حج کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 20 · 237 hadiths · Page 13 of 13

1615Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قال: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ""أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ، وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.

میں نے عروہ سے ( حج کا مسئلہ ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ ؓ نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم ﷺ جب ( مکہ ) تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ ﷺ نے یہ کیا کہ وضو کیا پھر طواف کیا اور طواف کرنے سے عمرہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ابوبکر اور عمر ؓ نے بھی اسی طرح حج کیا۔ پھر عروہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد زبیر ؓ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا۔ مہاجرین اور انصار کو بھی میں نے اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ میری والدہ ( اسماء بنت ابی بکر ؓ ) نے بھی مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن ( عائشہ ؓ ) اور زبیر اور فلاں فلاں کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب ان لوگوں نے حجر اسود کو بوسہ دے لیا تو احرام کھول ڈالا تھا۔

Narrated `Urwa: `Aisha said, The first thing the Prophet did on reaching Mecca, was the ablution and then he performed Tawaf of the Ka`ba and that was not `Umra (alone), (but Hajj-al-Qiran). `Urwa added: Later Abu Bakr and `Umar did the same in their Hajj. And I performed the Hajj with my father Az- Zubair, and the first thing he did was Tawaf of the Ka`ba. Later I saw the Muhajirin (Emigrants) and the Ansar doing the same. My mother (Asma') told me that she, her sister (`Aisha), Az-Zubair and such and such persons assumed Ihram for `Umra, and after they passed their hands over the Black Stone Corner (of the Ka`ba) they finished the Ihram. (i.e. After doing Tawaf of the Ka`ba and Sa`i between Safa-Marwa.

1624Sahih Bukhari

قَالَ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"".

صفا مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی کے قریب بھی نہ جائے۔

And I asked Jabir bin `Abdullah (the same question), and he replied, You should not go near your wives (have sexual relations) till you have finished Tawaf between Safa and Marwa.

1631Sahih Bukhari

قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهَا إِلَّا صَلَّاهُمَا"".

رسول اللہ ﷺ جب بھی ان کے گھر آتے ( عصر کے بعد ) تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔

`Abdul, `Aziz bin Rufa`i said, "I saw `Abdullah bin Az-Zubair performing Tawaf of the Ka`ba after the morning prayer then offering the two rak`at prayer." `Abdul `Aziz added, "I saw `Abdullah bin Az-Zubair offering a two rak`at prayer after the `Asr prayer." He informed me that Aisha told him that the Prophet (ﷺ) used to offer those two rak`at whenever he entered her house."

1636Sahih Bukhari

وَقَالَ عَبْدَانُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فُرِجَ سَقْفِي وَأَنَا بمكة، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا: افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں مکہ میں تھا تو میری ( گھر کی ) چھت کھلی اور جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ اس کے بعد ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اسے انہوں نے میرے سینے میں ڈال دیا اور پھر سینہ بند کر دیا۔ اب وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر آسمان دنیا کی طرف لے چلے۔ آسمان دنیا کے داروغہ سے جبرائیل علیہ السلام نے کہا دروازہ کھولو۔ انہوں نے دریافت کیا کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل!۔

Narrated Anas bin Malik that Abu Dhar said: Allah's Messenger (saws) said, The roof of my house was made open while I was at Makkah (on the night of Mi'raj) and Jibril descended. He opened up my chest and washed it with the water of Zamzam. The he brought the golden tray full of Wisdom and Belief and poured it in my chest and then closed it. The he took hold of my hand and ascended to the nearest heaven. Jibril told the gatekeeper of the nearest heaven to open the gate. The gatekeeper asked, Who is it? Jibril replied, I am Jibril. (See Hadith No. 349 Vol.1)

1642Sahih Bukhari

وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا"".

انہوں نے اپنی بہن اور زبیر اور فلاں فلاں ( ؓ ) کے ساتھ عمرہ کیا ہے یہ سب لوگ حجر اسود کا بوسہ لے لیتے تو عمرہ کا احرام کھول دیتے۔

And my mother informed me that she, her sister, Az-Zubair and such and such persons had assumed lhram for `Umra and after passing their hands over the Corner (the Black Stone) (i.e. finishing their Umra) they finished their Ihram.

1646Sahih Bukhari

وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"".

صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے بیوی کے قریب بھی نہ جائے۔

We asked Jabir bin `Abdullah (the same question) and he said, He (that man) should not come near (his wife) till he has completed Tawaf between Safa and Marwa.

1670Sahih Bukhari

قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ.

نبی کریم ﷺ برابر لبیک کہتے رہے تاآنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے ( اور وہاں آپ ﷺ نے کنکریاں ماریں )۔

(A sub-narrator) said that `Abdullah bin `Abbas narrated from Al-Fadl, Allah's Apostle (p.b.u.h) kept on reciting Talbiya (during the journey) till he reached the Jamra. (Jamrat-Al-`Aqaba).

1687Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، قَالَ: فَكِلَاهُمَا قَالَا: ""لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ"".

اسامہ بن زید ؓ عرفات سے مزدلفہ تک نبی کریم ﷺ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ نے مزدلفہ سے منی جاتے وقت فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل لبیک کہتے رہے۔

Narrated 'Ubaidullah bin `Abdullah: Ibn `Abbas said, Usama bin Zaid rode behind the Prophet from `Arafat to Al-Muzdalifa; and then from Al-Muzdalifa to Mina, Al-Fadl rode behind him. He added, Both of them (Usama and Al-Fadl) said, 'The Prophet was constantly reciting Talbiya till he did Rami of the Jamarat-Al-`Aqaba.

