عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے (کچھ دیر آرام کرنے کے لیے) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے سربہ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے سرربہ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں ۔
It was narrated from Muhammad bn Imran Al-Ansari that his father said: "Abdullah bin Umar came to me when I had stopped beneath a large tree on the way to Makkah. He said: Why did you stop beneath this tree? I said: Because of its shade. Abdullah said: The Messenger of Allah ﷺ said: If you are between the two mountains of Mina - and he pointed with his hand toward the east - there is a valley there called As-Surrabah according to the narration of Al-Harith: Called As-Surar - in which there is large tree beneath which seventy Prophets علیہم السلام were born." (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2995
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٣٦٧) موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٩)، مسند احمد (٢/١٣٨) (ضعیف) (اس کے رواة ” محمد بن عمران “ اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں )
عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں (بیٹھے) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم ﷺ لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim At-Taimi that a man among them who was called ‘Abdur-Rahman bin Muadh said: “The Messenger of Allah ﷺ addressed us in Mina, and Allah enabled us to hear what he said when we were in our encampments. The Prophet ﷺ started to teach them their rituals until he reached the Jimar (stoning the pillars), and he said: look for pebbles the size of date stones or fingertips. And he told the Muhajirin to camp in front of the Masjid and the Ansar to camp behind the Masjid.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2996
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ١ ؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔
It was narrated that ‘Abdul Aziz bin Rafi (RA) said: “I asked Anas bin Malik (RA): ‘Tell me of something that you learned from the Messenger of Allah ﷺ where did he pray Zuhr on the day of At- Tarwiyah?’ He said: ‘In Mina.’ I said: ‘Where did he pray ‘Asr on the day of An-Nafr?’ He said: ‘In Al-Abtah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2997
Notes · وضاحت
١ ؎: کوچ کے دن سے مراد یوم نفر آخر یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ ہے۔ ابطح مکہ کے قریب ایک وادی ہے جسے محصب بھی کہا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف چلے۔ تو ہم میں سے بعض لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “We left Mina with the Messenger of Allah ﷺ for ‘Arafat, and some of us were reciting the Talbiyah and some reciting the Takbir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2998
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “We left for ‘Arafat with the Messenger of Allah ﷺ and some of us were reciting the Talbiyah and some were reciting the Takbir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2999
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے انس ؓ سے پوچھا اور ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آج کے دن آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے) کس طرح تلبیہ پکارتے تھے، تو انہوں نے کہا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تھا، تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کی جاتی تھی۔
Muhammad bin Abi Bakr Ath-Thaqafi narrated: “When we were leaving Mina for ‘Arafat, I said to Anas (RA): ‘What did you do for the Talbiyah with the Messenger of Allah ﷺ on this day?’ He said: ‘Those who recited the Talbiyah did so, and no one criticized them, and those who recited the Takbir did so, and no one criticized them.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3000
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کی صبح انس ؓ سے پوچھا: آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ مسافت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔
It was narrated that Muhmmad bin Abi Abkr - Ath-Thaqafi - said: "I said to Anas on the morning of Arafat: What do you say about the Talbiyah on this day? I said: I walked this path with the Messenger of Allah and his Companions. Some of them recited the Talbiyah and some recited the Takbir, and none of them denounced any other.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3001
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر ؓ سے کہا: اگر یہ آیت: اليوم أکملت لکم دينكم ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے۔ عمر ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے، جس رات ١ ؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی، اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے۔
It was narrated that Tariq bin Shihab said: A Jew said to `Umar: "If this Verse had been revealed to us, we would have taken it as a festival (Eid): This day, I have perfected your religion for you." Umar said: "I know the day when it was revealed and the night on which it was revealed: a Friday night when we were with Messenger of Allah in Arafat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3002
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید اس سے مراد سنیچر کی رات ہے جمعہ کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کردی گئی ہے کہ وہ جمعہ سے متصل تھی، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن شام کو نازل ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں اس میں ہمارے لیے جمع کردیں ایک جمعہ کی عید دوسری عرفہ کی عید۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہوسکتا ہے یہ یونس (جن کا اس روایت میں نام آیا ہے) یونس بن یوسف ہوں، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated that from Aishah that the Messenger of Allah said: "There is no day on which Allah, the Mighty and Sublime, frees more of his slaves, male and female, from the fire, than the day of Arafah. He comes close, then he boasts to the angels about them and say: What do these people want?" (Sahih) Abdu Abdur-Rhamn (An-Nasai) said: It appears that Yunus bin Yusuf is the one who reported it from Malik and Allah, most High, Knows best.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3003
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٦ (٣٠١٤)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣١) (صحیح) (شیخ البانی نے لکھا ہے کہ سیوطی نے الجامع الکبیر میں مسلم، نسائی اور ابن ماجہ سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس میں (عبدا وأمة) کا ذکر کیا ہے، اور أو أمة کی زیادتی ان لوگوں کے یہاں اور دوسرے محدثین (دار قطنی، بیہقی اور ابن عساکر کے یہاں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور میں نے صحیح الجامع میں اس کا ذکر کیا ہے، تو جس کے پاس یہ کتاب ہو وہ لکھ لے کہ أو أمة کا لفظ بےاصل ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٢٥٥١، وتراجع الالبانی ٢٠٣) اور آپ یہاں دیکھ رہے ہیں کہ نسائی کے یہاں یہ زیادتی موجود ہے ۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق ( ١١ ، ١٢ ، ١٣ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah said: "The day of Arafat and the day of sacrifice and the day of At-Tashriq are our Id, the people of Islam, and they are days of eating and drinking.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3004
