ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آگیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر میں اس میں شہید ہوگیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر (شہادت نصیب نہ ہوئی) زندہ بچ کر واپس آگیا تو ابوہریرہ محرر ہوں گا، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کردیا گیا ہوگا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) promised that we would invade India. If I live to see that I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3174
ثوبان رضی الله عنہ مولی رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہوگا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہوگا جو عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے ساتھ ہوگا ۔
It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There are two groups of my Ummah whom Allah will free from the Fire: The group that invades India, and the group that will be with Isa bin Maryam علیہماالسلام.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3175
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ ﷺ اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گرگیا، سلمان فارسی ؓ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہوگیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لا مبدل لکلماته وهو السميع العليم پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ ﷺ فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا (میں نے ایسا ہی دیکھا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے (پردے اٹھا کر) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا ، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف (کے قصبات و دیہات) دکھائے گئے (کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں (لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the Muharririn,[1] that a man among the Companions of the the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded them to dig the trench (Al-Khandaq), there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood, picked up a pickaxe, put his Rida (upper garment) at the edge of the ditch and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower. [1] One-third of the rock broke off while Salman Al-Farisi was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم)struck (the rock). Then he struck it again and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower. The last third fell, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came out, picked up his Rida and sat down. Salman said: O Messenger of Allah, Each time you struck the rock there was a flash of light. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: O Salman, did you see that? He said: Yes, by the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah. He said: When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes. Those of his Companions who were present said: O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their land as spoils of war, and to destroy their Lands at our hands. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for that. (Then he said:) Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes. They said: O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) prayed for that. (Then he said:) Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes. But the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said at that point: Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone." [1] An-Anam 6:115.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3176
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ١ ؎ اور بالوں میں چلیں گے ٢ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Hour will not begin until the Muslims fight the Turks, a people with faces like hammered shields who wear clothes made of hair and shoes made of hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3177
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کے لباس بالوں سے بنے ہوئے ہوں گے یا ان کے لباس ایسے گھنے اور لمبے ہوں گے کہ لباس کی طرح لٹک رہے ہوں گے۔ ٢ ؎: یعنی ان کی جوتیوں پر بال ہوں گے یا ان کی جوتیاں بالوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم ﷺ کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ١ ؎، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Musab bin Sad, from his father, that he thought he was better than other Companions of the Prophet. The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Rather, Allah support this Ummah because of their supplication, their Salah, and their sincerity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3178
Notes · وضاحت
١ ؎: انہیں ایسا خیال شاید اپنی مالداری، بہادری، تیر اندازی اور زور آوری کی وجہ سے ہوا۔ ٢ ؎: اس لیے انہیں حقیر و کمزور نہ سمجھو۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jubair bin Nufair Al-Hadrami that he heard Abu Ad-Darda say: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Bring me the weak, for you only receive provision and Divine support by virtue of your weak ones.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3179
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے تم کمزوروں کا خیال رکھو تاکہ تمہیں ان کی دعائیں حاصل ہوتی رہیں، تمہیں روزی ملتی رہے اور اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے۔
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے (گویا کہ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ١ ؎ تو وہ بھی (گویا کہ) جنگ میں شریک ہوا ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever equips a warrior in the cause of Allah has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3180
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجاہد کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے دوران نگرانی کرنے والے نے مجاہد کے اہل خانہ پر نہ تو بری نگاہ ڈالی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی۔
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے (یعنی اس کی غیر موجودگی میں) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے (گویا) خود جہاد کیا ۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever equips a warrior has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3181
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ (اکابر) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ؓ ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان ؓ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ١ ؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: جو شخص بنی فلاں کا کھلیان (مسجد نبوی کے قریب کی زمین) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا ، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے (وقف) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا ، (تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کردیا) ، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے) ، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں (تنگی و محتاجی والی فوج کو) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کردیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے) ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: "We set out as pilgrims and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: The people have gathered in the Masjid and there is panis. So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were Ali, Zubayr, Talhah and Sad bin Abi Waqas. While we were like that, Uthman (RA), came, wearing a yellow cloak with which he had covered his head. He said: Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sad here? They said: Yes. He said: I adjure you be the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever buys the Mirbad of Banu so-and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such and amount, then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever equips these (men)- meaning the army of Al-Usrah (Tabuk) - Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle? They said: By Allah, yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness." [1] Mirbad: A place for drying dates.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3182
