جہاد کی فرضیت
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ١ ؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں (اور پیش کرتے ہوئے) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ ؓ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس دنیا سے) چلے گئے اور تم ان (خزانوں) سے فیض اٹھا رہے ہو۔ (انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو )
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab and Salamah bin ‘Abdur-Rahman that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘I have been sent with concise speech, and I have been supported with fear. While I was sleeping, the keys to the treasures of the Earth were brought to me and placed in my hands.’ Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ has gone and you are acquiring them.” (Sahih)