فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) that he was riding behind the Prophet ﷺ, and he continued to recite the Talbiyah until he stoned the Jamrat. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3055
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ میرے لیے کنکریاں چن دو ۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آسکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کردیا ہے۔
It was narrated that Abu Al ‘Aliyah said: “Ibn ‘Abbas said: ‘On the morning of Al-’Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allah ﷺ said to me: “Pick up (some pebbles) for me.” So I picked up some pebbles for him that were the size of date stones or fingertips, and when I placed them in his hand he said: “Like these. And beware of going to extremes in religious matters, for those who came before you were destroyed because of going to extremes in religious matters.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3057
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمزی اور امام احمد دونوں نے یہاں ابن عباس سے عبداللہ بن عباس سمجھا ہے، حالانکہ عبداللہ کو نبی اکرم ﷺ نے رات ہی میں عورتوں بچوں کے ساتھ منی روانہ کردیا تھا، اور مزدلفہ سے منی تک سواری پر آپ کے پیچھے فضل بن عباس ہی سوار تھے، یہ دونوں باتیں صحیح مسلم کتاب الحج باب ٤٥ اور ٤٩ میں اور سنن کبریٰ بیہقی ( ٥ /١٢٧) میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٦٣ (٣٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٧)، مسند احمد (١/٢١٥)، ویأتی عند المؤلف برقم ٣٠٦١ (صحیح )
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو ، اور نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔
It was narrated that Al-Fadl bin ‘Abbas (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said to the people when they moved on, on the evening of ‘Arafat and the morning of Jam’ (Al-Muzdalifah): ‘You must be tranquil.’ He was reining in his camel, and when he entered Mina, he came down to Muhassir and said: ‘You have to pick up pebbles the size of date stones or fingertips with which to stone the Jamrat.’ He said: ‘And the Prophet ﷺ gestured with his hand like a man throwing a pebble.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3058
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عقبہ کی صبح کو فرمایا اور آپ اپنی سواری کو روکے ہوئے تھے: آؤ میرے لیے کچھ کنکریاں چن دو ، تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں۔ یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آجائیں، تو میں نے انہیں آپ کے ہاتھ میں لا کر رکھا، تو آپ انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے لگے۔ اور یحییٰ نے انہیں اپنے ہاتھ میں ہلا کر بتایا کہ اسی طرح کی کنکریاں یہ اتنی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آجائیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “On the morning of Al-’Aqabah, while he was on his mount, the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Pick up (some pebbles) for me.’ So I picked up some pebbles for him that were the size of date stones or fingertips, and placed them in his hand. He started to do this with his hand.” Yahya described him shaking them in his hand like this. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3059
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ابن عباس سے مراد فضل ہیں (ملاحظہ ہو ٣٠٥٩ ، ٣٠٦٠ )۔
ام حصین رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تو بلال ؓ کو دیکھا کہ وہ آپ کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے چل رہے تھے، اور اسامہ بن زید ؓ آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے آپ کے اوپر اپنے کپڑے کا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اور آپ حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر لوگوں کو خطبہ دیا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور بہت سی باتیں ذکر کیں۔
It was narrated from Yahya bin Al-Husain that his grandmother, Umm Husain said: “I performed Hajj during the Hajj of the Prophet ﷺ I saw Bilal (RA) holding on the reins of his she-camel, and Usamah bin Zaid holding his garment over him to shade him from the heat, while he was in Ihram, until he had stoned Jamratul ‘Aqabah. Then he addressed the people and praised Allah, and mentioned many things.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3060
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ کو اپنی سرخ و سفید اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، نہ کوئی مار رہا تھا، نہ بھگا رہا، نہ ہٹو ہٹو کہہ رہا تھا۔
It was narrated that Qudamah bin ‘Abdullah said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ stoning Jamratul ‘Aqabah on the Day of Sacrifice on a reddish- brown camel of his, without beating anyone or driving them off.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3061
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ آج کل کسی بڑے افسر و حاکم کے آنے پر کیا جاتا ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید میں اس سال کے بعد آئندہ حج نہ کرسکوں ۔
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin ‘Abdullah say: “I saw the Messenger of Allah ﷺ stone the Jamrat while on his camel saying: ‘people, learn your rituals (of Haj) for I do not know whether I will perform Hajj again after this year.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3062
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرہ کو دسویں ذی الحجہ کو چاشت کے وقت کنکریاں ماریں، اور دسویں تاریخ کے بعد (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ کو) سورج ڈھل جانے کے بعد۔
It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ stoned the Jamrat on the Day of Sacrifice in the forenoon, and after the Day of Sacrifice he stoned (the Jamarat) when the sun had passed its zenith.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3063
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم بنی عبدالمطلب کے گھرانے کے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے بھیجا، آپ ہماری رانوں کو تھپتھپا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: میرے ننھے بیٹو! جب تک سورج نکل نہ آئے جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہ مارنا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ sent us young boys of Banu ‘Abdul-Muttalib on donkeys, slapping our thighs and saying: ‘my sons, do not stone Jamratul ‘Aqabah until the sun has risen.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3064
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٦ (١٩٤٠)، سنن ابن ماجہ/الحج ٦٢ (٢٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٥٨ (٨٩٣)، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١، ٣٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں کو (رات میں) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ sent his family ahead, and told them not to stone the Jamrah until the sun had risen. (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3065
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک بیوی کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ کی رات ہی میں مزدلفہ سے کوچ کر جائیں، اور جمرہ عقبہ کے پاس آ کر اس کی رمی کرلیں، اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر صبح کریں۔ اور عطا اپنی وفات تک ایسے ہی کرتے رہے۔
Aishah (RA) bint Talhah narrated from her maternal aunt Aishah (RA), the Mother of the Believers, that the Messenger of Allah ﷺ told one of his wives to depart from Jam’ (Al-Muzdalifah) on the night of Jam’, to go to Jamratul ‘Aqabah and stone it, then come back to her camp before morning. And ‘Ata’ used to do that until he died.(Hasan)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3066
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ ﷺ سے (حج کے مسائل) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آپ سے پوچھا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، اور ایک دوسرے شخص نے کہا: شام ہوجانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں؟ آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ: was asked questions during the days of Mina and he said: ‘There is no harm.’ A man said: ‘I shaved my head before offering the sacrifice.’ He said: ‘There is no harm.’ Another man said: ‘I stoned (the Jamarat) after evening came.’ He said: ‘There is no harm.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3067
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی بن جدا القضاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن رمی کرنے کی رخصت دی ہے، (اس لیے کہ وہ اونٹوں کو ادھر ادھر چرانے لے جانے کی وجہ سے ہر روز منیٰ نہیں پہنچ سکتے تھے) ۔
It was narrated from Abu Al-Baddah bin ‘Adiyy, from his father, that the Prophet ﷺ granted the camel herders a concession allowing them to stone the Jamarat on one day and not another. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3068
ابوالبداح بن عاصم کے والد عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو منیٰ میں رات میں نہ رہنے کی رخصت دی ہے۔ وہ یوم النحر (یعنی دسویں تاریخ) کو رمی کریں، اور پھر اس کے بعد دونوں دنوں کو کسی ایک دن میں جمع کرلیں)۔
It was narrated from Al Baddah bin ‘Asim bin ‘Adiyy from his father, that the Messenger of Allah ﷺ granted a concession to some camel herders, allowing them to not stay overnight in Mina, and allowing them to stone the Jimár on the Day of Sacrifice, then to combine the stoning of two days after the sacrifice, so that they could do it on one of the two days. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3069
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گیارہویں اور بارہویں دونوں کی رمی گیارہویں تاریخ کو کرلیں یا بارہویں تاریخ کو کریں۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو عبداللہ بن مسعود نے وادی کے نیچے سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اسی جگہ سے اس شخص نے کنکریاں ماریں جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی (یعنی محمد ﷺ نے) ۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman - meaning bin Yazid - said: “It was said to ‘Abdullah bin Mas’ud, that some people were stoning the Jamrat from above Al ‘Aqabah.” He said: “So ‘Abdullah stoned it from the bottom of the valley, then he said: ‘From here - by the One beside whom there is no other God — did the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed, stone it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3070
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے خانہ کعبہ کو اپنے بائیں جانب کیا اور عرفہ کو اپنے دائیں جانب اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: یہی اس ذات کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابن ابی عدی کے سوا میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس حدیث میں منصور کے ہونے کی بات کہی ہو، واللہ اعلم۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Yazid said: “Abdullah stoned the Jamrat with seven pebbles, with the House on his left and ‘Arafat on his right. And he said: ‘This is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who said: Mansar in this narration except Ibn Abi ‘Adi, and Allah the Most High knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3071
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں، پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی ہے اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ جس پر سورة البقرہ اتاری گئی۔
‘Abdur-Rahman bin Yazid said: “I saw Ibn Mas’ud stone Jamratul ‘Aqabah from the bottom of the valley, then he said: ‘This - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Surat Al-Baqarah was revealed stood.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3072
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ سورة البقرہ نہ کہو، بلکہ کہو وہ سورة جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، وہ وادی کے اندر آئے، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا، اور سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، تو میں نے کہا: بعض لوگ (کنکریاں مارنے کے لیے) پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ١ ؎۔
Al-A’mash said: “I heard Al Hajjaj say: ‘Do not say Surat Al Baqarah, say: ‘The Surah in which the cow (Al-Baqarah) is mentioned.” I mentioned that to Ibrahim, and he said: “Abdur-Rahman bin Yazid told me, that he was with ‘Abdullah when he stoned Jamratul ‘Aqabah. He went down the middle of the valley, stood opposite it - meaning the Jamrah - and threw seven pebbles at it, saying the Takbir with each pebble. I said: “Some people climbed the mountain.” He said: “Here - by the One beside Whom there is no other God - is the place where the one to whom Slirat Al-Baqarah was revealed stoned.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3073
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورة البقرہ کہنا درست ہے اور حجاج کا خیال صحیح نہیں ہے۔