Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 158 of 289

3138Sunan An Nasai

جو کوئی اسلام قبول کرے اور جہاد کرے ایسے شخص کا ثواب

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ، وَسَمَاءَكَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ، فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَتُقَاتِلُ، فَتُقْتَلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ، فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ.

سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا۔ کہا: تم اسلام لاتے ہو؟ اپنے دین کو، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے؟ (یہ اچھی بات نہیں) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم ہجرت کر رہے ہو؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے (جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی (اس کے بہکانے میں نہیں آیا) اور ہجرت کی۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم جہاد کرتے ہو؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کردینا ہے۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کردیئے جاؤ گے۔ تمہاری بیوی کی شادی کردی جائے گی، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے (اپنی رحمت سے) جنت میں داخل فرمائے، اور جو شخص (اس راہ میں) شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہوگیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اگر وہ (اس راہ میں) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی (اپنے فضل و کرم سے) جنت میں داخل فرمائے ۔

It was narrated that Sabrah bin Abi Fakih said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: the Shaitan sits in the paths of the son of Adam. He sits waiting for him, in the path to Islam, and he says: Will you accept Islam, and leave your religion, and the religion of your forefathers? But he disobeys him and accepts Islam. Then he sits waiting for him, on the path to emigration, and he says: Will you emigrate and leave behind your land and sky? The one who emigrates is like a horse tethered to a peg. But he disobeys him and emigrates. Then he sits, waiting for him, on the path to Jihad, and he says: Will you fight in Jihad when it will cost you your life and your wealth? You will fight and be killed, and your wife will remarry, and your wealth will be divided. But he disobeys him and fights in Jihad. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever does that, then he had a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to paradise. Whoever is killed, he has a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to Paradise. If he is drowned, he has a right from Allah that He will admit him to paradise, or whoever is thrown by his mount and his neck is broken, he had a right from Allah that he will admit him to Paradise.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3134
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٨٠٨)، مسند احمد (٣/٤٨٣) (صحیح )
3139Sunan An Nasai

جو شخص اللہ کی راہ میں ایک جوڑا دے

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عَلَى الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا مِنْ ضَرُورَةٍ هَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ١ ؎، جنت میں (اسے مخاطب کر کے) کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے (تیری) بہتر چیز۔ تو جو کوئی نمازی ہوگا اسے باب صلاۃ (صلاۃ کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی مجاہد ہوگا اسے باب جہاد (جہاد کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہوگا اسے باب صدقہ (صدقہ و خیرات والے دروازہ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہوگا اسے باب ریان (سیراب و شاداب دروازہ) سے بلایا جائے گا ۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ٢ ؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔

Abu Hurairah used to narrate that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, he will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of those who pray, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who participated in Jihad, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr As-Siddiq said: "O Messenger of Allah! No distress, or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, and I hope that you will be one of them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3135
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جوڑا کی شکل میں دے، یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٤٠ (صحیح )
3140Sunan An Nasai

اس مجاہد کا بیان جو کہ نام الہی بلند کرنے کے واسطے جہاد کرے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ١ ؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ٢ ؎ بلند کرنے کے لیے لڑے ۔

Abu Musa Al-Ashari said: "A Bedouin came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: A man fights for fame, or he fights for the spoils of war, or he fights to show off. Who is the one who is fighting in the cause of Allah? He said: The one who fights so that the word of Allah will be supreme is the one who is fighting in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3136
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ٢ ؎: یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٥ (٢١٨٣)، الجہاد ١٥ (٢٨١٠)، الخمس ١٠ (٣١٢٦)، التوحید ٢٨ (٧٤٥٨)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٢ (١٩٠٤)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٦ (٢٥١٨)، سنن الترمذی/فضائل ١٦ (١٦٤٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٣ (٢٧٨٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٩)، مسند احمد (٤/٣٩٢، ٣٩٧، ٤٠١، ٤٠٢، ٤٠٥، ٤١٧) (صحیح )
3141Sunan An Nasai

اس شخص کا بیان جو کہ بہادر کہلانے کے واسطے جہاد کرے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ، لِيُقَالَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ ؟ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أَفْهَمْ تُحِبُّ كَمَا أَرَدْتُ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ لِيُقَالَ إِنَّهُ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ.

