ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آسکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر (قربان گاہ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔
Ja’far bin Muhammad bin ‘Ali bin Husain narrated that his father said: “We entered upon Jabir bin ‘Abdullah and I said: ‘Tell me about the Hajj of the Prophet ﷺ. ‘He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ stoned the Jamrat which is by the tree, with seven pebbles, saying the Takbir with each pebble - pebbles that were the size of date stones or fingertips. And he threw them from the bottom of the valley, then he went to the place of sacrifice in Mina.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3076
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج میں لوٹے۔ تو ہم میں سے کوئی کہتا تھا: ہم نے سات کنکریاں ماریں اور کوئی کہتا تھا: ہم نے چھ ماریں، تو ان میں سے کسی نے ایک دوسرے پر نکیر نہیں کی۔
Sad said: “We returned during the Hajj with the Prophet ﷺ, and some of us said that they had stoned (the Jamarat) with seven stones, and others said that they had done so with six, and no one denounced anyone else.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3077
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ ﷺ نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
It was narrated that Qatadah said: “I heard Abu Mijlaz say: ‘I asked Ibn ‘Abbas something about the Jimar, and he said: I do not know, the Messenger of Allah ﷺ stoned it with six or seven.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3078
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٧٨ (١٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ٦٥٤١)، مسند احمد (١/٣٧٢) (صحیح) (حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن اگلی حدیث میں سات کنکریاں مارنے کا بیان ہے، اس لیے اس میں موجود شک چھ یا سات کنکری کی بات غریب اور خود ابن عباس اور دوسروں کی احادیث کے خلاف ہے )
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that his brother Al-Fadl bin ‘Abbas said: “I was riding behind the Prophet ﷺ and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah. He stoned it with seven pebbles, saying the Takbir with each throw.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3079
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کرلی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کردیا۔
Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) said: “I was riding behind the Messenger of Allah ﷺ and he continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah, then when he stoned (the Jamrah) he stopped reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3080
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٩ (٣٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٦)، مسند احمد (١/٢١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ فضل (فضل بن عباس ؓ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that Al-Fadl told him that he rode behind the Messenger of Allah ﷺ and he continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3081
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) that he was riding behind the Prophet ﷺ, and he continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamratul ‘Aqabah. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3082
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر ؓ بھی اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
It was narrated that Az-Zuhri said: “We heard that when the Messenger of Allah ﷺ stoned the Jamrah he stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he came in front of it and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a longtime. Then he came to the second Jamrah and stoned it stoned it with seven pebbles, saying the Takbir every time he threw a pebble. Then he moved to the left and stood facing the Qiblah, raising his hands and supplicating for a longtime. Then he came to the Jamrat that is at Al ‘Aqabah and stoned it with seven pebbles, but he did not stand there.” Az-Zuhri said: “I heard Salim narrate this from his father, from the Prophet ﷺ, and Ibn ‘Umar used to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3083
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہوگئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When (the pilgrim) has stoned the Jamrat, everything becomes permissible for him except (intimacy with) women.” It was said: “And perfume?” He said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ smelling strongly of musk - is it not a perfume?” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3084
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٧٠ (٣٠٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٧)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣٤٤، ٣٦٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر ؓ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا إنا لله وإنا إليه راجعون یہ لوگ ضرور ہلاک ہوجائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے ۔ (الحج: ٣٩ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہوگی۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When the Prophet ﷺ was expelled from Makkah, Abu Bakr (RA) said to him: ‘They have driven out their Prophet ﷺ, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn ‘Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3085
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم ﷺ کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے۔ تو (جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے) لڑائی نہ کرو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا۔ تو لوگ (بجائے اس کے کہ خوش ہوتے) باز رہے (ہچکچائے، ڈرے) تب اللہ تعالیٰ نے آیت: ألم تر إلى الذين قيل لهم کفوا أيديكم وأقيموا الصلاة کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو، اور نمازیں پڑھتے رہو، اور زکاۃ ادا کرتے رہو۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا (النساء: ٧٧ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf and some his companions came to the Prophet ﷺ in Makkah and said: “Messenger of Allah ﷺ! We were respected when we were idolators and when we believed, we were humiliated.” He said: “I have been commanded to pardon, so do not fight.” Then, when Allah caused us to move to Al-Madinah, He commanded us to fight, but they refrained. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Have you not seen those who were told to hold back the hands (from fighting) and perform As-Salah” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3086
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جامع کلمات ١ ؎ دے کر بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب ٢ ؎ سے کی گئی ہے۔ اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئیں، اور میرے ہاتھوں میں تھما دی گئیں ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس دنیا سے) رخصت ہوگئے لیکن تم ان خزانوں کو نکال کر خرچ کر رہے ہو ٣ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have been sent with concise speech and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.” Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ has gone and you are acquiring them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3087
Notes · وضاحت
١ ؎: جامع کلمات یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر ہیں مگر معانی بہت، جوامع الکلم میں صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہے، اس سے مراد الکلم الجامع ۃ ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایسے دبدبہ و دھاک سے کی گئی ہے جس سے بلا کسی عادی سبب کے دشمنوں کے دلوں میں خوف طاری ہوجاتا ہے۔ ٣ ؎: خزانوں سے مراد روم و ایران اور مصر و شام وغیرہ کی فتوحات اور وہاں کی دولت پر مسلمانوں کا تصرف ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ١ ؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں (اور پیش کرتے ہوئے) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ ؓ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس دنیا سے) چلے گئے اور تم ان (خزانوں) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ (انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو )
