Sunan An Nasai 3803

قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ

3803Sunan An Nasai

اسلام سے بے زار ہونے کے واسطے قسم کھانا

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کہا: (اگر میں نے یہ کیا ہوا تو) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Whoever says: I have nothing to do with Islam, if he is lying then he is as he said, and if he is telling the truth, his Islam will not be sound.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3772
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہہ کر قسم کھانا کہ میں اسلام سے بری و بیزار ہوں اس کے گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے، اسے چاہیئے کہ توبہ و استغفار کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٩ (٣٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )