for my oath and do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3780
Notes · وضاحت
١ ؎: سواریوں کا مطالبہ غزوہ تبوک میں شریک ہونے کے لیے کیا تھا۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔
Amr bin Shuaib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3781
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٥٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الکفارات ٨ (٢١١١)، مسند احمد (٢/١٨٥، ٢٠٤، ٢١١، ٢١٢) (حسن، صحیح )
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "If any one of you swears an oath, then he sees something better than it, let him offer expiation for his oath, and look at what is better and do it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3782
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: If you swear an oath, offer expiation for your oath, then do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3783
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If you swear an oath, then you see something better than it, then offer expiation for your oath, and do that which is better.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3784