خرید وفروخت کے بیان

Sahih Bukhari · Chapter 24 · 180 hadiths · Page 7 of 10

2171Sahih Bukhari

باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔

Narrated Ibn Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh dates for dried old dates by measure, and the selling of fresh grapes for dried grapes by measure.

2172Sahih Bukhari(2173)

باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ. قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص درخت پر کی کھجور سوکھی کھجور کے بدل ماپ تول کر بیچے۔ اور خریدار کہے اگر درخت کا پھل اس سوکھے پھل سے زیادہ نکلے تو وہ اس کا ہے اور کم نکلے تو وہ نقصان بھر دے گا۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا، کہ مجھ سے زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA): The Prophet ﷺ forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh fruit (without measuring it) for something by measure on the basis that if that thing turns to be more than the fruit, the increase would be for the seller of the fruit, and if it turns to be less, that would be of his lot. Narrated Ibn Umar (RA) from Zaid bin Thabit that the Prophet ﷺ allowed the selling of the fruits on the trees after estimation (when they are ripe). ________

2174Sahih Bukhari

باب: جَو کے بدلے جَو کی بیع کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس ؓ نے خبر دی کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے بلایا۔ اور ہم نے (اپنے معاملہ کی) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہوگیا۔ وہ سونے (اشرفیوں) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔ عمر ؓ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتی ہے۔

Narrated Ibn Shihab (RA) (RA): that Malik bin Aus said, "I was in need of change for one-hundred Dinars. Talha bin Ubaid-Ullah (RA) called me and we discussed the matter, and he agreed to change (my Dinars). He took the gold pieces in his hands and fidgeted with them, and then said, "Wait till my storekeeper comes from the forest." Umar was listening to that and said, "By Allah! You should not separate from Talha till you get the money from him, for Allahs Apostle ﷺ said, The selling of gold for gold is Riba (usury) except if the exchange is from hand to hand and equal in amount, and similarly, the selling of wheat for wheat is Riba (usury) unless it is from hand to hand and equal in amount, and the selling of barley for barley is usury unless it is from hand to hand and equal in amount, and dates for dates, is usury unless it is from hand to hand and equal in amount" ________

2175Sahih Bukhari

باب: سونے کو سونے کے بدلہ میں بیچنا۔

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر (کی لین دین) نہ ہو۔ اسی طرح چاندی، چاندی کے بدلہ میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر نہ ہو۔ البتہ سونا، چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔

Narrated Abu Bakra (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Dont sell gold for gold unless equal in weight, nor silver for silver unless equal in weight, but you could sell gold for silver or silver for gold as you like."

2176Sahih Bukhari

باب: چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فِي الصَّرْفِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ.

ہم سے عبیداللہ بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ ابو سعید خدری ؓ نے اسی طرح ایک حدیث رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے بیان کی (جیسے ابوبکرہ ؓ یا عمر ؓ سے گزری) پھر ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر ؓ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا، اے ابوسعید! آپ رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے یہ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ حدیث بیع صرف (یعنی روپیہ اشرفیاں بدلنے یا تڑوانے) سے متعلق ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا تھا کہ سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہی بیچا جاسکتا ہے اور چاندی، چاندی کے بدلہ میں برابر برابر ہی بیچی جاسکتی ہے۔

Narrated Abu Said (RA): (Concerning exchange) that he heard Allahs Apostle ﷺ saying, "Do not sell gold for gold unless equal in weight, and do not sell silver unless equal in weight."

2177Sahih Bukhari

باب: چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Do not sell gold for gold unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa; and do not sell silver for silver unless equivalent in weight, and do not sell less amount for greater amount or vice versa and do not sell gold or silver that is not present at the moment of exchange for gold or silver that is present. ________

2178Sahih Bukhari(2178-2179)

باب: اشرفی اشرفی کے بدلے ادھار بیچنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہیں ابوصالح زیات نے خبر دی، اور انہوں نے ابو سعید خدری ؓ کو یہ کہتے سنا کہ دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جاسکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس ؓ تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابوسعید ؓ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس ؓ سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ ﷺ (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ ؓ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔

Narrated Abu Salih Az-Zaiyat (RA): I heard Abu Said Al-Khudri(RA) saying, "The selling of a Dinar for a Dinar, and a Dirham for a Dirham (is permissible)." I said to him, "Ibn Abbas (RA) does not say the same." Abu Said replied, "I asked Ibn Abbas (RA) whether he had heard it from the Prophet ﷺ s or seen it in the Holy Book. Ibn Abbas (RA) replied, "I do not claim that, and you know Allahs Apostle ﷺ better than I, but Usama informed me that the Prophet ﷺ had said, There is no Riba (in money exchange) except when it is not done from hand to hand (i.e. when there is delay in payment). " ________

2180Sahih Bukhari(2180-2181)

باب: چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنا۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ ، قَالَ: سَأَلْتُالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Al-Minhal (RA): I asked Al-Bara bin Azib (RA) and Zaid bin Arqam about money exchanges. Each of them said, "This is better than I," and both of them said, "Allahs Apostle ﷺ forbade the selling of silver for gold on credit. "

2182Sahih Bukhari

باب: سونا چاندی کے بدلے نقد، ہاتھوں ہاتھ بیچنا درست ہے۔

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا.

