جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، (اور ایسا اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin ‘Abdullah say: During the Farewell Pilgrimage the Prophet ﷺ circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Manwah on his mount so that the people could see him and he could see them, and they could ask him questions, and the people crowded around him. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2975
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو صفا ومروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
It was narrated that Kathir bin Jumhan said: “I saw Ibn ‘Umar walking between As-Safa and Al-Marwah. He said: ‘I am walking because I saw the Messenger of Allah ﷺ: walking, and I hasten because I saw the Messenger of Allah ﷺ hasten.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2976
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو دیکھا … آگے راوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے جو اوپر کی حدیث میں گزرا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں (میں عام چال چل لوں یہی میرے لیے بہت ہے) ۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: “I saw Ibn ‘Umar” and he mentioned something similar, except he said: “and I am an old man.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2977
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو صفا ومروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔
It was narrated that Az Zuhri said: “They asked Ibn ‘Umar (RA): ‘Did you see the Messenger of Allah ﷺ walk rapidly between As-Safa and Al-Marwah?’ He said: ‘He was among a group of people and they walked rapidly, and I think they went at the same pace as him.” (Da’if)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2978
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٤٤٦) (ضعیف الإسناد) (زہری کا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں (تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم مدینے جا کر کمزور و لاغر ہوگئے ہیں) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ walked rapidly between As-Safa and Al-Marwah to show the idolators that he was strong.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2979
صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی ١ ؎۔
It was narrated from Safiyyah bint Shaibah that a woman said: I saw the Messenger of Allah ﷺ hastening at the bottom of the valley and he said: “The river bed should not be crossed except with vigor.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2980
Notes · وضاحت
١ ؎: اب اس حصے پر دو سبز پتھر لگا دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ٤٣ (٢٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨٢)، مسند احمد (٦/٤٠٤، ٤٠٥) (صحیح )
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا سے اتر کر نیچے آتے تو عام رفتار سے چلتے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچ جاتے تو آپ دوڑنے لگتے یہاں تک کہ اس (نشیبی جگہ) سے نکل جاتے۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah (RA), that when the Messenger of Allah ﷺ came down from As-Safa, he would walk until he reached the bottom of the valley, then he would hasten until he came out of it. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2981
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول ﷺ کے دونوں قدم وادی کے نشیبی حصہ میں پہنچے، تو آپ نے رمل کیا یہاں تک کہ اس نشیبی جگہ سے نکل گئے۔
It was narrated that Jabir said: “When the Messenger of Allah ﷺ reached level ground at the bottom of the valley, he would hasten until he came out of it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2982
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفا سے نیچے اترے یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو آپ نے رمل کیا، اور جب چڑھائی پر پہنچے تو عام رفتار سے چلے۔
Jabir narrated that the Messenger of Allah ﷺ came down from As-Safa until he reached level ground in the valley, then he hastened (Rami) until (the ground) rose, then he walked. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2983
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Marwah and climbed up until he could see the House, then he said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, and He has power over all things).” He said that three times, then he remembered Allah, and glorified and praised Him, then he supplicated there for as long as Allah willed. And he did that until he had finished Sa‘i (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2984
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفا کے پاس گئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا پھر آپ نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی اور لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير کہا پھر آپ چلے یہاں تک کہ جب آپ کے دونوں قدم نشیب میں پڑے تو آپ نے سعی کی (دوڑے) اور جب آپ کے قدم اونچائی و بلندی کی طرف اٹھے ١ ؎ تو آپ عام چال چلنے یہاں تک کہ آپ مروہ کے پاس آئے تو وہاں بھی آپ نے وہی کیا جو آپ نے صفا پر کر کیا تھا یہاں تک کہ اپنی سعی پوری کی۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ went to As-Safa and climbed it and said: (There is none worthy of worship except Allah alone with no partner or associate, His is the dominion and to Him be praise, He gives life and death, and He has power over all things).” Then he walked until he reached level ground, then he hastened until the ground began to rise. Then he walked until he came to Al-Marwah, and he did the same there as he did at As-Safa, until he had finished his Sa’i. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2985
