اس حدیث میں یحیی بن کثیر اور محمد بن عمرو کا حضرت ابوسلمہ پر اختلاف کی بیان
قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّمَا الْعُمْرَى إِذَا أُعْمِرَ وَعَقِبُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ عَقِبَهُ مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لِلَّذِي يَجْعَلُ شَرْطَهُ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ قَتَادَةُ: فَسُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: كَانَ الْخُلَفَاءُ لَا يَقْضُونَ بِهَذَا، قَالَ عَطَاءٌ: قَضَى بِهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ.
قتادہ کہتے ہیں: زہری نے کہا کہ جب عمریٰ کسی کو زندگی بھر کے لیے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے دیا جائے (تو وہ دینے والے کو نہ ملے گا) اور جب دینے والے نے اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے نہ کہا ہو تو وہ اس کے نہ رہنے کے بعد اس کو ملے گا جس کی شرط دینے والے نے لگا دی ہو۔ قتادہ کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے جابر بن عبداللہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ نافذ ہوگا ، قتادہ کہتے ہیں کہ زہری نے کہا: خلفاء اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تھے، تو عطاء نے کہا: اس کے مطابق عبدالملک بن مروان نے فیصلہ کیا ہے۔
Qatadah said: "Az-Zuhri said: A lifelong gift is when it is stipulated that it is for the one to whom it is given and his descendants, but if his descendants were not mentioned then the condition is valid (and it reverts to the one who gave it)." Qatadah said: "So Ata bin Abi Rabah was asked, and he said: Jabir bin Abdullah narrated to me that Allahs Messenger said: "Umra is permissible."" Qatadah said: "Az-Zuhri said: The Caliphs (Khulafa) did not rule according to this." Ata said: "Abdul-Malik bin Marwan ruled according to this.