Sunan An Nasai 3107

جہاد سے متعلقہ احادیث

3107Sunan An Nasai

جس شخص کے والدین حیات ہوں اس کو گھر رہنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “A man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him for permission to go for Jihad. He said: ‘Are your parents alive?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘Then strive for their sake.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3103
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٣٨ (٣٠٠٤)، الأدب ٣ (٥٩٧٢)، صحیح مسلم/البر ١ (٢٥٤٩)، سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٩)، سنن الترمذی/الجہاد ٢ (١٦٧١)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٤)، مسند احمد (٢/١٦٥، ١٧٢، ١٨٨، ١٩٧، ٢٢١) (صحیح )