Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 156 of 289

3098Sunan An Nasai

جہاد کی فرضیت

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ died and Abu Bakr (RA) was appointed as the Khalifah, and some of the ‘Arabs disbelieved, ‘Umar said: ‘Abu Bakr! How can you fight the people when the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?’ Abu Bakr (RA) said: ‘By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ I will fight them for withholding it.’ (‘Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr (RA) to fighting, then I knew that it was the truth.” (Sahih)

3099Sunan An Nasai

جہاد کی فرضیت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَأَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ، وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ لا إله إلا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا (قبول کرلیا) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کرلیا۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جاسکے گا جب اس کا حق (وقت و نوبت) آجائے ١ ؎۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ٢ ؎۔

Abu Hurairah (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says it, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3095
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً حد و قصاص و ضمان میں تو اس پر حد جاری کی جائے گی، قصاص لیا جائے گا اور اس سے مال دلایا جائے گا۔ ٢ ؎: کہ وہ ایمان خلوص دل سے لایا تھا یا صرف دکھاوے کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠٢ (٢٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٥٢)، و یأتي عند المؤلف: ٣٠٩٧ (صحیح )
3100Sunan An Nasai

جہاد کی فرضیت

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ، وَأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ.

انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنے ہاتھوں، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ said: “Strive against the idolators with your wealth, your hands and your tongues.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3096
Notes · وضاحت
١ ؎: مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں، اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ اور کفار کو اسلام کی زبان سے دعوت دی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ١٨ (٢٥٠٤)، (تحفة الأشراف: مسند احمد (٣/١٢٤، ١٥٣، ٢٥١)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٨ (٢٤٧٥)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣١٩٤ (صحیح )
3101Sunan An Nasai

جہاد چھوڑ دینے پر وعید

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرگیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ١ ؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever dies without having fought or having thought of fighting, he dies on one of the branches of hypocrisy.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3097
Notes · وضاحت
١ ؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ٢ ؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (٩١٠)، سنن ابی داود/الجہاد ١٨ (٢٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٧)، مسند احمد (٢/٣٧٤) (صحیح )
3102Sunan An Nasai

لشکر کے ساتھ نہ جانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُفَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَفنِّي، أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، (لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔

Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘By the One in Whose hand is my soul, were it not for the fact that there are some believing men who would not feel happy to stay behind (when I go out on a campaign) and I do not have the means to provide them with mounts (so that they can join me), I would not have stayed behind from any campaign or battle in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then be killed, then be brought back to life, then be killed then be brought back to life, then be killed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3098
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٧ (٢٧٩٧)، ١١٩ (٢٩٧٢)، التمنی ١ (٧٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٦)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١ (٢٧٥٣)، مسند احمد (٢/٢٣١، ٢٤٥، ٣٨٤، ٤٢٤، ٤٧٣، ٥٠٢) ویأتي عند المؤلف برقم ٣١٥٣ (صحیح )
3103Sunan An Nasai

جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ.

سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر آیت: لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ۔ (النساء: ٩٥ ) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم ؓ آگئے (وہ ایک نابینا صحابی تھے) انہوں نے (حسرت بھرے انداز میں) کہا: اگر میں جہاد کرسکتا تو ضرور کرتا (مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے (کلام پاک کا یہ ٹکڑا) غير أولي الضرر نازل فرمایا۔ ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں اور (اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی) کہ آپ ﷺ کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر (بھی) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہوگئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔

It was narrated that Sahl bin Sad said: “I saw Marwan bin Al Hakam sitting and I came and sat with him. He told us that Zaid bin Thabit told him, that the following was revealed to Allah’s Messenger ﷺ (Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah), then Ibn Umm Maktum came when he was dictating it to me (Zaid), and said: ‘Messenger of Allah ﷺ! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.’ Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed to him - while his thigh was against mine, and became so heavy that I thought my thigh would break, until (the revelation) stopped: ‘Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This ‘Abdur-Rahman bin Ishaq is tolerable, while ‘Abdur Rahman bin Ishaq from whom reports ‘Ali bin Mushir, Abu Muawiyah, and ‘Abdul-Wahid bin Ziyad from An-Numan bin Sad — he is not trustworthy.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3099
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣١ (٢٨٣٢)، وتفسیرسورة النساء ١٨ (٤٥٩٢)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٠ (٢٥٠٧)، سنن الترمذی/تفسیرسورة النساء (٣٠٣٣)، مسند احمد (٥/١٨٤، ١٩١) (صحیح )
3104Sunan An Nasai

جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمْلَى عَلَيْهِ: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.

زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بول کر لکھایا لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ (النساء: ٩٥ ) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم ؓ آگئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر آیت کا یہ حصہ غير أولي الضرر نازل فرمایا، (اس آیت کے اترتے وقت) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور (نبی اکرم ﷺ پر وحی کے نزول کے سبب) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہوجائے گی، پھر وحی موقوف ہوگئی (تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہوگیا) ۔

It was narrated that Ibn Shihab said: “Sahl bin Sad said: ‘I saw Marwan sitting in the Masjid so I went and sat beside him, and he told us that Zaid bin Thabit had told him, that the Messenger of Allah ﷺ dictated to him the words: [Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah]. Then Ibn Umm Maktum came to him while he was dictating it to me (Zaid) and said: ‘Messenger of Allah ﷺ! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.’ But he was a blind man. Then Allah revealed to His Messenger ﷺ - while his thigh was against my thigh, and (it became so heavy that) I thought my thigh would break, then it was lifted from him, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed: ‘Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3100
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3105Sunan An Nasai

جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.

براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی (کچھ) لاؤ۔ (جب وہ آگئی تو اس پر لکھا یا) چناچہ (زید بن ثابت ؓ نے) لکھا: لا يستوي القاعدون من المؤمنين اور عمرو بن ام مکتوم ؓ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ (وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ (میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا) تب یہ آیت غير أولي الضرر ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر ۔

It was narrated from Al Bara’ that the Prophet ﷺ said: “Bring me a shoulder blade of a camel, or a tablet, and write: Not equal are those of the believers who sit (at home).” ‘Amr bin Umm Maktum was behind him and he said: “Is there a concession for me?” Then the following was revealed: “Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3101
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجہاد ١ (١٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٥٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٣١ (٢٨٣١)، وتفسیرسورة النساء ١٨ (٤٥٩٣)، و فضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨)، مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٩٠، ٣٣٠)، سنن الدارمی/المناسک والجہاد ٢٨ (٢٤٦٤) (صحیح )
3106Sunan An Nasai

جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى ؟ قَالَ: فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: لا يستوي القاعدون من المؤمنين اتری تو ابن ام مکتوم ؓ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ (میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، (جہاد بھی نہیں کرسکتا) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: غير أولي الضرر نازل ہوئی (یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں) ۔

It was narrated that Al-Bara’ said: “When the following was revealed: ‘Not equal are those of the believers who sit (at home),’ Ibn Umm Maktum, who was blind, came and said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what about me? I am blind.’ He said: ‘He did not leave before the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3102
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٩٠٩) (صحیح )
3107Sunan An Nasai

جس شخص کے والدین حیات ہوں اس کو گھر رہنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “A man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him for permission to go for Jihad. He said: ‘Are your parents alive?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then strive for their sake.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3103
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٣٨ (٣٠٠٤)، الأدب ٣ (٥٩٧٢)، صحیح مسلم/البر ١ (٢٥٤٩)، سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٩)، سنن الترمذی/الجہاد ٢ (١٦٧١)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٤)، مسند احمد (٢/١٦٥، ١٧٢، ١٨٨، ١٩٧، ٢٢١) (صحیح )
3108Sunan An Nasai

جس کی صرف والدہ زندہ ہو اس کے لئے اجازت

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.

معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Muawiyah bin Jahimah As-Sulami, that Jahimah came to the Prophet ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ! I want to go out and fight (in Jihad) and I have come to ask your advice.” He said: “Do you have a mother?” He said: “Yes.” He said: “Then stay with her, for Paradise is beneath her feet.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3104
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٥)، مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح )
3109Sunan An Nasai

جان و مال سے جہاد کرنے والے کے بارے میں احادیث

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِقَالَ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میں افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا: افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو، اور لوگوں کو (ان سے دور رہ کر) اپنے شر سے بچاتا ہو ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ! Which of the people is best?” He said: “One who strives with himself and his wealth in the cause of Allah.” He said: “Then who, Messenger of Allah ﷺ?” He said: “Then a believer (isolating himself) in one of the mountain passes, who fears Allah and spares the people his evil.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3105
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٢٤ (٢٧٨٦)، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن ابی داود/الجہاد ٥ (٢٤٨٥)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٤ (١٦٦٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
3110Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، رَجُلًا فَاجِرًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ ﷺ اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا: کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ (قرآن) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ (قرآن) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: In the year of Tabuk, the Messenger of Allah ﷺ addressed the people, while leaning against his mount. He said: ‘Shall I not tell you of the best of the people and the worst of the people? Among the best of the people is a man who strives in the cause of Allah on the back of his horse, or on the back of his camel, or on his own two feet, until death comes to him. And among the worst of the people, is an immoral man (Fajir) who reads the Book of Allah but he does not refrain from doing anything bad because of it.” (Hasan)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3106
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور نہ ہی منہیات سے باز رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٤١٢)، مسند احمد (٣/٣٧، ٤١، ٥٧) (ضعیف الإسناد )
3111Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ (تھن سے نکلا ہوا) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ١ ؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “No man will enter the Fire who weeps for fear of Allah, Most High, until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah, and the smoke of Hell will never be combined.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3107
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں پہنچایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی مجاہد فی سبیل اللہ جنت ہی میں جائے گا جہنم میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٨ (١٦٣٣)، والزہد ٨ (٢٣١١)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٥)، مسند احمد (٢/٢٩٨، ٤٥٤) (صحیح )
3112Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ نَارِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جاسکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے ١ ؎، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No man will enter the Fire who weeps for fear of Allah, Most High, until the milk goes back into the udders. And the dust (of Jihad) in the cause of Allah, and the smoke of Hell will never be combined.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3108
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے والا جہنم میں نہ جائے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3113Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کردیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ١ ؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Two will never be gathered together in the Fire: A Muslim who killed a disbeliever then tried his best and did not deviate. And two will never be gathered together in the lungs of a believer: Dust in the cause of Allah, and the odor of Hell. And two will never be gathered in the heart of a salve: Faith and envy.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3109
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم کی آگ کی لپٹ مجاہد کو نہیں چھو سکتی کیونکہ اس کا مقام جنت ہے۔ ٢ ؎: یعنی مومن کامل حاسد نہیں ہوسکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٩)، مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٥٣) (صحیح )
3114Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ : said: “The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in a man’s face, and stinginess and faith can never be combined in a slave’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3110
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پکا مومن ہوگا تو وہ تنگ دل و بخیل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٢)، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٤٢، ٤٤١) (صحیح )
3115Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے (یعنی جہاد) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہوسکتے، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in a slave’s lungs, and stinginess and faith can never be combined in a slave’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3111
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو شخص صحیح معنی میں مومن ہوگا وہ بخیل نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3116Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell will never be combined in the nostrils of a Muslim.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3112
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )
3117Sunan An Nasai

اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہوسکتے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The dust in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the nostrils of a Muslim, and stinginess and faith will never be combined in a Muslim man’s heart.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3113
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١١٢ (صحیح )