Notes · وضاحت
١ ؎: عرفہ کے دن روزہ کی ممانعت اس حج کرنے والے شخص کے لیے خاص ہے جو اس دن میدان عرفات میں ہو۔
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے (مکہ کے گورنر) حجاج بن یوسف کو لکھا وہ انہیں حکم دے رہے تھے کہ وہ حج کے امور میں عبداللہ بن عمر ؓ کی مخالفت نہ کریں، تو جب عرفہ کا دن آیا تو سورج ڈھلتے ہی عبداللہ بن عمر ؓ اس کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ اور اس خیمہ کے پاس انہوں نے آواز دی کہاں ہیں یہ، حجاج نکلے اور ان کے جسم پر کسم میں رنگی ہوئی ایک چادر تھی اس نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو چلئے۔ اس نے کہا: ابھی سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حجاج نے کہا: (اچھا) ذرا میں نہا لوں، پھر آپ کے پاس آتا ہوں۔ انہوں نے ان کا انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ نکلے تو وہ میرے اور میرے والد کے درمیان ہو کر چلے۔ تو میں نے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں اور عرفات میں ٹھہرنے میں جلدی کریں۔ تو وہ ابن عمر ؓ کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ ان سے اس بارے میں سنے۔ تو جب ابن عمر ؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated that Salim Bin Abdullah said: "Abdul Malik bin Marwan wrote to Al-Hajjaj bin Yusuf telling him not to go against Ibn Umar with regard to the Hajj. On the day of Arafat, Ibn Umar came to him when the sun had passed its zenith, and I was with him, and shouted near his cotton tent: Where is he? Al-Hajjaj came out to him, wearing a wrap dyed with safflower. He said: What is the matter, O Abu Abdur Rahman? He said: We have to move on if you want to follow Sunnah. He said to him: At this hour? He said: Yes. He said: I will pour some water over my self (have a bath) then I will come out to you. So he waited until he came, then he walked between my father and me, I said: If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to stand (in Arafat). He started to look at Ibn Umar so that he could hear that, and when Ibn Umar noticed that he said: He is speaking the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3005
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس ؓ کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ معاویہ ؓ سے ڈر رہے ہیں، (انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے) تو ابن عباس ؓ (یہ سن کر) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: لبيك اللہم لبيك لبيك (افسوس کی بات ہے) علی ؓ کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I was with Ibn Abbas in Arafat and he said: Why do I not hear the people reciting Talbiyah? I said: They are afraid of Muawiyah. So Ibn Abbas went out of his tent and said: "Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaik! They are only forsaking the Sunnah out of hatred for Ali.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3006
نبی ط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو نماز سے پہلے ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salamah bin Nubait, that his father said: "I saw the Messenger of Allah delivering a Khutab atop a red camel in Arafat, before the Salah." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3007
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٢ (١٩١٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥٨ (١٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩)، مسند احمد (٤/٣٠٥، ٣٠٦) (صحیح )
نبی ط رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفہ کے دن سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
It was narrated from Salamah bin Nubait that his father said: "I saw the Messenger of Allah delivering a Khutbah on the day of Arafat atop a red camel." (Hasan) Chpater 200. Delivering A Short Khutbah In Arafat.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3008
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا: اسی وقت، انہوں نے کہا: ہاں (اسی وقت) ، سالم کہتے ہیں: میں نے حجاج سے کہا: اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔
It was narrated from Salim bin Abdullah that: Abdullah bin Umar came to Al-Hajjaj bin Yusuf on the day of Arafat when the sun has passed its zenith, and I was with him. He said: "We have to move on if you want to follow Sunnah." He said to him: "At this hours?" He said: Yes." Salim said: "I said to Al-Hajjaj: If you want to follow the Sunnah, then deliver a short Khutbah and hasten to pray. Abdullah bin Umar said: He is telling the truth.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3009
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گرگئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said: "I was a companion rider with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) at Arafat. He raised his hands in supplication, so his she-camel began leaning and he dropped her halter, so he took the halter with one of his hands while he was raising the other hand.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3011
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں، پھر وہاں سے لوٹیں، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو نازل فرمائی۔
It was narrated that Aishah said: "The Quraish used to stand in Al-Muzdalifah and they called themselves Al-Hums, and the rest of Arabs stood in Arafat. Then Allah, Blessed and Most High, commanded his Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to stand in Arafat, and then move on from there. Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Then depart from the place whence all the people depart.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3012
Notes · وضاحت
١ ؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم ﷺ کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟ ) ۔
It was narrated from Muhammad bin Jubir bin Mutim that his father: "I lost a camel of mine, so I went to look for it in Arafat on the day of Arafat. I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) standing there and said: what is he doing here? He is one of the Hums.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3013
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں موقف (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث کے وارث ہو۔
It was narrated from Amr bin Abdullah bin Safwan that Yazid bin Shaiban said: "We were standing in Arafat in a place far from the place of standing, and Ibn Mirba Al-Ansari came and said: I am the messenger of Messenger of Allah to you; he says: Stay where you are (for it is a place of ritual), for you are following the legacy of you father Ibrahim, peace be upon him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3014
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٦٣ (١٩١٩)، سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٣)، سنن ابن ماجہ/الحج ٥٥ (٣٠١١)، مسند احمد ٤/١٣٧ (صحیح )