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کردی تھیں، اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ٢ ؎: یہ میں نے تیری رضا اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٨١)، مسند احمد (١/٧٠، و یأتي عند المؤلف برقم: ٣٦٣٦، ٣٦٣٧) (ضعیف )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے راستے (جہاد) میں جوڑا جوڑا دیا ١ ؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے (تیری) بہتر چیز، تو جو کوئی نمازی ہوگا اسے باب صلاۃ (صلاۃ کے دروازہ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہوگا اسے باب جہاد (جہاد کے دروازہ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہوگا اسے باب صدقہ (صدقہ و خیرات والے دروازہ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہوگا اسے باب ریان (سیراب و شاداب دروازے) سے بلایا جائے گا ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا (اللہ کے نبی! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ٢ ؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of Paradise, Whoever is one of the people of jihad, he will be called from the gate of paradise. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan." Abu Bakr (RA) said: "O Messenger of Allah, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Yes, and I hope that you will be one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3183
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بشکل جوڑا دے یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ (ادھر سے) جنت میں داخل ہو ، ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نہیں) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی (خوش نصیب لوگوں) میں سے ہو گے (جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the gatekeepers of Paradise will call him from the gates of Paradise (saying): O So-and-so, come and enter! Abu Bakr said: O Messenger of Allah, such a person will never perish or be miserable. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I hope that you will be one of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3184
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض ہے لیکن یہ تعارض اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں، چناچہ آپ ﷺ نے جنت میں داخل ہونے کے لیے حسب وحی الٰہی پہلے ہر عابد کو اس کے مخصوص دروازے سے پکارے جانے کی خبر دی پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے سوال کیا تو آپ نے ایک ہی عابد کو تمام دروازوں سے پکارے جانے کی خبر دی، اور ساتھ ہی ابوبکر رضی الله عنہ کو اس کی بشارت بھی دی۔
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر ؓ سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا: مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے، تو انہوں نے کہا: اچھا (پھر کہا:) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہوگا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے ، (صعصعہ کہتے ہیں) میں نے کہا: یہ کیسے ہوگا؟ تو انہوں نے کہا: اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں۔
It was narrated that Sasaah bin Muawiyah said: "I met Abu Dharr and said: Tell me a Hadith. He said. Yes, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is no Muslim worshiper who spends from each type of his wealth on a pair (of things) in the cause of Allah, but the keepers of Paradise will welcome him, all of them calling him to what they have (of reward). I said: "How is that?" He said: "If it is camels, he gives two, and if it is cows, he gives two.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3185
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے؟
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا ۔
It was narrated that Khuraim bin Fatik said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever spends in the cause of Allah, it will be recorded for him seven hundred fold.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3186
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن (اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے (ثواب) کے ساتھ آئے گا ۔
It was narrated from Abu Masud that a man gave a bridled camel in charity in the cause of Allah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On the Day of Resurrection seven hundred bridled camels will come to you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3187
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٧ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٧)، مسند احمد (٤/٢٢١ و ٥/٢٧٤) (حسن )
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام (سردار) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہوگا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر (سردار و سپہ سالار) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ١ ؎۔
It was narrated from Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Campaigns are of two types. As for the one who seek the Face of Allah, obeys the Imam, spends what is precious to him, is easy-going with his companion and avoids mischief, when he is asleep and when he is awake, it will all bring reward. But as for the one who fights to show off, and he disobeys the Imam and does mischief in the land, he will not come back the same as when he left." [1] [1] It was not simply be the case that he comes back with no good deeds to his credit, rather he will have a number of evil deeds on his record.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3188
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہوسکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٢٥ (٢٥١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٩)، موطا امام مالک/الحج ١٨ (٤٣) (موقوفا) مسند احمد (٥/٢٣٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٥ (٢٤٦١)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٢٠٠ (حسن )
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ١ ؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، (یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے (نہ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ٢ ؎۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin and betrays him with her but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day of Resurrection and he will take whatever he wants of his (good) deeds. So what do you think?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3189
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مجاہدین کی بیویوں کی عزت و توقیر جہاد پر نہ جانے والوں پر واجب ہے۔ ٢ ؎: کیا وہ اس کے لیے کچھ چھوڑے گا؟ وہ تو اس کی ساری نیکیاں لے لے گا۔
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں۔ اگر وہ (مجاہد) کسی کو گھر پر (دیکھ بھال کے لیے) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی (امانت میں) خیانت کی۔ تو قیامت کے دن اس (مجاہد) سے کہا جائے گا (یہ ہے تیرا مجرم) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا:) تمہارا کیا گمان ہے (کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا؟ ) ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sanctity of the wive of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. If he takes on the responsibility of looking after his wife then betrays him, it will be said to him on the Day of Resurrection: This one betrayed you with your wife, so take whatever you want of his good deeds. So what do you think?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3190
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، (اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں ہے (تمہارا مجرم آؤ اور) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو ، پھر نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟ ۔
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The sanctity of the wives of the Mujahidin to those who stay behind is like the sanctity of their mothers. There is no man among those who stay behind who takes on the responsibility of looking after the wife of one of the Mujahidin (and betrays him) but he (the betrayer) will be made to stand before him on the Day Resurrection and it will be said: O So-and-so, this is so-and-so, take whatever you want from his good deeds." Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) turned to his Companions and said: "What do you think: Will he leave him any of his good deeds?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3191
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Strive in Jihad with your hands, your tongues and your wealth."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3192
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسلام کی ترویج و اشاعت، حفاظت و دفاع کے لیے طاقت و تلوار اور زبان و قلم کے استعمال میں اور مال و دولت کے خرچ میں دریغ نہ کرو، مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ قلم اور خطابت کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: جو ان کے بدلے (اور انتقام و قصاص) سے ڈرے (اور ان کو نہ مارے) وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated from Abdullah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded that snakes be killed and he said: "Whoever fears their vengeance is not one of us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3193