ضعفاء کو مزدلفہ کی رات فجر کی نماز منی ٰ پر پہنچ کر پڑھنے کی اجازت
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ، فَقُلْتُ لَهَا: لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ، فَقَالَتْ: قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر ؓ کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آگئے (حالانکہ دن میں آنا چاہیئے) ، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے (یعنی غلس میں آتے تھے) جو تم سے بہتر تھے۔
It was narrated from Ata bin Abi Rabah that a freed slave of Asma bin Abi Bakr told him: "I came with Asma bint Abi Bakr to Mina at the end of the night and I said to her: We have come to Mina at the end of the night. She said: We sued to do this one who was better than you.