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ (کی مجلس) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ ؓ سے کہا: شیخ! رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا، وہ تین (طرح کے لوگ) ہوں گے، ایک وہ ہوگا جو شہید کردیا گیا ہوگا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی (ان) نعمتوں کی پہچان کروائے گا (جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں) ۔ وہ انہیں پہچان (اور تسلیم کر) لے گا۔ اللہ (اس) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کردیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چناچہ تجھے ایسا کہا گیا ١ ؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کرلے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہوگا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ (اس سے) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چناچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔ ایک اور شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہوگی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ (اس سے) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چناچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں تحب (کا مفہوم) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے تحب کے آگے أن ينفق فيها کہا۔

It was narrated from Abu Hurairah, that one of the people of Ash-Sham said to him: "O Shaikh, tell me of a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." (He said: "Yes; I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)) say: The first of people for whom judgment will be passed on the Day of Resurrection are three. A man who was martyred. He will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I fought for Your sake until I was martyred. He will say: You are lying. You fought so that it would be said that so-and-so is brave, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the second will be) a man who acquired knowledge and taught others, and read Quran. He will be brought, and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I acquired knowledge and taught others, and read the Quran for Your sake. He will say: You are lying. You acquired knowledge so that it would be said that you were a scholar; and you read Quran so that it would be said that you were a reciter, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the third will be) a man whom Allah made rich and gave him all kinds of wealth. He will be brought and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I did not leave any way that You like wealth to be spent - Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: I did not understand "what You like" as I wanted to [1] - "but I spent it." He will say: "You are lying. You spent it so that it would be said that he was generous, and it was said." Then he will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire." [1] That is, he did not hear or understand what came after it as well as he wanted to, but it was similar to what follows regarding the spending. Similar was stated by Shaikh Abdur-Rahman Al-Funjani in his notes on the text, according to Al-Funjani in his commentary At-Taiqat As-Salafiyyah (2:51)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3137
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیری جرأت و بہادری کی دنیا میں بڑی تعریفیں ہوئیں اور بڑا چرچا رہا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٣ (١٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٢)، مسند احمد (٢/٣٢٢، ٣٢١) (صحیح )
3142Sunan An Nasai

جس شخص نے راہ اللہ میں جہاد تو کیا لیکن اس نے صرف ایک رسی حاصل کرنے کی نیت کی

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى.

عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال (اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ١ ؎۔

It was narrated from Yahya bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit that his grandfather said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever fights in the cause of Allah intending only to get an Iqal, he will have what he intended.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3138
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی اس لیے وہ ثواب سے بھی محروم رہے گا، رسی ایک معمولی چیز ہے اس کے حصول کی نیت سے انسان اگر ثواب سے محروم ہوسکتا ہے، تو دین کا کام کرنے والا اگر کسی بڑی چیز کے حصول کی نیت کرے، اور اللہ کی رضا مندی مطلوب نہ ہو تو اس کا کیا حال ہوگا!۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٢٠)، مسند احمد (٥/٣١٥، ٣٢٠، ٣٢٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٤ (٢٤٦٠) (حسن )
3143Sunan An Nasai

جس شخص نے راہ اللہ میں جہاد تو کیا لیکن اس نے صرف ایک رسی حاصل کرنے کی نیت کی

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْيَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يُرِيدُ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ، مَا نَوَى.

عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جہاد کیا اور اس نے (مال غنیمت میں) صرف عقال (یعنی ایک معمولی چیز) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا ١ ؎۔

It was narrated from Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever fights seeking only an Iqal, then he will have what he intended.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3139
Notes · وضاحت
١ ؎: مزید اسے اور کوئی چیز از روئے ثواب بشکل انعام و اکرام جنت میں حاصل نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣١٤٠ (حسن )
3144Sunan An Nasai

اس غزوہ کرنے والے شخص کا بیان جو کہ مزدوری اور شہرت حاصل کرنے کی تمنا رکھے

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ.

ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے کچھ نہیں ہے ١ ؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ ﷺ اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو ۔

It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: What do you think of a man who fights seeking reward and fame - what will he have? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He will not have anything. He repeated it three times, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: He will not have anything. Then he said: Allah does not accept any deed, except that which is purely for Him, and seeking His Face.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3140
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٨٨١)، مسند احمد (٤/١٢٦) (حسن صحیح )
3145Sunan An Nasai

جو شخص راہ اللہ میں اونٹنی کے دوبارہ دودھ اتارنے تک جہاد کرے اس کا جرو ثواب

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًّا، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَامَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ، فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ.

