حج کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 20 · 237 hadiths · Page 10 of 13

1711Sahih Bukhari

باب: منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مِنْ جَمْعٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، حَتَّى يُدْخَلَ بِهِ مَنْحَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ حُجَّاجٍ فِيهِمُ الْحُرُّ وَالْمَمْلُوكُ.

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر ؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو مزدلفہ سے آخر رات میں منیٰ بھجوا دیتے، یہ قربانیاں جن میں حاجی لوگ نیز غلام اور آزاد دونوں طرح کے لوگ ہوتے، اس مقام میں لے جاتے جہاں نبی کریم ﷺ نحر کیا کرتے تھے۔

Narrated Nafi: Ibn Umar (RA) used to send his Hadi from Jam (to Mina) in the last third of the night with the pilgrims amongst whom there were free men and slaves, till it was taken into the Manhar (slaughtering place) of the Prophet ﷺ .

1712Sahih Bukhari

باب: اپنے ہاتھ سے نحر کرنا۔

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بالمدينة كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُخْتَصَرًا.

ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے انس بن مالک ؓ نے اور انہوں نے مختصر حدیث بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔

Narrated Sahl bin Bakkar (RA): The narration of Anas abridged, saying, "The Prophet ﷺ slaughtered seven Budn (camels) while standing, with his own hands. On the day of Id-ul-Adha he slaughtered (sacrificed) two horned rams, black and white in color.

1713Sahih Bukhari

باب: اونٹ کو باندھ کر نحر کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَشُعْبَةُ : عَنْ يُونُسَ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ .

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔

Narrated Zaid bin Jubair (RA): I saw Ibn Umar (RA) passing by a man who had made his Badana sit to slaughter it. Ibn Umar (RA) said, "Slaughter it while it is standing with one leg tied up as is the tradition of Muhammad."

1714Sahih Bukhari

باب: اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا۔

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَبَاتَ بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَجَعَلَ يُهَلِّلُ وَيُسَبِّحُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى الْبَيْدَاءِ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا، وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ.

ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات۔ رات آپ ﷺ نے وہیں گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر تہلیل و تسبیح کرنے لگے۔ جب بیداء پہنچے تو آپ ﷺ نے دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ساتھ تلبیہ کہا، جب مکہ پہنچے (اور عمرہ ادا کرلیا) تو صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ حلال ہوجائیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔

Narrated Anas : The Prophet ﷺ offered four Rakat of Zuhr prayer at Medina; and two Rakat of Asr prayer at Dhul-hulaifa and spent the night there and when (the day) dawned, he mounted his Mount and started saying, "None has the right to be worshipped but Allah, and Glorified be Allah." When he reached Al-Baida he recited Talbiya for both Hajj and Umra. And when he arrived at Makkah, he ordered them (his companions) to finish their Ihram. The Prophet ﷺ slaughtered seven Budn (camel) with his own hands while the camels were standing He also sacrificed two horned rams (black and white in color) at Medina. ________

1715Sahih Bukhari

باب: اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات پڑھی تھیں۔ ایوب نے ایک شخص کے واسطہ سے بروایت انس ؓ کہا پھر آپ ﷺ نے وہیں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب مقام بیداء پہنچے تو عمرہ اور حج دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ offered four Rakat of Zuhr prayer at Madinah and two Rakat of Asr prayer at Dhul-Hulaifa. Narrated Aiyub (RA): "A man said: Anas said, "Then he (the Prophet ﷺ passed the night there till dawn and then he offered the morning (Fajr) prayer, and mounted his Mount and when it arrived at Al-Baida he assumed Ihram for both Umra and Hajj." ________

1716Sahih Bukhari

باب: قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ، فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ لُحُومَهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا، قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ، وَلَا أُعْطِيَ عَلَيْهَا شَيْئًا فِي جِزَارَتِهَا.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا مجھ کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے (قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے) بھیجا۔ اس لیے میں نے ان کی دیکھ بھال کی، پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے گوشت تقسیم کئے، پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے جھول اور چمڑے بھی تقسیم کر دئیے۔ سفیان نے کہا کہ مجھ سے عبدالکریم نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ میں قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کروں اور ان میں سے کوئی چیز قصائی کی مزدوری میں نہ دوں۔

Narrated Ali (RA): The Prophet ﷺ sent me to supervise the (slaughtering of) Budn (Hadi camels) and ordered me to distribute their meat, and then he ordered me to distribute their covering sheets and skins. All added, "The Prophet ﷺ ordered me to supervise the slaughtering (of the Budn) and not to give anything (of their bodies) to the butcher as wages for slaughtering." ________

1717Sahih Bukhari

باب: قربانی کی کھال خیرات کر دی جائے گی۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مُجَاهِدًاأَخْبَرَهُمَا، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے خبر دی کہ مجاہد نے ان دونوں کو خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی، انہیں علی ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کردیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔

Narrated Ali (RA): The Prophet ﷺ ordered me to supervise the (slaughtering) of Budn (Hadi camel) and to distribute their meat, skins and covering sheets in charity and not to give anything (of their bodies) to the butcher as wages for slaughtering.