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے د ہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا ومروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے۔ قیس بن سعد کہتے ہیں: لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: “I cut a little from the ends of the hair of the Messenger of Allah ﷺ with the edge of an arrow that I had with me, after he had circumambulated the House, and performed Sai between As-Safa and Al-Marwah, during the ten days.” Qais said: “The people rebuked Muawiyah for that.” (Sahih)
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2989
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ معاویہ رضی الله عنہ کا وہم ہے، صحیح بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع میں متمتع نہیں تھے، بلکہ قارن تھے، آپ نے مروہ پر نہیں، دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں حلق کروایا تھا معاویہ والا واقعہ غالباً عمرہ جعرانہ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کرلیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلی تو آپ نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ with no intention but Hajj. When he had circumambulated the House and performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah, he said: ‘Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2990
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with the Messenger of Allah ﷺ for the Farewell Pilgrimage. Some of us entered Ihram for Hajj and some of us entered Ihram for ‘Umrah and brought along a Hadi. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever entered Ihram for ‘Umrah and did not bring a Hadi, let him exit Ihram, And whoever entered Ihram for ‘Umrah and did bring a Hadi, let him not exit Ihram. Whoever entered Ihram for Hajj let him complete his Iajj.” Aishah (RA) said: “And I was one of those who had entered Ihram for Umrah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2991
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے (یعنی احرام کھول دے) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے ، زبیر ؓ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر (جا کر) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔
It was narrated from Asma’ bint Abi Bakr who said: “We came with the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah for Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram. Whoever has a Hadi with him, let him remain in Ihram.’ Az-Zubair had a Hadi with him so he remained in Ihram, but I did not have a Hadi with me so I exited Ihram, put on my ordinary garments, and put on some of my perfume. Then I sat down with Az Zubair and he said: ‘Go away from me.’ I said: ‘Are you afraid that I am going to jump on you?” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2992
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٩ (١٢٣٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤١ (٢٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٩)، مسند احمد (٦/٣٥٠، ٣٥١) (صحیح )
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس وقت جعرانہ کے عمرہ سے لوٹے تو ابوبکر ؓ کو (امیر مقرر کر کے) حج پر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ آئے۔ پھر جب وہ عرج ١ ؎ میں تھے اور صبح کی نماز کی اقامت کہی گئی اور وہ اللہ اکبر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی پیٹھ کے پیچھے آپ نے ایک اونٹ کی آواز سنی تو اللہ اکبر کہنے سے رک گئے اور کہنے لگے: یہ تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی جدعا کی آواز ہے۔ شاید رسول اللہ ﷺ کا خود بھی حج کے لیے آنے کا ارادہ بن گیا ہو تو ہوسکتا ہے رسول اللہ ﷺ آ رہے ہوں (آپ ہوئے) تو ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس اونٹنی پر علی ؓ سوار ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے ان سے پوچھا: آپ (امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں) یا قاصد بن کے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم قاصد بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مقامات حج میں سورة برأۃ پڑھ کر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجا ہے۔ پھر ہم مکہ آئے تو ترویہ سے ایک دن پہلے (یعنی ساتویں تاریخ کو) ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اور انہیں ان کے حج کے ارکان بتائے۔ جب وہ (اپنے بیان سے) فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنائی، یہاں تک کہ پوری سورت ختم ہوگئی، پھر ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے انہوں نے خطبہ دیا اور انہیں حج کے احکام سکھائے۔ یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوگئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورة برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ پھر جب یوم النحر یعنی دسویں تاریخ آئی تو ہم نے طواف افاضہ کیا، اور جب ابوبکر ؓ لوٹ کر آئے تو لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں طواف افاضہ کرو، قربانی کرنے اور حج کے دیگر ارکان ادا کرنے کے طریقے سکھائے اور جب وہ فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ پوری سورت انہوں نے ختم کی، پھر جب کوچ کا پہلا دن آیا ٢ ؎ تو ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ وہ کیسے کوچ کریں اور کیسے رمی کریں۔ پھر انہیں حج کے (باقی احکام) سکھلائے جب وہ فارغ ہوئے تو علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سورة برأت لوگوں کو پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ اسے ختم کیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن خثیم (یعنی عبداللہ بن عثمان) حدیث میں قوی نہیں ہیں، اور میں نے اس کی تخریج اس لیے کی تاکہ اسے ابن جریج عن ابی الزبیر نہ بنا لیا جائے ٣ ؎ میں نے اسے صرف اسحاق بن راہویہ بن ابراہیم سے لکھا ہے، اور یحییٰ ابن سعید القطان نے ابن خیثم کی حدیث کو نہیں چھوڑا ہے، اور نہ ہی عبدالرحمٰن کی حدیث کو۔ البتہ علی بن مدینی نے کہا ہے کہ ابن خیثم منکر الحدیث ہیں اور گویا علی بن مدینی حدیث ہی کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔