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو (مسلمان) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی (یعنی ذرا سی دیر کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مرجائے یا قتل کردیا جائے تو (دونوں ہی صورتوں میں) اسے شہید کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوجائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ (زخمی ہونے کے وقت) جیسا کچھ تھا، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہوگا، رنگ زعفران کی طرح اور (اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہوگا بلکہ اس کی) خوشبو مشک کی ہوگی، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہوگی ١ ؎۔ ١ ؎: یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہوگا۔

Muadh bin Jabal said that he heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Whoever fights in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, for the length of time between two milkings of a she-camel, Paradise is guaranteed for him. Whoever asks Allah to be killed (in Jihad) sincerely, from his heart, then he dies or is killed, he will have the reward of a martyr. Whoever is wounded or injured in the cause of Allah, it will come on the Day of Resurrection bleeding the most it ever bled, but its color will be like saffron, and its fragrance will be like musk. Whoever is wounded in the cause of Allah, upon him is the seal of the martyrs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3141
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٤٢ (٢٥٤١)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٩ (١٦٥٤) مختصرا، ٢١ (١٦٥٦)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٩)، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٥، ٢٤٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٥ (٢٤٣٩) (صحیح )
3146Sunan An Nasai

راہ خداوندی میں تیر پھینکنے والوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: يَا عَمْرُو: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى بَلَغَ الْعَدُوَّ، أَوْ لَمْ يَبْلُغْ كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، كَانَتْ لَهُ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ، عُضْوًا بِعُضْوٍ.

عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہوگیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہوگی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا ۔

It was narrated from Shurahbil bin As-Simt that he said to Amr bin Abasah: "O Amr! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)." He said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever develops one gray hair in the cause of Allah, Most High, it will be light for him on the Day of Resurrection. Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, Most High, whether it reaches the enemy or not, it will be as if he freed a slave. Whoever frees a believing slave, it will be a ransom for him from the Fire, limb by limb.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3142
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٦)، سنن ابی داود/العتق ١٤ (٣٩٦٦) (قولہ ” من أعتق “ الخ فحسب)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٩ (١٦٣٥) (إلی قولہ: ” نورا یوم القیامة “ )، مسند احمد (٤/١١٢، ٣٨٦) (صحیح )
3147Sunan An Nasai

راہ خداوندی میں تیر پھینکنے والوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ.

ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔

It was narrated that Abu Najih As-Sulami said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah and it hits the target, it will raise him one level in Paradise. That day I shot sixteen arrows that hit their targets." He said: "And I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, it is equal to the reward of freeing a slave.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3143
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٤ (٣٩٦٥) مطولا، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١١ (١٦٣٨) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٨)، مسند احمد (٤/١١٣، ٣٨٤) (صحیح )
3148Sunan An Nasai

راہ خداوندی میں تیر پھینکنے والوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: يَا كَعْبُ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ارْمُوا، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً، قَالَ ابْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، وَلَكِنْ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ.

شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ ؓ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی ، انہوں نے (پھر) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم ﷺ کی (کوئی اور) حدیث بیان کیجئے، لیکن (ڈر کر اور بچ کر) بےکم وکاست (سنائیے) ۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (دشمن کو) تیر مارو، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ، (یہ سن کر) ابن النحام نے کہا: اللہ کے رسول! وہ درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: (سن) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے (جس کا فاصلہ بہت کم ہے) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ۔

It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said to Kab bin Murrah: "O Kab! Tell us a Hadith from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and be careful." He said: "I heard him say: Whoever develops one gray hair in Islam, in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection." He said to him: "Tell us about the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and be careful." He said: "I heard him say: Shoot, and whoever hits the enemy with an arrow, Allah will raise him one degree in status thereby." Ibn An-Nahhan said: O Messenger of Allah, what is a degree? He said: It is not like the doorstep of your mother; [1] rather (the distance) between two degrees is (that if) a hundred years." [1] As explained after it; the degree of distance is greater than such a degree in this world.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3144
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٤ (٣٩٦٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ٤ (٢٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٣)، مسند احمد (٤/٢٣٥-٢٣٦) (صحیح )
3149Sunan An Nasai

راہ خداوندی میں تیر پھینکنے والوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّيُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ ؓ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہوگیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا ۔

It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said: "I said: O Amr bin Abasah! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) without forgetting or omitting anything. He said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, and it reaches the enemy, whether it misses or hits, it will be as if he freed slave. Whoever frees a believing slave, that will be a ransom for him, limb by limb, from the Fire of Hell. Whoever develops a gray hair in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3145
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٤)، مسند احمد (٤/١١٣) (صحیح )
3150Sunan An Nasai

راہ خداوندی میں تیر پھینکنے والوں سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ.

