ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، (اور) جب جبرائیل (علیہ السلام) کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (روایت) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے (جو اوپر گزری) راوی نے اس حدیث میں ایک (دوسری) حدیث داخل کردی ہے۔
It was narrated that Aishah said: "Hardly anyone every remembered the Messenger of Allah cursing anyone, and if he had recently met with Jibril and studied the Quran with him, he was more generous in doing good than the blowing with. "(Sahih) Abu Abdur-Rehman (An-Nasai) said; This is a mistake, and what is correct is the (previous) narration of Yunus bin Yazid, he put this narration in the Hadith.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2096
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are shut, and the devils are fettered.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2097
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are fettered.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2098
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔
Abu Hurairah said; The Messenger of Allah said: When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2099
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: When Ramadan comes, the gates of mercy are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2100
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When it is Ramadan, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are Chained up.” It was narrated by Ibn Ishaq from Az-Zuhri. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2101
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق (والی) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح (روایت) وہ ہے جس کا ذکر ہم (اوپر) کرچکے ہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened. The gates of the Fire are closed and the devils are chained up.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This — meaning, the narration of Ibn Ishaq — is a mistake. Ibn Ishaq did not hear from Az-Zuhri. What is correct is what we mentioned it previously.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2102
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٩٩ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There has come to you Ramadan in which the gates of Paradise are opened, the gates of the Fire are closed and the devils are chained up.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: This narration is a mistake.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2103
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٤٠)، مسند احمد ٣/٢٣٦ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، اور فرماتے تھے: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً (من قطعاً ) روایت کیا ہے۔
It was narrated from Az Zuhri, from Abu Salamah, from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to encourage praying Qiyam Al-Lail in Ramadan, but not forecibly. And he said: “When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are closed, and the devils are chained up.” Ibn Al-Mubarak narrated it in Mursal form: (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2104
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، سنن الترمذی/الصوم ٨٣ (٨٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧٠)، مسند احمد ٢/٢٨١، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٢٠٠، لکن عندھم الجزء الأخیر ” من قام رمضان إیمانا الخ بدل ” إذا دخل رمضان الخ “ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔
It was narrated Az-Zuhri, from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “When Ramadan begins, the gates of mercy are opened and the gates of Hell are closed, and the devils are chained up.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2105
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٦٠٤) (صحیح) (سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آچکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کردیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There has come to you Ramadan, a blessed month, which Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined you to fast. In it the gates of heavens are opened and the gates of Hell are closed, and every devil is chained up. In it Allah has a night which is better than a thousand months; Whoever is deprived of its goodness is indeed deprived.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2106
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ١ ؎، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا ٢ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ٣ ؎۔
It was narrated that ‘Arfajah Said: “We visited ‘Utbah bin Farqad (when he was ill) and we talked about the month of Ramdan. He said: ‘What are you talking about?’ We said: ‘The month of Ramadan.’ He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In it the gates of Paradise are opened and the gates of the Fire are closed, and the devils are chained up, and a caller calls out every night: doer of good, proceed; doer of evil, desist!” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2107
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہی اس کا وقت ہے کیونکہ اس وقت معمولی عمل پر بہت زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔ ٢ ؎: اور توبہ کرلے کیونکہ یہی توبہ کا وقت ہے۔ ٣ ؎: غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہے کہ عرفجہ نے اسے عتبہ بن فرقد رضی الله عنہ کی روایت بنادیا ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی اور صحابی سے مروی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٨)، مسند احمد ٤/٣١١، ٣١٢، ٥/٤١١ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
عرفجہ کہتے ہیں: میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام ؓ میں سے ایک (صاحب وہاں) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چناچہ (انہوں) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! باز آ جا ۔
It was narrated that ‘Arfajah said: “I was in a house with ‘Utbah bin Farqad, and I wanted to narrate a Hadith, but there was a man from among the Companions of the Prophet ﷺ there, and I felt it was more appropriate for him to narrate the Hadith than I. The man narrated that the Prophet ﷺ said, concerning Ramadan: ‘In it the gates of heavens are opened and the gates of the Fire are shut, and every devil is fettered. A caller calls out every night: seeker of good, proceed; seeker of evil, desist!” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2108
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہوگی (پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔
It was narrated from abu Bakrah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said; None of you should say: I fasted Ramadan or I prayed Qiyam throughout the whole month." I do not know whether he dislike self-praise or he said: "Inevitably there will be heedlessness and sleep." (Da if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2109
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٤٧ (٢٤١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٤)، مسند احمد ٥/٣٩، ٣٠، ٤١، ٤٨، ٥٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” حسن بصری “ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت سے کہا: جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کرلو، کیونکہ (ماہ رمضان میں) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے ۔
Ibn Abbas told us: "The Messenger of Allah said to a woman from among the Ansar: When it is Ramadan, perform Umrah then, for Umrah during it is equivalent to Hajj."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2110
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل ؓ نے انہیں معاویہ ؓ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آگیا، عبداللہ بن عباس ؓ نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے (تاکیداً ) پوچھا: تم نے (بھی) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں (میں نے بھی دیکھا تھا) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے (بھی) روزے رکھے، اور معاویہ ؓ نے بھی، (تو) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے (سنیچر) کی رات کو دیکھا تھا، (لہٰذا) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم (گنتی کے) تیس دن پورے کرلیں، یا ہم (اپنا چاند) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
Kuraib narrated that Umm Al-Fadl sent him to Muawiyah in Ash-Sham. He said: "I came to Ash-Sham. He said: "I came to Ash-Sham and complete her errand. Then the new crescent of Ramadan was sighted while I was in Ash-Sham. I saw the new crescent on the night of Friday, then I came to Al-Madinah at the end of the month. Abdullah bin Abbas asked me about the sighting of the moon and said: When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said; You saw it on the ninth of Friday? I said: Yes, and the people saw it and started fasting, and so did Muawiyah. He said: But we saw it on the night of Saturday, so we will continue fasting until we have completed thirty days or we see it. I said: Will you not be content with the sighting of Muawiyah and his companions? He said; No; this is what the Messenger of Allah enjoined upon us."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2111
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا (اور) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کردیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said; "A Bedouin came to the Prophet and said: I have sighted the crescent. He said: Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Muhammad is His slave and Messenger? He said: Yes. So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the call saying: Fast."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2112
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصیام ١٤ (٢٣٤٠، ٢٣٤١) مرسلاً، سنن الترمذی/الصیام ٧ (٦٩١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٤)، سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم ٢١١٦: میں آ رہا ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A Bedouin come to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said; I have sighted the crescent tonight. He said: Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Messenger? He said: Yes. He said: O Bilal, announce to the people that they should fast tomorrow. "
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2113