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab and Salamah bin ‘Abdur-Rahman that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘I have been sent with concise speech, and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’ Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ has gone and you are acquiring them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3089
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مختصر فصیح و بلیغ کلمے جن میں الفاظ تو تھوڑے ہوں لیکن مفہوم و معانی سے بھرے ہوئے ہوں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ لا إله إلا اللہ کہنے نہ لگ جائیں۔ تو جس نے لا إله إلا اللہ کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کرلیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے ١ ؎، اور اس کا (آخری) حساب اللہ کے ذمہ ہے ٢ ؎۔
Saeed bin Al-Musayyab narrated that Abu Hurairah (RA) told him that the Messenger of Allah ﷺ said: “I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illalláh, his life and his property are safe from me, except by its right (in cases where Islamic laws apply), and his reckoning will be with Allah.” (Sahih)
صحيح متواترصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3090
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی صورت میں اس کی گردن ماری بھی جاسکتی ہے اور اس کا مال ضبط بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٢ ؎: کس نے دکھانے کے لیے اسلام قبول کیا ہے اور کون سچے دل سے اسلام لایا ہے، یہ اللہ ہی فیصلہ کرے گا، یہاں صرف ظاہر کا اعتبار ہوگا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور ابوبکر ؓ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہوگئے ١ ؎، تو عمر ؓ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ لا إله إلا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں، تو جس نے لا إله إلا اللہ کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کرلیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا (آخری) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، (اور یہ زکاۃ نہ دینے والے لا إله إلا اللہ کے قائل ہیں) ابوبکر ؓ نے کہا: قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، (یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، (جس طرح نماز بدن کا حق ہے) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ (عمر کہتے ہیں:) قسم اللہ کی اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے، اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah that Abu Hurairah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ died and Abu Bakr (RA) (was appointed Khalifah) after him, and some of the ‘Arabs disbelieved, ‘Umar (RA) said: ‘Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?” Abu Bakr (RA) said: “I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ …..I will fight them for withholding it.’ (‘Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr (RA) to fighting, then I knew that it was the truth.” The wording is that of Ahmad. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3091
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دین حق سے مرتد ہوگیا، اور زکاۃ جو اس پر واجب تھی اس کی ادائیگی کا منکر ہو بیٹھا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے اور ابوبکر ؓ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہوگئے، عمر ؓ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ لا إله إلا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں تو جس نے لا إله إلا اللہ کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کرلیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا (آخری) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (اور یہ زکاۃ نہ دینے والے لا إله إلا اللہ کے قائل ہیں) تو ابوبکر ؓ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، (یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے (جس طرح نماز بدن کا) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ (عمر ؓ کہتے ہیں:) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Utbah bin Mas’ud that Abu Hurairah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ died and Abu Bakr (RA) (was appointed Khalifah) after him, and some of the ‘Arabs disbelieved, ‘Umar (RA) said: ‘Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?” Abu Bakr (RA) said: “I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ …..I will fight them for withholding it.’ (‘Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr (RA) to fighting, then I knew that it was the truth.” The wording is that of Ahmad. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3092
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر ؓ نے (لوگوں کو) ان (منکرین زکاۃ و مرتدین دین) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا۔ تو عمر ؓ نے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ لا إله إلا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا۔ مگر اس کے حق کے بدلے (جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہوگا۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں) ابوبکر ؓ نے فرمایا: میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ (دونوں فریضوں) میں فرق کرے گا۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ عمر ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان (منحرفین) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر ؓ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے۔ (تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں) اور مجھے یقین آگیا کہ وہ حق پر ہیں۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “When Abu Bakr (RA) mobilized to fight them, ‘Umar said: ‘Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah ﷺ said: “I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah). Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?” Abu Bakr (RA) said: ‘By Allah, I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ I will fight them for withholding it.’ (‘Umar said) ‘By Allah, when I realized that Allah, the Most High, had opened the chest of Abu Bakr (RA) to fighting them, then I knew that it was the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3093
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ رحلت فرما گئے، تو عرب (دین اسلام سے) مرتد ہوگئے، عمر ؓ نے کہا: ابوبکر! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے۔ ابوبکر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے لگیں، اور زکاۃ دینے لگیں، قسم اللہ کی، اگر انہوں نے ایک بکری کا چھوٹا بچہ دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ ﷺ کو (زکاۃ میں) دیا کرتے تھے تو میں اس کی خاطر بھی ان سے لڑائی لڑوں گا۔ عمر ؓ کہتے ہیں: جب میں نے ابوبکر ؓ کی رائے دیکھی کہ انہیں اس پر شرح صدر حاصل ہے تو مجھے یقین ہوگیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عمران بن قطان حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے والی حدیث صحیح و درست ہے، زہری کی حدیث کا سلسلہ عن عبيد اللہ بن عبداللہ بن عتبة عن أبي هريرة ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ died, some of the ‘Arabs apostatized. ‘Umar said: ‘Abu Bakr, how can you fight the ‘Arabs? Abu Bakr (RA) said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight the people until they testify that La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah ﷺ, and establish prayer and pay Zakah?’ By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ I will fight them for withholding it.’ (‘Umar said) ‘By Allah, when I realized that Abu Bakr was confident about this idea, then I knew that this was the truth.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: ‘Imran Al-Qattan is not strong in Hadith, and this narration is a mistake. The one that is before it is the correct narration of Az Zuhri, from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Utbah, from Abu Hurairah (RA).
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3094