عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا (کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (کی گنتی) پوری کرو، (اور) اگر دو گواہ (چاند دیکھنے کی) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار (یعنی عید) کرو ۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Zaid bin Al-Khattab (RA) addressed the people on the day concerning which there was doubt (as to whether the month had begun) and said: “I sat with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ and asked them, and they narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and perform the rites on that basis. If it is obscured, then complete thirty days, and if two witnesses testify then fast and stop fasting.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2116
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2117
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٢٩ شعبان کو آسمان میں بادل ہوں اور اس کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزوں کی شروعات کرو، اسی طرح ٢٩ رمضان کو اگر عید الفطر کا چاند نظر نہ آسکے تو تیس روزے پورے کر کے عید الفطر مناؤ۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، (اور) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2118
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (پورے) تیس دن روزہ رکھو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When you see the Crescent then fast, and when you See it, stop fasting. If it is obscured from you (too cloudy), then fast thirty days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2119
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الصوم ٢ (١٠٨١)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٣١٠٢)، مسند احمد ٢/٢٦٣، ٢٨١ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ۔
‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out (from the beginning of the month, to complete thirty days).” (Sahih).
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2120
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٩٠٠) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٤)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٣)، مسند احمد ٢/١٥٢ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو، (اور) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ mentioned Ramadan and said: “Do not fast until you see the crescent, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2121
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم (رمضان کے) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس (مہینے) کا حساب لگا لو ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said: “Do not fast until you see it, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.” (sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2122
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: جب تم اسے (یعنی رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (یعنی عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned the crescent and said: ‘When you see it, fast, and when you see it, stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then count thirty days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2123
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے (رمضان کا چاند) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2124
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbás said: “I am surprised at those who anticipate the month, when the Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you see the new crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty days.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2125
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ١ ؎ یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کرلو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کرلو ۔
It was narrated from Ribi’i bin Hirash, from Hudhajfah bin Al Yaman, that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not anticipate the month until you see the crescent before it, or you complete the number of days. Then fast until you see the new moon, or you complete the number of days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کرلو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کرلو ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated from Rib’i that one of the Companions of the Prophet ﷺ h. said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not anticipate the month until you complete the number, or you see the crescent. Then fast, and do not stop fasting until you see the crescent, or your complete thirty days.” Al Hajjaj bin Artah reported it in a Mursal from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2127
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو ۔
It was narrated that Rib’i said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting. If it is too cloudy then complete Sha’ban as thirty days, unless you see the crescent before that, then fast Ramadan as thirty days, unless you see the new crescent before that.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2128
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٢٨ (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہوجائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو ۔
Ibn ‘Abbas narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “Fast When you see it, and stop fasting when you see it, and if clouds Prevent you from seeing it, then Complete the number, and do not fast ahead of Ramadàn.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2129
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٧ (٢٣٢٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥ (٦٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٥)، مسند احمد ١/٢٢٦، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٥)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢١٣٢، ٢١٩١ (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم: ٢١٢٦ سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور (چاند) دیکھ کر (روزہ) بند کرو، (پس) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہوجائے تو تیس (دن) پورے کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not fast before Ramadan. Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if clouds prevent you from seeing it, then complete thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2130
Notes · وضاحت
١ ؎: رمضان سے پہلے سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ٢٩ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہوجائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک ماہ (تک) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چناچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن (ہوئے) ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ swore not to come to his wives for a month, and twenty-nine days passed. I said: ‘Did you not vow to keep away from your wives for a month? I have counted twenty-nine days.’ The Messenger of Allah ﷺ said: The month is twenty-nine days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2131
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٤ (١٠٨٣)، والطلاق ٥ (١٤٧٩)، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (٣٣١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٤ (٢٠٥٩)، مسند احمد ٦/١٦٣ (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبکما اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں (التحریم: ٤ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ ؓ نے عائشہ ؓ سے ظاہر کردی تھی کنارہ کشی اختیار کرلی، عائشہ ؓ کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے (ابھی) انتیسویں رات کی (ہی) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I was very keen to ask ‘Umar bin Al-Khattab (RA) about the two wives of the Messenger of Allah ﷺ to whom Allah said: If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you), your hearts are indeed so inclined.” And he quoted the Hadith. He said concerning it: “The Messenger of Allah ﷺ withdrew from his wives for twenty-nine days because of that, when Hafsah had made her disclosure to Aishah (RA). He had said: ‘I will not enter upon them for a month,’ because he was so upset with them when Allah, the Mighty and Sublime, informed him of what they had said. When twenty-nine days had passed, he entered upon Aishah (RA), so he started with her. Aishah (RA) said to him: ‘Messenger of Allah ﷺ, you swore not to enter upon us for a month, and now twenty-nine days have passed; we have been counting them.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The month is twenty-nine days.”(Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2132
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ said: “Jibril, peace be upon him, came to me and said: ‘The month is twenty- nine days.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2133
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا (ایک) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے ، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Sad bin Abi Waqqas from his father, that the Prophet ﷺ struck one hand with the other and said: “The month is like this and like this and like this,”retaining one finger the third time. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2135
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں سے دو بار اشارہ کیا، اور تیسری بار میں ایک انگلی گرا لی، تو یہ کل انتیس دن ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٤ (١٠٨٦)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨ (١٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٠)، مسند احمد ١/١٨٤ (صحیح )