ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عرفات سارا کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے ۔
Ja`far bin Muhammad said: "My father told me: We came to Jabir bin `Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He told us that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "All of Arafat is the place of standing.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3015
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٠ (١٢١٨)، سنن ابی داود/الحج ٥٧ (١٩٠٧، ١٩٠٨)، ٦٥ (١٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٧٣ (٣٠٤٨)، مسند احمد ٣/٣٢١، ٣٢٦، سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٠٤٨ (صحیح )
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہوگیا ١ ؎۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Yamur said: "I saw the Messenger of Allah when people came to him and asked him about Hajj. The Messenger of Allah said: Hajj is Arafat. Whoever catches up with the night of Arafat before dawn comes on the night of Jam (Al-Muzdalifah), his Hajj is complete.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3016
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے، اور حج کے فوت ہونے سے مامون ہوگیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا، اب اسے کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید ؓ سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔
It was narrated from Ibn Abbas that Al-Fadl bin Abbas said: "The Messenger of Allah departed from Arafat and Usmah bin Zaid rode behind him. His camel bolted and he was raising his hands (to rein it in) but not above his head. He carried on like that until he reached Jam (Al-Muzdalifah).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3017
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٤٧ (١٢٨٦)، مسند احمد (١/٢١٢، ٢٢٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے چلے، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل (اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی) اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں (بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے) ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Usmah bin Zaid said: "The Messneger of Allah departed from Arafat and I was riding behind him. He started trying to rein in his camel until its ears nearly touched the front of the saddle, and he was saying: O people, you must be tranquil and dignified, for righteousness does not come by making camels hurry.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3018
ابوغطفان بن طریف سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا: جب رسول اللہ ﷺ عرفات سے (مزدلفہ کے لیے چلے، تو آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کی لکڑی سے چھونے لگا، آپ عرفہ کی شام میں (مزدلفہ کے لیے چلتے وقت لوگوں سے) فرما رہے تھے: اطمینان و سکون کو لازم پکڑو، اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ۔
It was narrated from Abu Ghaftan bin Tarif that he heard Ibn Abbas say: "When the Messenger of Allah departed he reined in his she-camel until its head touched the middle of his saddle, and he was saying to the people: Be tranquil be tranquil, on the evening of Arafat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3019
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا: اطمینان و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا: چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جاسکے تو رسول اللہ ﷺ برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
It was narrated from Al-Fadl bin Abbas, who rode behind the Messenger of Allah, that: on the eveing of Arafat and on the morning of Jam (Al-Muzdalifah), when they departed, the Messenger of Allah said to the people: "You must be tranquil," and was reining in his she-came. Then, when he was in Muhassir, which is part of Mina, he said: "You have to look for pebbles the size of date stones of fingertips," with which to stone the Jamrat. And the Messenger of Allah continued to recite the Talbiyah until he stoned Jamrat Al-Aqabah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3020
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، آپ پر سکینت طاری تھی، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah departed (From Arafat) in a tranquil manner, and he enjoined them to be tranquil. He hurried in the valley of Muhassir and told them to stone the Jamrat with (pebbles like date stones or fingertips. (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3021
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عرفات سے لوٹے اور کہنے لگے: اللہ کے بندو! اطمینان و سکون کو لازم پکڑو ، آپ اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور ایوب نے اپنی ہتھیلی کے باطن سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) departed from Arafat and started saying: "Be tranquil, O slaves of Allah!" gesturing with his hand like this - and Ayyub gested with his palm uppermost.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3022
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کی چال کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ کیسے چل رہے تھے) تو انہوں نے کہا: آپ عنق (تیز چال) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کی رفتار چلتے۔
It was narrated from Usmah bin Zaid that he was asked how the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) traveled during the Farewell pilgrimage. He said: "He used to ride at a moderately fast pace, and when he came upon some open space he would gallop.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3023
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب عرفہ سے لوٹے تو پہاڑ کی گھاٹی کی طرف مڑے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے عرض کیا: کیا (یہاں) آپ مغرب کی نماز پڑھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز پڑھنے کی جگہ آگے ہے ۔
It was narrated from Usmah bin Zaid that when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) departed from Arafat he turned toward the mountain pass. I said to him: "Are you going to pray Magrib?" He said: "The prayer place is still ahead of you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3024
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز آگے ہوگی (یعنی آگے چل کر پڑھیں گے) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی (قافلے کے) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کردی۔
It was narrated that Usmah bin Zaid said: "The Messenger of allah stopped in the mountain pass where the rulers stop now, and urinated, then he performed a light Wudu and I said: O Messenger of Allah (isit time for ) prayer? He said: The prayer is still ahead of you. When we came to Al-Muzdalifah the people did not unload their camles until he had prayed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3025
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ ایک تکبیر سے پڑھیں، نہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی نفل پڑھی، اور نہ ہی ان دونوں نمازوں کے بعد۔
It was narrated from Salim, from his father, that: the Messenger of Allah joined Maghrib and Isha; in Jam (Al-Muzdalifah), with one Iqamah, and he did not offer any voluntary prayers in between or after either of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3028
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب و عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں، ان دونوں کے درمیان اور کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں۔ اور عبداللہ بن عمر اسی طرح دونوں نمازیں جمع کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔
It was narrated from Ibn Shihab that Ubaidullah bin Abdullah told him that his father said: "The Messenger of Allah joined Maghrib and Isha with no (Voluntary) prayer in between them. He prayed Maghrib with three Rakahs and Isha with two." And Abdullah bin Umar used to join them in like manner until he met Allahm, The Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3029
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید ؓ سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ ﷺ نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو (اترنے کی اطلاع) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (اونٹ پر) سوار ہوئے۔
It was narrated from Ibrahim bin Uqbah that Kuraib said: "I asked usamah bin Zaid, who rode behind the Messenger of Allah one the evening of Arafat. I said: "What did you do? He said: We started traveling until we reached Al-Muzadalifah, then he stopped and prayed Maghrib. Then he sent word to the people to stay in their camps, and they did not unload their camels until the Messenger of Allah had prayed the later Isah. Then the people unloaded their camels and made camp. When morning came I set out on foot amonth those of the Quraish who got there first, and Al-Fadl rode behind the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3031
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو نبی اکرم ﷺ نے مزدلفہ کی رات مجھے اپنے گھر والوں کے کمزور لوگوں ساتھ پہلے ہی (منیٰ ) بھیج دیا تھا۔
It was narrated that Ubaidullah bin Abu Yazeed said: I heard Ibn Abbas say: I was one of those whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent ahead amongh the weak ones of his family.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3032
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اہل خانہ کے ان کمزور لوگوں میں سے تھا جنہیں آپ نے مزدلفہ کی رات پہلے ہی (منیٰ ) بھیج دیا تھا۔
It was narrated Abbas said: "I was one those whom the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent ahead on the night of Al-Muzdalifah among the weak ones of his family.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3033
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٩ (١٢٩٣)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٤٤)، مسند احمد (١/٢٢، ٢٢٧، ویأتي عند المؤلف برقم: ٣٠٥١) (صحیح )
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں (یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں) کو حکم دیا کہ وہ مزدلفہ سے منیٰ رات ہی میں چلے جائیں۔
It was narrated from Ibn Abbas, from Al-Fadl, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded the weak ones among Banu Hashim to move on from Jam (Al-Muzadalifah) at night.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3034