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (پہلا) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، (دوسرا) تیر کا چلانے والا (تیسرا) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا (تینوں ہی جنت میں جائیں گے) ۔

It was narrated from Uqbah bin Amir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, will admit three people into Paradise for one arrow: The one who makes it, intending it to be used for a good cause, the one who shoots it, and one who passes it to him.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3146
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٢٤ (٢٥١٣) مطولا، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” خالد بن زید یا یزید “ لین الحدیث ہیں) ویأتي عند المؤلف في الخیل ٨ برقم ٣٦٠٨ حدیث کے بعض دوسرے الفاظ وطرق کے لیے دیکھئے: سنن ابی داود ٢٥١٣ )
3151Sunan An Nasai

اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہوگا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ١ ؎ تو قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہوگا۔ رنگ خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No one is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds bleeding the color of blood, but with the fragrance of musk.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3147
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠ (٢٨٠٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٩٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٥)، موطا امام مالک/الجہاد ١٤ (٢٩)، مسند احمد (٣/٢ ٢٤، ٣١، ٣٩٨، ٤٠٠، ٥١٢، ٥٣١، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الجہاد ١٥ (٢٤٥٠) (صحیح )
3152Sunan An Nasai

اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ، إِلَّا أَتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ.

عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں (یعنی شہداء کو) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا ہوگا، اور خوشبو اس کی مشک کی ہوگی ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Thalabah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Wrap them up with their blood, for there is no wound incurred in the cause of Allah, but he will come on the Day of Resurrection bleeding with the color of blood, but its fragrance will be that of musk.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3148
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ نے ان شہداء کے بارے میں فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخم کھا کر شہید ہوگئے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٠٤ (صحیح )
3153Sunan An Nasai

جس وقت دشمن زخم لگائے تو کیا کہنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، وَوَلَّى النَّاسُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَفِيهِمْ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَأَدْرَكَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا أَنْتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا قَالَ: كَمَا أَنْتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَيُقَاتِلُ قِتَالَ مَنْ قَبْلَهُ، حَتَّى يُقْتَلَ، حَتَّى بَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لِلْقَوْمِ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، فَقَاتَلَ طَلْحَةُ قِتَالَ الْأَحَدَ عَشَرَ حَتَّى ضُرِبَتْ يَدُهُ فَقُطِعَتْ أَصَابِعُهُ، فَقَالَ: حَسِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ لَرَفَعَتْكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، (اس وقت) رسول اللہ ﷺ بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ ؓ بھی تھے ١ ؎۔ مشرکین نے انہیں (تھوڑا دیکھ کر) گھیر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ہماری طرف سے کون لڑے گا ؟ طلحہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں (آپ کا دفاع کروں گا) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جیسے ہو ویسے ہی رہو تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں (دفاع کیلئے تیار ہوں) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے ۔ پھر آپ نے مڑ کر (سب پر) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: قوم کی کون حفاظت کرے گا ؟ طلحہ ؓ (پھر) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: (تم ٹھہرو) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو ، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) پھر وہ صحابی (مشرکین سے) لڑے اور شہید ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے آواز لگائی۔ قوم کی کون حفاظت کرے گا ؟ طلحہ ؓ نے (پھر) کہا: میں کروں گا (یہ کہہ کر) پہلے گیارہ (شہید ساتھیوں) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ (اور لڑتے رہے) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گرگئیں۔ انہوں نے کہا: حس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم (حس کے بجائے) بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے ، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کردیا (یعنی وہ مکہ لوٹ گئے) ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "On the day of Uhud, the people ran away, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was in one position among twelve men of the Ansar, one of whom was Talhah bin Ubaidullah. He said: Who will face the people? Talhah said: I will. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Stay where you are. One of the Ansar said: I will, O Messenger of Allah. He said: You (go ahead). So he fought until he was killed. Then he turned and saw the idolators. He said: Who will face the people? Talhah said: I will. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Stay where you are. One of the Ansar said: I will, O Messenger of Allah. He said: You (go ahead). So he fought until he was killed. This carried on, and each man of the Ansar went out to face them and fought like the one before him, and was killed, until only the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and Talhah bin Ubaidullah were left. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Who will face the people? Talhah said: I will. So Talhah fought like the eleven before him, until his hand was struck, and his fingers were cut off, and he exclaimed in pain. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If you had said Bismillah (in the Name of Allah), the angels would have lifted you up with the people looking on. Then Allah drove back the idolators.

حسن من قوله فقطعت أصابعه وما قبله يحتمل التحسين وهو على شرط مسلمصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3149
Notes · وضاحت
١ ؎: طلحہ بن عبیداللہ کا شمار اگرچہ ان بارہ انصاری صحابہ میں ہوا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے، لیکن یہ انصاری نہیں ہیں، یہ اور بات ہے کہ تغلیباً سبھی کو انصاری کہا گیا ہے۔ حس: یہ کلمہ درد کی شدت کے وقت بولا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٣)، (حسن من قولہ ” فقطعت أصابعہ…“ وماقبلہ یحتمل التحسین وہو شرط مسلم )
3154Sunan An Nasai

جس کسی کو اس کی (اپنی) تلوار پلٹ کر لگ جائے اور وہ شہید ہوجائے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابنا كعب بن مالك، أن سلمة بن الأكوع، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْتَجِزَ بِكَ ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقْتَ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ هَذَا ؟ قُلْتُ: أَخِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قُلْتُ: إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ.

سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ ﷺ کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کردیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑگئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ١ ؎ سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام (یعنی جوش و خروش والا کلام) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ٢ ؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچی بات کہی ہے ۔ (دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت (اطمینان قلب) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے (تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رجزیہ (اشعار) کس نے کہے ہیں؟ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے (بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے ١ ؎۔ ابن شہاب زہری (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ غلط کہتے ہیں (بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے ، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے دو اجر ملیں گے ۔

Salamah bin Al-Akwa said: "On the day of Khaibar, my brother fought fiercely alongside the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), then his sword recoiled upon him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), complaining about that, said: A man has died by his own weapon." Salamah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) returned from Khaibar and I said: O Messenger of Allah, do you permit me to recite some lines of Rajaz verse to you? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) gave him permission but Umar bin Al-Khattab (RA) said: "Think what you are saying." "I said: By Allah, if Allah had not guided us we would not have been guided. We would not have given in charity nor prayed The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: You have spoken the truth. (I continued:) Send down tranquility upon us, And make us steadfast when we meet the enemy. For the idolators have transgressed against us. When I completed my Rajaz verse, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Who said that? I said: My brother. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: May Allah have mercy on him. I said: O Messenger of Allah, some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, and they are saying that he is a man who died by his own weapon. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: He died striving as a Mujahid." Ibn Shihab said: "Then I asked a son of Salamah bin Al-Akwa, and he narrated a similar report to me from his father, except that he said: When I said: Some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: They lied. He died striving as Mujahid, and he will have a twofold reward, and he gestured with two of his fingers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3150
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحیح موت مرا ہے یا حرام موت کچھ پتہ نہیں۔ ٢ ؎: یعنی دیکھنا کوئی بات غیر مناسب نہ نکل جائے۔ ٣ ؎: یہ اور بات ہے کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تلوار اتفاقاً خود اسی کو لگ گئی لیکن یہ خودکشی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٤٣ (١٨٠٢)، سنن ابی داود/الجہاد ٤٠ (٢٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٢)، مسند احمد (٤/٤٦) (صحیح )
3155Sunan An Nasai

راہ الٰہی میں شہید ہونے کی تمنا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ سَرِيَّةٍ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ ثَلَاثًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کرلے جا سکوں؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے۔ (اس لیے میں ہر سریہ (فوجی دستہ) کے ساتھ نہیں جاتا) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں ، آپ نے ایسا تین بار فرمایا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would not have stayed behind from any expedition. But they could not find mounts, and I could not find any mounts for them, and it would be too hard for them to stay behind when I went out. And I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then brought back to life, then killed," three times.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3151
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١١٩ (٢٩٧٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، موطا امام مالک/الجہاد ١٤ (٢٧)، مسند احمد (٢/٤٢٤، ٤٧٣، ٤٩٦، (تحفة الأشراف: ١٢٨٨٥) (صحیح )
3156Sunan An Nasai

راہ الٰہی میں شہید ہونے کی تمنا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ بِأَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں۔ (ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: By the One in Whose hand is my soul, were it not that some men among the believers would not like to stay behind when I went out (to fight), and I could not find any mounts for them, I would not have stayed behind from any campaign that fought in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then be brought back to life, then killed.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3152
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٧ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣١٥٤) (صحیح )
3157Sunan An Nasai

راہ الٰہی میں شہید ہونے کی تمنا کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، غَيْرُ الشَّهِيد. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ.

ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ١ ؎، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کردیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات، شہر و قصبات کے لوگ ہوں ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn Abi Amirah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no Muslim soul among the people that is taken by its Lord and wishes it could come back to you, even if it had this world and everything in it, except the martyr." Ibn Abi Amirah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If I were to be killed in the cause of Allah, that would be dearer to me that if all the people of the deserts and the cities were to be mine."[1] [1] Meaning: If they were all my slaves and I set them free.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3153
Notes · وضاحت
١ ؎: شہید ہی کی ایک ایسی ہستی ہے جو باربار دنیا میں آنا اور اللہ کے راستے میں مارا جانا پسند کرتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی سب کے سب میرے غلام ہوں اور میں انہیں آزاد کرتا رہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٢٢٧)، مسند احمد (٤/٢١٦) (حسن )