ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جانے کا حکم دیا۔
It was narrated from Salim bin Shawwal that: Umm Habibah told him that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told her to leave Jam (Al-Muzdalifah) for Mina at the end of the night.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3035
ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں رات کی تاریکی ہی میں مزدلفہ سے منیٰ چلے جاتے تھے۔
It was narrated that Umm Habibah said: "We used to leave Jam Al-Muzdalifah for Mina at the end of the night, during the time of the Messenger of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3036
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین سودہ ؓ کو مزدلفہ سے فجر ہونے سے پہلے لوٹ جانے کی اجازت دی، اس لیے کہ وہ ایک بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں۔
It was narrated that Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed Sawdah to leave Jam (Al-Muzdalifah) before dawn because she was a heavyset woman.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3037
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی کوئی نماز بغیر اس کے وقت کے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے مغرب و عشاء کے جنہیں آپ نے مزدلفہ میں پڑھی، اور اسی دن کی فجر جسے آپ نے اس کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھی۔
It was narrated that Abdullah said: "I never saw the Messenger of Allah offer any prayer except at the proper time, apart from Maghrib and Isha in Jam (Al-Muzdalifah) and Fajir on that day, which he offered before the usual time.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3038
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں (کسی وقت بھی) وقوف کرچکا ہے تو اس کا حج پورا ہوگیا ۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: "I saw the Messenger of Allah stading in Al-Muzdalifah and he said: Whoever offers this prayer whith us here then stands with us and stood before that in Arafat by nightor by day, his Hajj is complete.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3039
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پالے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پاسکا تو اس نے حج نہیں پایا ١ ؎۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: The Messenger of allah said: "Whoever catches up (with Fajir prayer) in Jam (Al-Muzdalifah) with the Imam and the people (and stays there) until they move on, the he has caught up with Hajj. Whoever does not catuch up with the people and the Imam, then has not caught it (Hajj).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3040
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اچھے ڈھنگ سے نہیں پایا، یہ تاویل اس لیے کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنا حج کا رکن نہیں ہے کہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجائے۔
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہوگیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے یہ نماز (یعنی نماز فجر) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہوگیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا ۔
It was narrated that Urwah bin Mudarris said: "I came to the Prohet in Jam (Al-Muzdalifah) and said: O Messenger of Allah, I have come from the two mountains of Tai and I did not leave any mountain but I stood on it; is there Hajj for me? The Messenger of Allah said: Whoever offers this prayer with us, and stood before that in Arafatat by night or by day, his Hajj is complete, and he has completed the prescribed duties.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3041
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا ۔
Urwah bin Mudarris bin Aws bin Harithah bin Lam said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Jam (Al-Muzdalifah) and said: Is there Hajj for me? He said: Whoever offers this prayer with us and observed this standing until he departed, and he departed before that from Arafat by night or by day, then his Hajj is complete. And he has completed the prescribed duties.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3042
عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہوچکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہوگیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آچکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کرلیا، اور اس کا حج پورا ہوگیا ۔
Urwah bin Mudarris at-Tai said: "I came to the Messenger of Allah and said: "I have come to you from the two mountains of Tai and I have exhausted my camel, and exhausted myself; is there Hajj for me? He said: Whoever offeres this morning prayer with us here, and came to Arafat before that, then he has completed the prescribed duties and his Hajj is complete.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3043
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ ﷺ سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آجائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے ۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔
Abdur Rahman bin Yamur Ad-Daili said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in Arafat when some people from Najd coame to him. They told a man to ask him about Hajj. He said: "Hajj is Arafat. Whoever comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah) before Subh prayer, then he has caought up with Hajj. And the days of Mina are three days. But whoever hastens to leave in two days, there is no sion on him, and whoever stays on, there is no sino on him. Then he made a man ride behind him, and he started proclaiming it to the people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3044
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا مزدلفہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ۔
Jafar bin Muahammad narrated that his father said: "We came to Jabir bin Abdullah and he told us that the Messenger of Allah said: All of Al Muzdalifah is a place for (the pilgrims) to stand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3045
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات کو جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی (یعنی رسول اللہ ﷺ) اس جگہ لبيك اللہم لبيك کہتے سنا۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yazid said: "When we were in Jam (Al-Muzadalifah), Ibn Masud said: I heard the one to whoem surat Al-Baqarah was revealed say, in this place: Labbaik Allahumma Labbaik.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3046
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں عمر ؓ کے ساتھ تھا، تو وہ کہنے لگے: اہل جاہلیت جب تک سورج نکل نہیں جاتا مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے، کہتے تھے أشرق ثبیر اے ثبیر روشن ہوجا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، پھر وہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔
It was narrated that Amr bin Maimun aid: "I head him say I saw Umar in Al-Muzdalifah and he said: The people of the Jahiliyyah would not depart until the sun had risen, and they would say: Shine, O Thabir! The Messenger of Allah differed from them and departed before the sun had risen.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3047
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ (رات ہی میں) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔
Ata bin Abi Rabah told them that he heard Ibn Abbas say: "The Messenger of Allah sent me with the weak ones of his family to pray Subh in Mina and stone the Jamrah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3048
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ ؓ نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ ؓ بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے (پہلے ہی لوٹ جانے کی) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کرلی۔
It was narrated that the Mother of the Belivers Aishah said: "I wished that I had asked the Messenger of Allah for permission as Sawdha did, so that I could pray Fajr in Mina before the people came. Sawdah was heavyset woman, so she asked the Messenger of Allah for permission, and he gave her permission to pray Fajir in Mina and stone the before the people came.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3049
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر ؓ کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آگئے (حالانکہ دن میں آنا چاہیئے) ، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے (یعنی غلس میں آتے تھے) جو تم سے بہتر تھے۔
It was narrated from Ata bin Abi Rabah that a freed slave of Asma bin Abi Bakr told him: "I came with Asma bint Abi Bakr to Mina at the end of the night and I said to her: We have come to Mina at the end of the night. She said: We sued to do this one who was better than you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3050
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید ؓ سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
It was narrated from Hisham bin ‘Urwah that his father said: “Usamah bin Zaid was asked - while I was sitting with him: ‘How did the Messenger of Allah ﷺ travel during the Farewell Pilgrimage when he moved on?’ He said: ‘He rode at a moderate pace, and if he found some open space, he would gallop.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3051
ضعفاء کو مزدلفہ کی رات فجر کی نماز منی ٰ پر پہنچ کر پڑھنے کی اجازت
It was narrated that Al-Fadl bin Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said to the people when they moved on the evening of Arafat and the morning of Jam (assembly at Al-Muzdalifah): You must have tranquility. He was reining in his camel, and when he entered Mina, he came down to Muhassir and said: You have to pick up pebbles the size of date stones of fingertips with which to stone the Jamrat. And he (Al-Fadal) said: And the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gestured with his hand like a man throwing a pebble.
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے (وہاں پہنچ کر) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آجائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
Jafar bin Muhamad narrated that hi father said: "We enterd upon Jabir bin Abdullah and I said: "Tell me about the Hajj of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: The Messenger of Allah moved on from Al-Muzadalifah before the sun rose, and Al-Fadl bin Abbas rode behind him. When he came to Muhassir he sped up a little, then he follwed the middle road that brings you out at the largest Jamrat. When he came to the Jamrat whichis by the tree, he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one, (using) pebbles the size of the date stones of fingertips, and he threw from the bottom of the valley.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3054
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٣، ٢٦٣٦)، انظر حدیث رقم: ٢٩٧٥)، ویأتي عند المؤلف: ٣٠٥٦ (صحیح )