ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی مسلمان کے نتھنے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-’Ala’ bin Al-Lajlaj that he heard Abu Hurairah (RA) say: “Allah will never combine the dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell, in the lungs of a Muslim man, and Allah will never combine faith in Allah, and stinginess in the heart of a Muslim man.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3114
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ بخیل کامل مومن ہوسکتا ہے، اور نہ ہی کامل مومن بخیل ہوسکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت (کنجوسی) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔
It was narrated from Abu Al-Ala bin Al-Lajlaj that he heard Abu Hurairah say: "Allah will never combine the dust in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the smoke of Hell, in the lungs of a Muslim man, and Allah will never combine faith in Allah, and stinginess in the heart of a Muslim man.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3115
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہوجاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری ؓ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوجائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے ١ ؎۔
Yazid bin Abi Mariam said: "Abayah bin Rafi met me when I was walking to Friday prayers, and he said: Rejoice, for these steps you are taking are in the cause of Allah. I heard Abu Abs say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Anyone whose feet become dusty in the cause of Allah, he will be forbidden to the Fire.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3116
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے ١ ؎۔
Abu Ali At-Tujibi (said) that he heard Abu Raihanah say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The eye that stays awake in the cause of Allah will be forbidden to the Fire.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3117
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسی آنکھ والا جہنم میں نہ جائے گا بلکہ جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے ۔
It was narrated that Sahl bin Sad said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Going out before noon or after noon, in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, is better than this world and everything in it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3118
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔
It was narrated from Abu Abdur-Rahman Al-Hubuli that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Going out before noon and after noon, in the cause of Allah, is better than everything on which the sun rises and sets.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3119
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ١ ؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہوجانے کی کوشش کر رہا ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three, all of whom have a promise of help from Allah: The Mujahid who strives in the cause of Allah, the Mighty and Sublime; the man who gets married, seeking to keep himself chaste; and the slave who has a contract of manumission and wants to buy his freedom.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3120
Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہوجائے گا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے وفد میں تین (طرح کے لوگ شامل) ہیں (ایک) مجاہد (دوسرا) حاجی، (تیسرا) عمرہ کرنے والا ١ ؎۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The guests of Allah, the Mighty and Sublime, are three: The warrior, the pilgrim performing Hajj, and the pilgrim performing Umrah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3121
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ تینوں اللہ کے مقرب ہیں اور اس کے ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, has guaranteed to the one who strives in His cause, only going out for Jihad in His cause, and believing in His Word, that He will admit him to Paradise, or bring him back to his home from which he emerged, with whatever he has earned of reward, or spoils of war.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3122
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا ۔
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Allah has guaranteed: For the one who goes out in the cause of Allah, and nothing makes him do that except faith in Me, and Jihad in My cause - that He will admit him to Paradise whether he is killed or he dies, or He will return him to his home from which he departed with whatever he has earned of reward or spoils of war.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3123
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٢١١)، مسند احمد (٢/٤٩٤، ویأتي عند المؤلف ٥٠٢٥ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال (اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا (موت نہیں دے گا تو) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا ۔
