جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے (رسول اللہ ﷺ) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہوگیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ہو گے ، (یہ سنتے ہی) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، (میدان جنگ میں اتر گیا) جنگ کی اور شہید ہوگیا۔
It was narrated that Amr said: "I heard Jabir say: A man said on the day of Uhud: If I am killed in the cause of Allah, where do you think I will be? He said: In Paradise. He threw down some dates that were in his hand and fought until he was killed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3154
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: سائل اب کہاں ہے ؟ وہ آدمی بولا: ہاں (جی) میں حاضر ہوں، (یا رسول اللہ! ) آپ نے فرمایا: تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں (بخش دے گا) سوائے قرض کے، جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) while he was delivering a Khutbah from the Minbar, and he said: If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? He said: Yes. Then he fell silent for a while. Then he said: Where is the one who was asking just now? The man said: Here I am. He said: What did you say? He said: What did you say? He said: I said: I said: If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward,facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? He said: Yes, except for debt. Jibril told me that just now.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3155
Notes · وضاحت
١ ؎: قرض معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ بندے کا حق ہے، اس کے ادا کرنے یا بندہ کے معاف کرنے سے ہی اس سے چھٹکارا ملے گا، گویا قرض دار ہونا یہ باعث گناہ نہیں ہے بلکہ طاقت رکھتے ہوئے قرض ادا نہ کرنا یہ باعث گناہ ہے۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کردیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے آواز دے کر اسے بلایا۔ (راوی کو شبہ ہوگیا بلایا) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے (اس سے) کہا: تم نے کیسے کہا تھا ؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "A man came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes. When the man turned away, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) called him back and said: What did you say? He repeated his question, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Yes, except debt. Jibril told me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3156
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے لوگوں کو (ایک دن) خطاب فرمایا: اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں ، (یہ سن کر) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کردیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض (حقوق العباد) کے سوا سب کچھ معاف ہوجائے گا۔ کیونکہ جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Qatadah that he heard Abu Qatadah narrate from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم, that he stood up among them and said that Jihad in the cause of Allah and belief in Allah are the best of deeds. Then a man stood up and said: "O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah, will Allah forgive my sins? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, if you are killed in the cause of Allah, and you are patient and seek reward, and you are facing the enemy, not running way - except for debt. Jibril (علیہ السام) told me that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3157
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر (کھڑے خطاب فرما رہے) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کردیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو (تو قرض معاف نہیں ہوگا) ۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: "A man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was on the Minbar and said: O Messenger of Allah, do you think that if I wield this sword of mine in the cause of Allah, with patience and seeking reward, facing the enemy, and not running away, will Allah forgive my sins? He said: Yes. When he turned away, he called him back and said: Jibril says: unless you are in debt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3158
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو (اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ (صرف شہید ہے) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Kathir bin Murrah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no soul on Earth that dies, and is in a good position before Allah, that would like to come back to you, even if it had all this world, except the one who is killed (in the cause of Allah); he wishes that he could come back and be killed again.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3159
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة ٢٩ (١٨٧٧) مسند احمد (٥/٣١٨، ٣٢٢) (حسن صحیح )
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ (میں جاؤں) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہوگی ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: A man from among the people of Paradise will be brought and Allah, the Mighty and Sublime, will say: "O son of Adam, how do you find your place (in Paradise)?" He would say: "O Lord, it is the best place." He will say: "Ask and wish (for whatever you want)." He would say: "I ask You to send me back to the world so that I may be killed in Your cause ten time" - because of what he sees of the virtue of martyrdom.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3160
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The martyr does not feel the pain of being killed, except as any one of you feels a pinch.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3161
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا ١ ؎۔
Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever asks Allah, the mighty and Sublime, sincerely for martyrdom, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even of he dies in his bed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3162
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ اسے بھی جنت میں انہیں کی طرح مقام و مرتبہ اور گھر عطا کرے گا۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہوگا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہوگیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مرگیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مرگیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مرگئی تو وہ بھی شہید ہے ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are five things, whoever dies of any of them is a martyr. The one who is killed in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of an abdominal complaint in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of the plague in the cause of Allah is a martyr; and the woman who dies in childbirth in the cause of Allah is a martyr.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3163
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا (مقدمہ) پیش کریں گے، شہید لوگ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا: ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے ١ ؎۔
It was narrated from Al-Irbad bin Sariyah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The martyrs and those who dies in their beds referred a dispute to our Lord concerning those who dies of the plague. The martyrs said: Our brothers were killed as we were killed. And those who dies in their beds said: Our brothers dies on their beds as we died. Our Lord said: Look at their wounds; if their wounds; if their wounds are like the wounds of those who were killed then they are of them and belong with them. And their wounds were like their (the martyrs) wounds.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3164
Notes · وضاحت
١ ؎: شہداء کا مقصد اس جھگڑے سے یہ ہے کہ طاعون سے مرنے والوں کے مراتب و درجات ہماری طرح ہوجائیں جب کہ بستروں پر وفات پانے والوں کا جھگڑا محض اس لیے ہوگا کہ طاعون سے مرنے والوں کی طرح ہمیں بھی شہداء کا درجہ ملنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ٩٨٨٩)، مسند احمد (٤/١٢٨، ١٢٩) (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے ، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allah, the Mighty and Sublime, likes it when there are two men, one of whom killed the other, then they both enter Paradise." And another time he said: "He laughs at two men, one of whom killed the other, then they both entered Paradise.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3165