It was narrated from Jabir that when the Prophet ﷺ came back from the ‘Umrah of Al-Ji’rranah, he sent Abu Bakr (RA) to lead the Hajj. We went with him until, when he was in Al-’Urj, the Iqamah for Subh was said, and he stood up to say the Takbir while he heard the grunting of a camel behind him, and he did not say the Takbir. He said: “This is the grunting of the camel of the Messenger of Allah ﷺ perhaps the Messenger of Allah ﷺ has had second thoughts about the Hajj, and may be he is here, and we will pray with him.” But it was ‘Ali (RA) on the camel. Abu Bakr (RA) said to him: “(Have you come) as a leader or as a messenger?” He said: “No, as a messenger, sent by the Messenger of Allah ﷺ with a declaration of Announce to recite it to the people in the stations of Hajj. So we came to Makkah and one day before the day of At-Tam’iyah Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them about their rituals. When he finished, ‘Ali (RA) stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. Then we went out with him and on the day of Arafat. Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them about their rituals. When he finished, ‘Ali (RA), stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. Then on the day of Sacrifice, we departed (Ifadah) and when Abu Bakr (RA) came back, he addressed the people, telling them about their departure (Ifadah), sacrifice and rituals. When he finished, ‘Ali (RA), stood up and recited declaration of Announce to the people until he finished it. On the first day of An-Nafr (the 12th of Dhul-Hijjah - Abu Bakr (RA) stood up and addressed the people, telling them how to offer their sacrifice and how to stone the Jamarat, and teaching them their rituals. When he had finished, Ali (RA) stood up and recited the declaration of Announce to the people until he finished it. (Da’if) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Ibn Khuthaim is not strong in Hadith, and I only narrated this so it would not be considered to be from Ibn Juraij from Abu Az Zubair. And we did not write it except from Ishaq bin Rahuyah bin Ibrahm. And Yahya bin Saeed Al Qattan did not abandon the narrations of Ibn Khuthaim, or did ‘Abdur-Rahman. However, ‘Ali bin Al-Madini said: “lbn Khuthaim is Munkar in Hadith,” and ‘Ali bin Al-Madini is more knowledgeable of Hadith.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2993
Notes · وضاحت
١ ؎: عرج ایک مقام کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی بارہویں تاریخ ہوئی جسے نفر اول کہا جاتا ہے اور نفر آخر تیرہویں ذی الحجہ ہے۔ ٣ ؎: یعنی میں نے اس حدیث کی تخریج اس سند کے ساتھ جس میں ابن جریج اور ابوزبیر کے درمیان ابن خیثم ہیں اس سند سے نہیں کی ہے جس میں ابن جریج بن ابی الزبیر جیسا کہ بعض محدثین نے کی ہے تاکہ یہ ابن جریج کے طریق سے منقطع ہو کیونکہ وہ ابوالزبیر سے ارسال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٧)، سنن الدارمی/المناسک ٧١ (١٩٥٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عبداللہ بن عثمان بن خثیم “ کو علی بن المدینی نے منکر الحدیث قرار دیا ہے، مگر حافظ نے ” صدوق “ کہا ہے )
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مکہ) آئے تو ذی الحجہ کی چار تاریخیں گزر چکی تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: احرام کھول ڈالو اور اسے عمرہ بنا لو ، اس سے ہمارے سینے تنگ ہوگئے، اور ہمیں یہ بات شاق گزری۔ اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! حلال ہوجاؤ (احرام کھول دو ) اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم لوگ کر رہے ہو ، تو ہم نے احرام کھول دئیے، یہاں تک کہ ہم نے اپنی عورتوں سے صحبت کی، اور وہ سارے کام کئے جو غیر محرم کرتا ہے یہاں تک کہ یوم ترویہ یعنی آٹھویں تاریخ آئی، تو ہم مکہ کی طرف پشت کر کے حج کا تلبیہ پکارنے لگے (اور منیٰ کی طرف چل پڑے) ۔
It was narrated that Jabir said: “We came with the Messenger of Allah ﷺ on the fourth day of Dhul-Hijjah. The Prophet ﷺ said: ‘Exit Ihram and make it ‘Umrah.’ We were distressed and upset by that. News of that reached the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘people, exit Ihram. Were it not for the Hadi that I brought with me, I would have done what you are doing.’ So we exitied Ihram, and had intercourse with our wives, and we did everything that the non Muhrim does until the day of At Tarwiyah, when we put Makkah behind us (when we headed for Mina) and entered Ihram for Hajj.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2994
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٨)، و مسند احمد (٣/٢٩٢، ٣٦٤، ٣٠٢) (صحیح )