Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 108 of 289

2138Sunan An Nasai

حضرت سعد بن مالک کی روایت میں حضرت اسمعیل سے اختلاف

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

It was narrated from Muhammad bin Sad that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is like this and like this and like this,” meaning, twenty-nine. Yahyah bin Saeed and others narrated it from Isma’il, from Muhammad bin Sad, from : the Prophet ﷺ. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2136
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2139Sunan An Nasai

حضرت سعد بن مالک کی روایت میں حضرت اسمعیل سے اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا.

محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کرلیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے عن أبیہ کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔

It was narrated that Muhammad bin Sad bin Abi Waqqas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is like this and like this and like this.” (One of the narrators) Muhammad bin ‘Ubaid clapped his hands three times to demonstrate it, then he withheld his left thumb the third time. Yahya bin Saeed said to Isma’il (one of the narrators): “From his father?” He said: “No.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2137
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٣٧ (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے )
2140Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month may be twenty-nine days or it may be thirty. When you see it, then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete the count.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2138
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٤١٠) (صحیح الإسناد )
2141Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔

‘Abdullah Ibn ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘The month is twenty-nine days.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2139
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٧)، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٣)، مسند احمد ٢/٤٠، ٧٥ (صحیح )
2142Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ said: “We are an unlettered Ummah, we do not use astronomical counting or computation. The month is like this, and this, and this,” he did three times, showing it as twenty nine. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2140
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١٣ (١٩١٣)، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣١٩)، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٥)، مسند احمد ٢/٤٣، ٥٢، ١٢٢، ١٢٩ (صحیح )
2143Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ آپ نے فرمایا: ہم اُمّی لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے ، اور تیسری بار انگوٹھا بند کرلیا، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin ‘Amr bin Saeed bin Abi Al-’As, that he heard Ibn ‘Umar narrate that the Prophet ﷺ said: “We are an unlettered Ummah; we do not use computation or astronomical calculations. The month is like this, and this, and this,” and he held down his thumb the last time. “And the month is like this, and this, and this,” completing thirty. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2141
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مہینہ کبھی ٢٩ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2144Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الشَّهْرُ هَكَذَا، وَوَصَفَ شُعْبَةُ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہے ۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر ؓ سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The month is like this," and (one of the narrators) Shubah did the same gesture as Jabalah had done, copying, Ibn Umar: "It is twenty-nine, as he gestured twice with all fingers of both hands, and putting down one of his fingers the third time."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2142
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ١١ (١٩٠٨)، والطلاق ٢٥ (٥٣٠٢)، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ٦٦٦٨)، مسند احمد ٢/٤٤، ١٨ (صحیح )
2145Sunan An Nasai

حضرت ابوسلمہ کی حدیث میں یحیٰی بن ابی کثیر پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔

Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is twenty-nine (days).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2143
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٠)، مسند احمد ٢/٧٧ (صحیح )
2146Sunan An Nasai

سحری کھانے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، وَقَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔

It was narrated that Abdullah said: "Messenger of Allah said: "The Messenger of Allah said: Take Shaur, for in Sahur there is blessing." Ubaidullah bin Saeed narrated it in Mawquaf from

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2144
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٢١٨) (حسن صحیح )
2147Sunan An Nasai

سحری کھانے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَسَحَّرُوا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: لَا أَدْرِي كَيْفَ لَفْظُهُ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟

It was narrated that ‘Abdullah said: “Take Sahur.”Ubaidullah said: “I do not know how he said it.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، انظر ما قبلہ (حسن صحیح )
2148Sunan An Nasai

سحری کھانے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2146
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣)، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥)، سنن الترمذی/الصوم ١٧ (٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٢ (١٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨)، مسند احمد ٣/٢٢٩، سنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨) (صحیح )
2149Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ نَسَائِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2147
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤١٨٧)، مسند احمد ٢/٣٧٧، ٤٧٧ (صحیح )
2150Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Eat Sahur, for in Sahar there is blessing.” (Sahih Mawquf) While Ibn Abi Laila narrated it in Marfu’ form:

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2148
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ موقوف روایت صحیح ہے، اور مرفوع اس سے زیادہ صحیح ہے )
2151Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2149
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٢)، مسند احمد ٢/٣٧٧، ٤٧٧ (صحیح )
2152Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Eat Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2150
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2153Sunan An Nasai

اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْغَلَطُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: In this narration of Yayah bin Saeed, its chain is Hasan but it is Munkar, and I fear that the error is from Muhammad bin Fudail.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2151
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: عطاء عن أبي هريرة کی بجائے أبو سلمة عن أبي هريرة محمد بن فضیل کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥٤) (صحیح) (اصل حدیث صحیح ہے، مؤلف نے سند میں غلطی کا اشارہ دیا ہے )
2154Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَيَّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ.

زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: (تقریباً ) دن ١ ؎ مگر سورج ٢ ؎ نکلا نہیں تھا۔

It was narrated that Zirr said: “We said to Hudhaifah: ‘At what time did you take Saht with the Messenger of Allah ﷺ?’ He said: ‘It was daytime, but before the sun had risen.” (Da’if)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2152
Notes · وضاحت
١ ؎: دن سے مراد شرعی دن ہے جو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔ ٢ ؎: سورج سے مراد طلوع فجر ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ سحر اس وقت کھاتے جب طلوع فجر قریب ہوجاتی۔ حذیفہ رضی الله عنہ کی اگلی روایت سے یہی معنی متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ دن کا سورج نکلنے کے قریب ہونا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٢٥)، مسند احمد ٥/٣٩٦، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٠٥ (حسن الإسناد )
2155Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا إِلَّا هُنَيْهَةٌ.

زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے حذیفہ ؓ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہوگئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔

Zirr bin Hubaish said: “I had Sahar with Hudhaifah, then we went out to pray. When we came to the Masjid we prayed two Rak’ahs, then the Iqamah for prayer was said, and there was only a short time between them.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2153
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
2156Sunan An Nasai

سحری میں تاخیر کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا.

صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، (اتنے میں) نماز کھڑی کردی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔

It was narrated that Silah bin Zufar said: “I had Sahur with Iludhaifah, then we went out to the Masjid. We prayed the two Rak’ahs of Fajr, then the Iqamah for prayer was made, and we prayed.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٥٤ (صحیح الإسناد )
2157Sunan An Nasai

نماز فجر اور سحری کھانے میں کس قدر فاصلہ ہونا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا (وقفہ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔

Hisham reported from Qatadah, from Anas, that Zaid bin Thabit said: “We took Sahar with the Messenger of Allah ﷺ then we went to pray.” I said: “How long was there between them?” He said: “As long as it takes a man to recite fifty verses.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2155
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٢٧ (٥٧٥)، والصوم ١٩ (١٩٢١)، صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٧)، سنن الترمذی/الصوم ١٤ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٣ (١٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٣٦٩٦)، مسند احمد ٥/١٨٢، ١٨٥، ١٨٦، ١٨٨، ١٩٢، سنن الدارمی/الصوم ٨ (١٧٣٧) (صحیح )