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عوام نے، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ابی اسحٰق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ ؓ نے بیان کیا، اور ان سے ان کے باپ ابوبکرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چاندی، چاندی کے بدلے میں اور سونا سونے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔ البتہ سونا چاندی کے بدلے میں جس طرح چاہیں خریدیں۔ اسی طرح چاندی سونے کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں۔

Narrated Abdur-Rahman bin Abu Bakra (RA): that his father said, "The Prophet ﷺ forbade the selling of gold for gold and silver for silver except if they are equivalent in weight, and allowed us to sell gold for silver and vice versa as we wished."

2183Sahih Bukhari(2184)

باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ. قَالَ سَالِمٌ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا اور ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھل (درخت پر کا) اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کا پکا ہونا نہ کھل جائے۔ اور درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے میں نہ بیچو۔ سالم نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ ؓ نے خبر دی، اور انہیں زید بن ثابت ؓ نے کہ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کی تر یا خشک کھجور کے بدلہ میں اجازت دے دی تھی لیکن اس کے سوا کسی صورت کی اجازت نہیں دی تھی۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and Abdullah from Zaid bin Habit "Later on Allahs Apostle ﷺ permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai-l-Araya, and did not allow it for any other kind of sale." ________

2185Sahih Bukhari

باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ، اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Muzabana; and Muzabana means the selling of fresh dates (on the trees) for dried dates by measure and also the selling of fresh grapes for dried grapes by measure.

2186Sahih Bukhari

باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔

Narrated Abu Said Al-Khudri (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Muzabana and Muhaqala; and Muzabana means the selling of ripe dates for dates still on the trees.

2187Sahih Bukhari

باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ forbade Muzabana and Muhaqala.

2188Sahih Bukhari

باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔

Narrated Zaid bin Thabit (RA): Allahs Apostle ﷺ al lowed the owner of Araya to sell the fruits on the trees by means of estimation.

2189Sahih Bukhari

باب: درخت پر پھل، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ، وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهُ إِلَّا بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا.

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز (سوکھے پھل) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔

Narrated Jabir (RA): The Prophet ﷺ forbade the selling of fruits unless they get ripe, and none of them should be sold except for Dinar or Dirham (i.e. money), except the Araya trees (the dates of which could be sold for dates).

2190Sahih Bukhari

باب: درخت پر پھل، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا ، وَسَأَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الرَّبِيعِ، أَحَدَّثَكَ دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم ﷺ نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں !

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ allowed the sale of the dates of Araya provided they were about five Awsuq (singular: Wasaq which means sixty Sas) or less (in amount).

2191Sahih Bukhari

باب: درخت پر پھل، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا، قَالَ: هُوَ سَوَاءٌ ؟ قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ ؟ قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ، فَسَكَتَ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ؟ قَالَ: لَا.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ ﷺ نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جاسکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم ﷺ نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جاسکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر ؓ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔

Narrated Sahl bin Abu Hathma (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade the selling of fruits (fresh dates) for dried dates but allowed the sale of fruits on the Araya by estimation and their new owners might eat their dates fresh. Sufyan (in another narration) said, "I told Yahya (a sub-narrator) when I was a mere boy, Makkahns say that the Prophet ﷺ allowed them the sale of the fruits on Araya by estimation. Yahya asked, How do the Makkahns know about it? I replied, They narrated it (from the Prophet) through Jabir. On that, Yahya kept quiet." Sufyan said, "I meant that Jabir belonged to Medina." Sufyan was asked whether in Jabirs narration there was any prohibition of selling fruits before their benefit is evident (i.e. no dangers of being spoilt or blighted). He replied that there was none. ________

2192Sahih Bukhari

باب: عریہ کی تفسیر کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا، قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: وَالْعَرَايَا نَخَلَاتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے، انہیں زید بن ثابت ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جاسکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔

Narrated Ibn Umar (RA) from Zaid bin Thabit (RA): Allahs Apostle ﷺ allowed the sale of Araya by estimating the dates on them for measured amounts of dried dates. Musa bin Uqba said, "Al- Araya were distinguished date palms; one could come and buy them (i.e. their fruits)."

2194Sahih Bukhari

باب: پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ ﷺ کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale).

2195Sahih Bukhari

باب: پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْتُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ.

ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ (حتى تزهو. سے) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہوجائیں۔

Narrated Anas (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade the sale of date fruits till they were ripe. Abu Abdullah (Al-Bukhari) said, "That means till they were red (can be eaten)."