1692Sahih Bukhari

وَعَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم نے ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے خبر دی تھی۔

Narrated 'Urwa: 'Aishah informed me about the Hajj and 'Umra (together) of the Prophet (saws) and so did the people who were with him (during the Hajj and 'Umra) and narration similar to the narration of the Ibn 'Umar (previous hadith)

1695Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ، قَالَا: ""خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ"".

نبی کریم ﷺ مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ ( حج کے لیے نکلے ) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama and Marwan: The Prophet set out from Medina with over one thousand of his companions (at the time of the Treaty of Hudaibiya) and when they reached Dhul-Hulaifa, the Prophet garlanded his Hadi and marked it and assumed Ihram for `Umra.

1744Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ.

نبی کریم ﷺ نے اجازت دی۔

Narrated Ibn `Umar: That the Prophet allowed people who provided the pilgrims with water to stay at Mecca during the nights of Mina.

1745Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ""أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَبِيتَ بمكة لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ""تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو ضَمْرَةَ.

عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے منیٰ کی راتوں میں ( حاجیوں ) کو پانی پلانے کے لیے مکہ میں رہنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبداللہ کے ساتھ ابواسامہ عقبہ بن خالد اور ابوضمرہ نے کی ہے۔

Narrated Ibn `Umar: Al-Abbas asked the permission from the Prophet to stay at Mecca during the nights of Mina in order to provide water to the people, so the Prophet allowed him.

1759Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، ""أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ امْرَأَةٍ طَافَتْ، ثُمَّ حَاضَتْ؟، قَالَ لَهُمْ: تَنْفِرُ، قَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعُ قَوْلَ زَيْدٍ، قَالَ: إِذَا قَدِمْتُمْ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا، فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ""، رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.

مدینہ کے لوگوں نے ابن عباس ؓ سے ایک عورت کے متعلق پوچھا کہ جو طواف کرنے کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں، آپ نے انہیں بتایا کہ ( انہیں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ) چلی جائیں۔ لیکن پوچھنے والوں نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابت ؓ کی بات چھوڑ دیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جاؤ تو یہ مسئلہ وہاں ( اکابر صحابہ ؓ سے ) پوچھنا۔ چنانچہ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو پوچھا، جن اکابر سے پوچھا گیا تھا ان میں ام سلیم ؓ بھی تھیں اور انہوں نے ( ان کے جواب میں وہی ) صفیہ ؓ کی حدیث بیان کی۔ اس حدیث کو خالد اور قتادہ نے بھی عکرمہ سے روایت کیا ہے۔

Narrated `Ikrima: The people of Medina asked Ibn `Abbas about a woman who got her menses after performing Tawafal- Ifada. He said, She could depart (from Mecca). They said, We will not act on your verdict and ignore the verdict of Zaid. Ibn `Abbas said, When you reach Medina, inquire about it. So, when they reached Medina they asked (about that). One of those whom they asked was Um Sulaim. She told them the narration of Safiya (812).

1761Sahih Bukhari

قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ بَعْدُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ"".

اس عورت کے لیے واپسی نہیں۔ اس کے بعد میں نے ان سے سنا آپ فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔

I heard Ibn `Umar saying that she would not depart. Then later I heard him saying that the Prophet had allowed them (menstruating women) to depart.

1772Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ""خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ، قَالَ: فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ، فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا، فَقَالَ: مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا"".

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( حجتہ الوداع ) میں مدینہ سے نکلے تو ہماری زبانوں پر صرف حج کا ذکر تھا۔ جب ہم مکہ پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں احرام کھول دینے کا حکم دیا ( افعال عمرہ کے بعد جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی ) روانگی کی رات صفیہ بنت حی ؓ حائضہ ہو گئیں، نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا «عقرى حلقى» ایسا معلوم ہوتا کہ تم ہمیں روکنے کا باعث بنو گی، پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا قربانی کے دن تم نے طواف الزیارۃ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر چلی چلو! ( عائشہ ؓ نے اپنے متعلق کہا کہ ) میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے احرام نہیں کھولا ہے آپ نے فرمایا کہ تم تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھ لو ( اور عمرہ کر لو ) چنانچہ عائشہ ؓ کے ساتھ ان کے بھائی گئے ( عائشہ ؓ نے ) فرمایا کہ ہم رات کے آخر میں واپس لوٹ رہے تھے کہ آپ ﷺ سے ملاقات ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہم تمہار انتظار فلاں جگہ کریں گے۔

(Different narrators mentioned that) `Aisha said, We set out with Allah''s Apostle (from Medina) with the intention of performing Hajj only. When we reached Mecca, he ordered us to finish the Ihram. When it was the night of Nafr (departure), Safiya bint Huyay got her menses. The Prophet said, Halqa Aqra! I think that she will detain you, and added, Did you perform the Tawaf (Al-Ifada) on the Day of Nahr (slaughtering)? She replied, Yes. He said, Then depart. I said, O Allah''s Apostle! I have not (done the Umra). He replied, Perform `Umra from Tan`im. My brother went with me and we came across the Prophet in the last part of the night. He said, Wait at such and such a place.