Sunan An Nasai 3101

جہاد سے متعلقہ احادیث

3101Sunan An Nasai

جہاد چھوڑ دینے پر وعید

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مرگیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ١ ؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ٢ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever dies without having fought or having thought of fighting, he dies on one of the branches of hypocrisy.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3097
Notes · وضاحت
١ ؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ٢ ؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (٩١٠)، سنن ابی داود/الجہاد ١٨ (٢٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٧)، مسند احمد (٢/٣٧٤) (صحیح )