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ (دونوں لڑتے ہیں) ایک دوسرے کو قتل کردیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے ۔ (اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں) ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) Allah, the Mighty and Sublime, laughed on two men, both entered Paradise. The first one fought in the cause of Allah and was killed, then Allah accepted the repentance of the one who killed him, and he fought and was martyred.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3166
سلمان الخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک مہینے کے روزے و نماز کا ثواب ملے گا، اور جو پہرہ دینے کی حالت میں مرگیا اسے اسی طرح کا اجر برابر ملتا رہے گا، اور اس کا رزق بھی جاری کردیا جائے گا، اور وہ فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Salman Al-Khair that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever guards Ribat (the frontier) for one day and one night, will be given a reward like that for fasting and praying Qiyam for a month, and whoever dies at Ribat (guarding the frontier) will be rewarded, and he will be given provision, and he will be kept safe from Al-Fattan."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3167
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ منکر نکیر اور قبر و حشر کے فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا، اور پہرہ داری کی وجہ سے اس کے لیے ثواب ہمیشہ جاری رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٠ (١٩١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٦ (١٦٦٥)، مسند احمد (٥/٤٤٠، ٤٤١) (صحیح )
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اور اگر وہ (اس دوران) مرگیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا۔ اور (منکر و نکیر کے) فتنوں سے محفوظ ہوجائے گا، (یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے) اور اس کے لیے اس کا رزق (جو شہداء کا رزق ہے) جاری کردیا جائے گا ۔
It was narrated that Salman said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever guards Ribat (the frontier) in the cause of Allah for one day and one night, he will have (a reward) like that of fasting and praying Qiyam for a month. If he dies he will continue to receive reward for what he did, and he will be kept safe from Al-Fattan, and he will be given provision.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3168
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: (جہاد کے دنوں میں) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Zurah bin Mabad: "Abu Salih, the freed slave of Uthman, said: I heard Uthman bin Affan (RA) say: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Ribat (guarding the frontier) for one day in the cause of Allah is better in rank than a thousand days spent within the residence.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3169
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ کے راستے (جہاد) کا ایک دن اس کے سوا کے ہزار دن سے بہتر ہے ۔
It was narrated that Abu Salih, the freed slave of Uthman, said: "Uthman bin Affan (RA) said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: A day in the cause of Allah is better than a thousand days doing anything else.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3170
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان ؓ کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان ؓ عبادہ بن صامت ؓ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: (خواب میں) مجھے میری امت کے کچھ مجاہدین دکھائے گئے وہ اس سمندر کے سینے پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے ، یا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ (اس جگہ اسحاق راوی کو شک ہوگیا ہے (کہ ان کے استاد نے ملوک على الأسرة کہا، یا مثل الملوک على الأسرة کہا)۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ سو گئے۔ (اور حارث کی روایت میں یوں ہے۔ آپ سوئے) پھر جاگے، پھر ہنسے پھر میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے (جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا) فرمایا: مجھے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہ تھے، یا تختوں پر بیٹھے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں شامل فرمائے، آپ نے فرمایا: تم (سمندر میں جہاد کرنے والوں کے) پہلے گروپ میں ہوگی۔ (انس بن مالک راوی حدیث فرماتے ہیں) پھر وہ معاویہ ؓ کے زمانہ میں سمندری سفر پر جہاد کے لیے نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہوگئیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went to Quba he used to come to Umm Haram bint Milhan and she would feed him. Umm Haram was married to Ubadah bin As-Samit. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon her and she fed him and checked his head for lice. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) fell asleep, then he woke up smiling. She said: What is making you smile, O Messenger of Allah? He said: Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones. I said: O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. So the Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for her then he slept again." (One of narrators) Al-Harith, said (in his narration): "He slept then he woke up smiling. I said to him: What is making you smile, O Messenger of Allah? He said: Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones, as he had said the first time. I said: O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of the first. And she traveled by sea at the time of Muawiyah, then she fell from her mount when she came out of the sea and died.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3171
Notes · وضاحت
١ ؎: قباء مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ ام حرام بنت ملحان کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی رضاعی خالہ ہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ام حرام بنت ملحان ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری (جہاز) پر سوار تھے، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں ، میں نے کہا: اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے، آپ نے فرمایا: تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم (سوار ہونے والوں کے) پہلے دستے میں ہوگی ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے شادی کی ١ ؎، اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور ان کا انتقال ہوگیا) ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Umm Haram bint Milhan said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and took a nap in our house, then he woke up smiling. I said: O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you, what has made you smile? He said: I saw some people of my Ummah riding on the sea like kings on thrones. I said: Pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of them. Then he slept again, and woke up smiling. I asked him and he said the same thing. I said: Pray to Allah to make me one of them. He said: You will be one of the first. Then Ubadah bin As-Samit married her, and he traveled by sea, and she traveled with him, but when she came ashore a mule was brought to her and she mounted it, and it threw her off and broke her neck.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3172
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ان کی شادی رسول اللہ ﷺ کی اس بشارت کے بعد ہوئی ہے جب کہ اس سے ما قبل کی روایت میں یہ ہے کہ ام حرام رضی الله عنہا اس وقت عبادہ کے ماتحت تھیں۔ دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلی روایت میں و کانت تحت عبادة کے جملہ سے راوی کی مراد وقت کی تقیید کے بغیر دونوں کے تعلق کو بیان کرنا ہے جب کہ اس روایت میں وقت اور حال کی قید کے ساتھ اس تعلق کی وضاحت کرنا راوی کا مقصود ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (مسلمانوں) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کردیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آگیا تو میں (جہنم سے) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) promised us that we would invade India. If I live to see that, I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3173
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٤)، مسند احمد (٢/٢٢٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” جبر، یا جبیر “ لین الحدیث ہیں )