سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Muhammad bin Sad that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is like this and like this and like this,” meaning, twenty-nine. Yahyah bin Saeed and others narrated it from Isma’il, from Muhammad bin Sad, from : the Prophet ﷺ. (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2136
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کرلیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے عن أبیہ کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔
It was narrated that Muhammad bin Sad bin Abi Waqqas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is like this and like this and like this.” (One of the narrators) Muhammad bin ‘Ubaid clapped his hands three times to demonstrate it, then he withheld his left thumb the third time. Yahya bin Saeed said to Isma’il (one of the narrators): “From his father?” He said: “No.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2137
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٣٧ (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month may be twenty-nine days or it may be thirty. When you see it, then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete the count.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2138
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “We are an unlettered Ummah, we do not use astronomical counting or computation. The month is like this, and this, and this,” he did three times, showing it as twenty nine. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2140
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ آپ نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، اور تیسری بار انگوٹھا بند کرلیا، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن ١ ؎۔
It was narrated from Saeed bin ‘Amr bin Saeed bin Abi Al-’As, that he heard Ibn ‘Umar narrate that the Prophet ﷺ said: “We are an unlettered Ummah; we do not use computation or astronomical calculations. The month is like this, and this, and this,” and he held down his thumb the last time. “And the month is like this, and this, and this,” completing thirty. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2141
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مہینہ کبھی ٢٩ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے ۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر ؓ سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The month is like this," and (one of the narrators) Shubah did the same gesture as Jabalah had done, copying, Ibn Umar: "It is twenty-nine, as he gestured twice with all fingers of both hands, and putting down one of his fingers the third time."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2142
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abdullah said: "Messenger of Allah said: "The Messenger of Allah said: Take Shaur, for in Sahur there is blessing." Ubaidullah bin Saeed narrated it in Mawquaf from
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2144
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Eat Sahur, for in Sahar there is blessing.” (Sahih Mawquf) While Ibn Abi Laila narrated it in Marfu’ form:
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2148
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: In this narration of Yayah bin Saeed, its chain is Hasan but it is Munkar, and I fear that the error is from Muhammad bin Fudail.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2151
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: عطاء عن أبي هريرة کی بجائے أبو سلمة عن أبي هريرة محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥٤) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے )
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً ) دن ١ ؎ مگر سورج ٢ ؎ نکلا نہیں تھا۔
It was narrated that Zirr said: “We said to Hudhaifah: ‘At what time did you take Saht with the Messenger of Allah ﷺ?’ He said: ‘It was daytime, but before the sun had risen.” (Da’if)
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2152
Notes · وضاحت
١ ؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہوجاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٢٥)، مسند احمد ٥/٣٩٦، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٥ (حسن الإسناد )
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ ؓ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہوگئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔
Zirr bin Hubaish said: “I had Sahar with Hudhaifah, then we went out to pray. When we came to the Masjid we prayed two Rak’ahs, then the Iqamah for prayer was said, and there was only a short time between them.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2153
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، (اتنے میں) نماز کھڑی کردی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔
It was narrated that Silah bin Zufar said: “I had Sahur with Iludhaifah, then we went out to the Masjid. We prayed the two Rak’ahs of Fajr, then the Iqamah for prayer was made, and we prayed.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2154
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
Hisham reported from Qatadah, from Anas, that Zaid bin Thabit said: “We took Sahar with the Messenger of Allah ﷺ then we went to pray.” I said: “How long was there between them?” He said: “As long as it takes a man to recite fifty verses.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2155