جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی (کچھ) لاؤ۔ (جب وہ آگئی تو اس پر لکھا یا) چناچہ (زید بن ثابت ؓ نے) لکھا: لا يستوي القاعدون من المؤمنين اور عمرو بن ام مکتوم ؓ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ (وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ (میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا) تب یہ آیت غير أولي الضرر ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر ۔
It was narrated from Al Bara’ that the Prophet ﷺ said: “Bring me a shoulder blade of a camel, or a tablet, and write: Not equal are those of the believers who sit (at home).” ‘Amr bin Umm Maktum was behind him and he said: “Is there a concession for me?” Then the following was revealed: “Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih)