عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے (اور) فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟ (پھر) آپ نے فرمایا: اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں ، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر ؓ سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے (یوں) کہا تھا: یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: إنک لا تسمع الموتى (النمل: ٨٠ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) stood at the well of Badr and said: "Have you found what your Lord promised to be true?" he said: "They can hear what I am saying to them now". Mention of that was made to Aishah and she said: "Ibn Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: "Ibn Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: Now they know that what I used to say to them is the truth. Then she recited: So verily, you (O Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2076
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی آدم (کے جسم کا ہر حصہ) ، (مغیرہ والی حدیث میں ہے) ابن آدم (کے جسم کے ہر حصہ کو) مٹی کھا جاتی ہے، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے، اور اسی سے (دوبارہ) جوڑا جائے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: The Messenger of Allah said: The whole of the son of Adam will be consumed by the earth, except for the tailbone, from which he was created and from which he will be created a new."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2077
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر ٤ (٤٨١٤)، و تفسیر النبأ ١ (٤٩٤٥)، صحیح مسلم/الفتن ٢٨ (٢٩٥٥)، سنن ابی داود/السنة ٢٤ (٤٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٥، ١٣٨٨٤)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٨)، مسند احمد ٢/٣١٥، ٣٢٢، ٤٢٨، ٤٩٩ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کرسکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا (یہ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بےنیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "Allah, the Mighty and Sublinm, says: The son of Adam denied Me and he had no right to do so. and the son of Adam reviled Me and he had no right to do so. As for his denying Me, It is his saying that I will not resurrect him as I created him in the beginning, but resurrecting him is not more difficult for Me than creating him in the first place. And as for his reviling Me, it is his saying that Allah has taken a son, but I am Allah, the One, the Self-Sufficient Master, I beget not nor was I begotten, and there is none co-equal or comparable unto Me."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2078
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٣)، و تفسیر سورة الصمد ١ (٤٩٧٤)، مسند احمد ٢/٣١٧، ٣٥٠، ٣٩٤ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا: ایک بندے نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا (سخت) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا ، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، (تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah say: There was a man who wronged himself greatly, and when he was dying he said to his family: When I am dead, burn my body then grind my bones and scatter me in the wind and at sea, for by Allah , if Allah gets hold of me, he will punish me in a way that He will not punish anyone else. So his family did that, but Allah, the Mighty and Sublime, said to everything that had taken any part of him to give up what it had taken. Then there he was, standing Allah, the Mighty and Sublime, said: What made you do what you did? He said: Fear of You. So Allah forgave him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2079
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨١)، والتوحید ٣٥ (٧٥٠٦)، صحیح مسلم/التوبة ٥ (٢٧٥٦)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٠ (٤٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٨٠)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥١)، مسند احمد ٢/٢٦٩ (صحیح )
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چناچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah said: "There was a man among those who came before you who thought badly of his deeds, so when death was approaching he said to his family: When I am dead, burn my body and grind up my bones, then scatter me in the sea, for if Allah gets hold of me, He will never forgive me. But Allah commanded the angles to seize his soul. He said to him: What made you do what you did? He said:: O Lord, I only did it because I feared You. So Allah forgave him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2080
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون ملو گے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "I heard the Messenger of Allah delivering a Khutbah from the Minbar and he said: You will meet Allah barefoot, naked and uncircumcised."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2081
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: كما بدأنا أول خلق نعيده جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے (الانبیاء: ١٠٤ ) ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The people will be gathered on the Day of Resurrection naked and uncircumcised. The first one to be clothed will be Ibrahim." Then he recited: As We began the first creation, We shall repeat it
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2082
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے ، تو اس پر عائشہ ؓ نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (ان چیزوں سے) بےنیاز کر دے گی ۔
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah said: "The people will be raised up on the Day of Resurrection barefoot, naked and uncircumcised." Aishah said: "What about their Awrahs?" he said: "Every man that day will have enough to make him careless of others".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2083
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ (قیامت کے دن) ننگے پاؤں (اور) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے ، میں نے پوچھا: مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: معاملہ اتنا سنگین ہوگا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہوگی ۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will be gathered (one the Day of Resurrection) barefoot and naked." I said: "Men and women looking at one another?" he said: "The matter will be too difficult for people to pay attention to that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2084
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ١ ؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ١ ؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: The people will be gathered on the Day of Resurrection in three ways. (the first will be) those who have the hope (of Paradise) and the fear (of punishment). (the second will be) those who come riding two on a camel, or three on a camel, or four on a camel, or the on a camel, or four on a camel, or ten on a camel or ten o a camel. And the rest of them will be gathered by the Fire which will accompany them, stopping with them where they rest in the afternoon, and staying with them where they stop overnight, and staying with them wherever they are in the morning, and in the evening.""
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2085
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آگ کا ذکر بہت سی حدیثوں میں آیا ہوا ہے، یہ عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو شام کی طرف ہانک کرلے جائے گی۔ ٢ ؎: یہ پہلا گروہ ہوگا جو موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسی وقت چل پڑے گا جب سواریوں اور زاد راہ کی بہتات ہوگی، چناچہ وہ سوار ہو کر کھاتا اور پہنتا پہنچے گا، اور کچھ بیٹھے رہیں جب سواریاں کم ہوجائیں گی تب چلیں گے، ایک اونٹ پر کئی کئی لوگ سوار ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جو سواریوں سے محروم ہوگا، اور جسے آگ پا پیادہ ہانک کرلے جائے گی۔
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق ﷺ نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ (قیامت کے دن) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہوگا، کھاتے (اور) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا (بلکہ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چناچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہوگا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا۔
It was narrated that Abu Dharr said; "The truthful one whom people believe told me: The people will be gathered in three groups: A group who will be riding, well fed and well clothed; a group whom the angels will drag on their faces and whom the fire will drive; and a group who will be walking with difficulty. Allah will send a disease to kill all the riding beasts and none will remain, until a man would give a garden for a she-camel but he will not be able to have it.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2086
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٦)، مسند احمد ٥/١٦٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” ولید بن عبداللہ بن جمیع “ حافظہ کے ذرا کمزور راوی ہیں، اس لیے کبھی کبھی انہیں روایتوں میں وہم ہوجایا کرتا تھا )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے (ابوداؤد کی روایت میں یجائ ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں سیؤتی ہے) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی (تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، (اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے) ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah stood up to give an admonition and he said: O people, you will be gathered to Allah naked." (One of the narrators) Abu Dawud said: "Barefoot and uncircumcised." (The narrators) Waki and Wahb said: "Naked and uncircumcised: As We began the first creation, We shall repeat it. The first one to be clothed on the Day of Resurrection will be Ibrahim, peace be upon him. Then some men from among my Ummah will be brought and will be taken toward the left. I will say: O Lord, my companions. It will be said: You do not know what they innovated after you were gone, and I shall say what the righteous slave said: And I was witness over them while I dwelt amongst them, but when You took me up, You were the Watcher over them, but when You took me up, You were the Watcher over them; and You are a Witness to all things. If You punish them, they are Your slaves, and if You forgive them, verily, You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise. And it will be said: These people kept turning away since you left them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2087
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مرگیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کردیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم ﷺ نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مرگیا، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مرگیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے ایسا (ہی) ہوگا ۔
Mu awiyah bin Qurrah narrated that his father said: "When the Prophet of Allah sat, some of his Companions would sit with him. Among them was a man who had a little son who used to come to him from behind, and he would make him sit in front of him. He (the child) died, and the man stopped attending the circle because it reminded him of his son, and made him feel sad. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) missed him and said: Why do I not see so-and-so? They said: O Messenger of Allah, his son whom you saw has died. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) met him and asked him about his son, and he told him that he had died. He offered his condolences and said: O son-and-so, which would you like better, to enjoy his company all you life, or to come to any of the gates of Paradise on the Day of Resurrection, and find that he arrived there before you, and he is opening the gate for you? he said: O Prophet (صلی اللہ علیProphet of to the gate of Paradise before me and open it for me is dearer to me. He said: You will have that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2088
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چناچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کردی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہوگا، (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا: تب تو ابھی (مرنا بہتر ہے) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The angel of death was sent to Musa. Peace be upon him, and when he came to him, he slapped him and put his eye out he went back to his Lord and said: Go back to him and tell him to put his hand on the back of a bull, and of every hair that his hand covers he will have one year. He said: O Lord, then what? He said; Death. He said: Let me go now. And he (Musa) asked his Lord to bring him within a stones throw of the Holy Land, the distance of a stones throw. The Messenger of Allah said: If I where there, I would show you his grave, beside the road beneath a red dune."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2089
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس پراگندہ بال آیا، (اور) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: پانچ (وقت کی) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو ، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی (روزے) رکھنا چاہو ، (پھر) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہوگیا ، یا کہا: اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوگیا ۔
It was narrated from Talhah bin Ubaidullah that: a Bedouin came to the Messenger of Allah with unkempt hair and said: "O Allah has enjoined upon me of Salah." He said: "The five daily prayers, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of fasting." He said: "Fasting the month of Ramadan, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of Zakah." The Messenger of Allah told him of the laws of Islam, He said: "By the One Who has honored you, I will not do anything voluntarily, and I will not do anything voluntarily, and I will not do less than that which Allah has enjoined upon, me: The Messenger of Allah said: "He will succeed if he is sincere," or "He will enter Paradise if he is sincere."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2090