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The parable of Mujahid (who strives in the cause of Allah) - and Allah knows best who strives in the cause of Allah - is that of one who fasts and prays Qiyam (continually). Allah has promised Mujahid (who strives in His cause), that He will either cause him to die and admit him to paradise, or, He will bring him back safely with whatever he had earned of reward or spoils of war
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3124
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پالیتے ہیں ١ ؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر (آخرت میں) محفوظ رہتا ہے ۔
Abdullah bin Amr said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: There is no raiding party that goes out in the cause of Allah and acquires some spoils of war, but they have been given two-thirds of their reward in this world instead of in the Hereafter, and there remains one-third (in the Hereafter). And if they do not acquire any spoils of war, then all of their reward (will come in the Hereafter).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3125
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جو مجاہد کفار سے جہاد کر کے مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹ آیا تو سردست اسے دو فائدے دنیا میں حاصل ہوگئے ایک سلامتی دوسرا مال غنیمت اور اللہ کے دشمنوں سے اس نے جہاد کا جو ارادہ کیا تھا اس کے سبب اسے اس کے اجر کا تیسرا حصہ آخرت میں ثواب کی شکل میں ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٤ (١٩٠٦)، سنن ابی داود/الجہاد ١٣ (٢٤٩٧)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (٢٧٨٥)، مسند احمد ٢/١٦٢٩ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا (یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کرلوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا ۔
It was narrated from Ibn Umar, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), of what he related from his Lord, the Mighty and Sublime: "And of My slaves who goes out as a Mujahid striving in the cause of Allah, seeking my pleasure, I guarantee that I will bring him back with whatever he had earned as reward or spoils of war, and if I take his (soul) I will forgive him and have mercy on him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3126
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے (اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں (واقعی) جہاد کرنے والا کون ہے) ۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The parable of a Mujahid who strives in the cause of Allah - and Allah knows best who in His cause - is that of one who fasts, prays Qiyam, focuses with proper humility, bows and prostrates.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3127
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جتنے وقت تک مجاہد جہاد میں مشغول رہے اتنا ہی وقت تک نماز پڑھنے والا، اللہ سے ڈرنے والا، رکوع اور سجدہ کرنے والا جس ثواب عظیم کا مستحق ہے اسی ثواب عظیم کا مستحق وہ مجاہد بھی ہے جس خالص نیت سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو (یعنی وہی درجہ رکھتا ہو) آپ نے فرمایا: میں نہیں پاتا کہ تو وہ کرسکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے (گھر سے) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہوجاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو (اور پڑھتے ہی رہو) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو (رکھتے جاؤ) افطار نہ کرو ، اس نے کہا یہ کون کرسکتا ہے؟ ١ ؎۔
Abu Hurairah said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Tell me of an action that is equal to Jihad. He said: I cannot. When the Mujahid goes out, can you enter the Masjid and stand in prayer and never rest, and fast and never break your fast? He said: Who can do that?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3128
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی نہیں کرسکتا ہے، معلوم ہوا کہ مجاہد جس درجہ پر فائز ہے اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔
It was narrated from Abu Dharr that he asked the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) which deed was best. He said: "Belief in Allah and Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3129
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہوجائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) which deed is best. He said: Faith in Allah. He said: Then what? He said: Jihad in the cause of Allah. He said: Then what? He said: Hajjun Mabrur." [1] [1] Hajj, that is accepted, or free of sin.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3130
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوسعید! جو شخص راضی ہوگیا اللہ کے رب ١ ؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کرلیا ٢ ؎ اور محمد ﷺ کی نبوت ٣ ؎ کا اقرار کرلیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی ٤ ؎، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے (اور درجے بھی کیسے؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (یہ دوسری عبادت) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Abu Saeed! Whoever is content with Allah as Lord, Islam as his religion and Muhammad as Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), then he is guaranteed Paradise." Abu Saeed found this amazing and said: "Say it to me again, O Messenger of Allah." So he did that, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "And there is something else by means of which a person may be raised one hundred degrees in Paradise, each of which is like that which is between the Heaven and the Earth." He said: "What is it, O Messenger of Allah? He said: "Jihad in the cause of Allah, Jihad in the cause of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3131
