ودائی محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي.
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے (وہاں پہنچ کر) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آجائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
Jafar bin Muhamad narrated that hi father said: "We enterd upon Jabir bin Abdullah and I said: "Tell me about the Hajj of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: The Messenger of Allah moved on from Al-Muzadalifah before the sun rose, and Al-Fadl bin Abbas rode behind him. When he came to Muhassir he sped up a little, then he follwed the middle road that brings you out at the largest Jamrat. When he came to the Jamrat whichis by the tree, he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one, (using) pebbles the size of the date stones of fingertips, and he threw from the bottom of the valley.