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چناچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: اللہ نے (پھر) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش (چیزیں) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش (چیزیں) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (نمازوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: اس نے سچ کہا (پھر) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (دنوں کے روزوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔
It was narrated that Anas said: "We were forbidden in the Quran to ask the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: O Muhammad, your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you. He said: He spoke the truth. He said: Who created the heavens? He said: Allah. He said: Who created the Earth? He said: Allah. He said: Who set up the mountains in it? He said: Allah. He said: Who created beneficial things in them? He said: Allah. He said: By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less. When he left, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If he is sincere, he will certainly enter paradise."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2091
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: پوچھو جو چاہتے ہو ، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (میری بات پر گواہ رہنا) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "While we were sitting in the Masjid, a man came on a camel and made it keneel in the Masjid, then he hobbled it and said to them: Which of you is Muhammad? The Messenger of Allah was reclining amid his Companions, and we said to him: This white man who is reclining. The man said to him: O son of Abdul-Muttalib. The Messenger of Allah said: I have answered you. The man said; O Muhammad, I am going to ask you questions, and I will be harsh in asking; do not get upset.; The man said: I adjure you by your Lord and the Lord of those who cam before you, has Allah sent you to all the people? The Messenger of Allah said: By Allah, yes. He said; I adjure you by Allah, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night? The Messenger of Allah said: By Allah, yes.; He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: By Allah, Yes. He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor? The Messenger of Allah said. By Allah, yes. The man said: I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr." Yaqub bin Ibrahim contradicted him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2092
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے لیث اور سعید کے درمیان ابن عجلان کا واسطہ بڑھایا ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ ﷺ لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو (اس) شخص نے (پکار کر) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو ، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا! ) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said: "while we were with the Messenger of Allah, sitting in the Masjid, a man entered on a camel. He made it kneel in the Masjid, then he hobbled it. Then he said; Which of you is Muhammad? He was reclining among them, and we said to him: This white man who is reclining. The man said to him: O son of Abdul-Muttalib. The Messenger of Allah said to him: I have answered you. The man said: O Muhammad, I am going to ask you questions and I will be harsh in asking. He said; Ask whatever you like. The man said; I adjure you by your Lord, and the Lord of those who came begfore you, has Allah sent you to all the people? The Messenger of Allah said: by Allah, yes, He said: Iadjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and divide it among our poor? The Messenger of Allah said: By Allah, Yes. The ma said; I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr." (Sahih) Ubaidullah bin Umar contradicted him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2093
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے اسے عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابی ہریرہ ۃ کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن عجلان نے اسے عن سعید عن شریک عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ مخالفت ضرر رساں نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ سعید نے دونوں سے سنا ہو تو انہوں نے کبھی اس طرح طریق سے روایت کیا ہو، اور کبھی اس طریق سے (عبیداللہ کی روایت آگے آرہی ہے)۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں (حمزہ کہتے ہیں: الأمغر سرخی مائل کو کہتے ہیں) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ ﷺ نے کہا: پوچھو جو چاہو ، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں ، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں ، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے (زکاۃ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں ، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں ، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ ﷺ نے کہا: اے اللہ گواہ رہنا ہاں ، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "While the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was with his Companions a man from among the desert people came and said: Which of you is the son of Abdul-Muttalib? They said: This Anghar man who is reclining on a pillow. (One of the narrators) Hamzah said: "Amghar means white with a reddish complexion.- The man said: I am going to ask you questions and I will be harsh in asking. He said: ask whatever you like. He said: I ask you by your Lord and the Lord of those who came before you, and the Lord of those who will come after you; has Allah sent you? He said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night? He said: By Allah, yes.; He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to take from the wealth of our rich and give it to our poor? he said: By Allah, yes He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month out of the twelve months? He said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to go on pilgrimage to this House, where can afford it? He said: By Allah yes. He said: I belive, and I am Dimam bin Thalabah."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2094
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہوجاتے تھے، جبرائیل (علیہ السلام) آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے (اور) قرآن کا دور کراتے تھے۔ (راوی) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔
It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Utabah that Abdullah bin Abbas used to say: "The Messenger of Allah was the most generous of people, and he was most generous in Ramadan when Jibril met him. Jibril use to meet him every night during the month of Ramadan and study Quran with him." And he said: "When Jibril met him, the Messenger of Allah was more generous in doing good than the blowing wind."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2095