Notes · وضاحت
١ ؎: رب اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے، جس کے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی ضروریات مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا، بغیر اضافت کے اس کا استعمال اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں، اور اسی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ آدمی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، کیونکہ وہی برتر و بالا مقدس ذات عبادت کی مستحق ہے یہاں رب ماننے کا معنی و مطلب اس رب کے لیے ہر طرح کی عبادت کو خاص کرنا ہے، اس لیے کہ اللہ کو کائنات کے خالق ومالک ماننے اور اس کی ربوبیت کو تسلیم کرنے میں مشرکین عرب و غیر عرب کو اعتراض نہ تھا، ان کا اصل مرض یہی تھا کہ وہ اللہ کو رب اور خالق ومالک مانتے ہوئے اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ٢ ؎: اسلام کو بطور دین تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے طریقہ کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اپنی زندگی میں نہ اپنائے۔ ٣ ؎: محمد ﷺ کو نبی تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اوامرو نواہی کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔ اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں آپ کے حکم کو بغیر کسی بحث و اعتراض کے قبول کرے۔ ٤ ؎: بشرطیکہ اس نے شرک، بدعات کی ان میں آمیزش نہ کی ہو اور بدعملی کا شکار نہ ہوا ہو۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا (بلا ہجرت کے) اپنے وطن میں مرا ہو، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے، ہم صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہوجائیں؟ آپ نے فرمایا: جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہوگی تو میں کسی سریہ (فوجی دستے) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، اور پھر قتل کیا جاؤں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Ad-Darda said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever established Salah, pays Zakah, and dies not associating anything with Allah, he has a right from Allah the Mighty and Sublime, that He will forgive him, whether he emigrated, or died in his birthplace. We said: O Messenger of Allah! Shall we not tell the people about it so that they may rejoice? He said: In Paradise there are one hundred levels, (the distance) between each two of which is like (the distance) between the Heaven and the Earth; Allah has prepared them fro the Mujahidin who strive in His cause. Were it not that it would be too difficult for the believers and I cannot find mounts for them - and they do not like to stay behind if I go out (on a campaign) - I would not have stayed behind from any expedition. I wish that I could be killed then brought back to life, then killed again.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3132
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح میں بلند سے بلند تر جنت کا درجہ و مرتبہ حاصل کرسکوں گا تو تم بھی صرف جنت میں چلے جانے کو کافی نہ سمجھو بلکہ بلند سے بلند درجے حاصل کرنے کی کوشش کرو، گویا مغفرت کے لیے ایمان کافی تو ہے لیکن جنت میں ترقی درجات جہاد پر موقوف ہے۔
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو مجھ پر ایمان لایا، اور میری اطاعت کی، اور ہجرت کی، تو میں اس کے لیے جنت کے احاطے (فصیل) میں ایک گھر اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں۔ اور میں اس شخص کے لیے بھی جو مجھ پر دل سے ایمان لائے، اور میری اطاعت کرے، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے ضمانت لیتا ہوں جنت کے گرد و نواح میں (فصیل کے اندر) ایک گھر کا، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بلند بالا خانوں (منزلوں) میں سے بھی ایک گھر (اونچی منزل) کا۔ جس نے یہ سب کیا (یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد) اس نے خیر کے طلب کی کوئی جگہ نہ چھوڑی ا ؎ اور نہ ہی شر سے بچنے کی کوئی جگہ ٢ ؎ جہاں مرنا چاہے مرے ٣ ؎۔
It was narrated from Amr bin Malik Al-Janbi that he heard Fadalah bin Ubaid say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: I am a Zaim - and the Zaim is the guarantor - for the one who believes in me and accepts Islam, and emigrates: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise. And I am a guarantor, for the one who believes in me and accepts Islam, and strives in the cause of Allah: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise and a house in the highest chambers of Paradise. Whoever does that and seeks goodness wherever it is, and avoids evil wherever it is, may die wherever he wants to die.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3133
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خیر کے طلب کے لیے کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں وہ پہنچا نہ ہو۔ ٢ ؎: یعنی شر سے اپنے آپ کو بچانے اور اس سے محفوظ رکھنے کے لیے شر کی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اس نے اپنے آپ کو دور نہ رکھا ہو۔ ٣ ؎: یعنی ہر طرح کا خیر اس نے حاصل کرلیا ہے، اور ہر طرح کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے، اب اس کے لیے فکر و غم کی کوئی بات نہیں ہے۔