1718Sahih Bukhari

باب: قربانی کے جانوروں کے جھول بھی صدقہ کر دیے جائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَأَمَرَنِي بِلُحُومِهَا فَقَسَمْتُهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي بِجِلَالِهَا فَقَسَمْتُهَا، ثُمَّ بِجُلُودِهَا فَقَسَمْتُهَا.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سیف بن ابی سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) سو اونٹ قربان کئے، میں نے آپ ﷺ کے حکم کے مطابق ان کے گوشت بانٹ دئیے، پھر آپ ﷺ نے ان کے جھول بھی تقسیم کرنے کا حکم دیا اور میں نے انہیں بھی تقسیم کیا، پھر چمڑے کے لیے حکم دیا اور میں نے انہیں بھی بانٹ دیا۔

Narrated Ali (RA): The Prophet ﷺ offered one hundred Budn as Hadi and ordered me to distribute their meat (in charity) and I did so. Then he ordered me to distribute their covering sheets in charity and I did so. Then he ordered me to distribute their skins in charity and I did so. ________

1720Sahih Bukhari

باب: قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں۔

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بالبيت، ثُمَّ يَحِلُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ ؓ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہوجائیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کردی ہے۔ (ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں فکلوا منها کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔

Narrated Amra (RA): I heard Aisha (RA) saying, "We set out (from Medina) along with Allahs Apostle ﷺ five days before the end of Dhul-Qada with the intention of performing Hajj only. When we approached Makkah, Allahs Apostle ﷺ ordered those who had no Hadi along with them to finish the lhram after performing Tawaf of the Ka’bah, (Safa and Marwa). Aisha (RA) added, "Beef was brought to us on the Day of Nahr and I said, What is this? Somebody said, The Prophet ﷺ has slaughtered (cows) on behalf of his wives. " ________

1721Sahih Bukhari

باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ.

ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہیں منصور بن ذاذان نے خبر دی، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ (ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ was asked about a person who had his head shaved before slaughtering (his Hadi) (or other similar ceremonies of Hajj). He replied, "There is no harm, there is no harm."

1722Sahih Bukhari

باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ : عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى : حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَفَّانُ : أُرَاهُ عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ حَمَّادٌ : عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍوَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز بن رفیع نے، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور انہیں ابن عباس ؓ نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! رمی سے پہلے میں نے طواف زیارت کرلیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور یا رسول اللہ! قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈوا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور قربانی کو رمی سے بھی پہلے کرلیا نبی کریم ﷺ نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ اور عبدالرحیم رازی نے ابن خشیم سے بیان کیا، کہا کہ عطاء نے خبر دی اور انہیں ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اور قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے ابن خشیم نے بیان کیا، ان سے عطاء نے، ان سے ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔ عفان بن مسلم صغار نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہیب بن خالد سے روایت ہے کہ ابن خثیم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔ اور حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر ؓ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA): A man said to the Prophet ﷺ "I performed the Tawaf-al-Ifada before the Rami (throwing pebbles at the Jamra)." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm." The man said, "I had my head shaved before slaughtering." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm." He said, "I have slaughtered the Hadi before the Rami." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm." ________

1723Sahih Bukhari

باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ ؟ فَقَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ was asked by a man who said, "I have done the Rami in the evening." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm in it." Another man asked, "I had my head shaved before the slaughtering." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm in it."

1724Sahih Bukhari

باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟ قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بالبيت وَبِالصَّفَا والمروة، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے) آپ ﷺ نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چناچہ (مکہ پہنچ کر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر ؓ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہیے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہیے اور نبی کریم ﷺ قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔

Narrated Abu Musa (RA): came upon Allahs Apostle ﷺ when he was at Al-Bat-ha. He asked me, "Have you intended to perform the Hajj?" I replied in the affirmative. He asked, "For what have you assumed lhram?" I replied," I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet ﷺ ." The Prophet ﷺ said, "You have done well! Go and perform Tawaf round the Ka’bah and between Safa and Marwa." Then I went to one of the women of Bani Qais and she took out lice from my head. Later, I assumed the Ihram for Hajj. So, I used to give this verdict to the people till the caliphate of Umar. When I told him about it, he said, "If we take (follow) the Holy Book, then it orders us to complete Hajj and Umra (Hajj-at-Tamattu) and if we follow the tradition of Allahs Apostle ﷺ then Allahs Apostle ﷺ did not finish his lhram till the Hadi had reached its destination (had been slaughtered). (i.e. Hajj-al-Qiran). (See Hadith No. 630)

1725Sahih Bukhari

باب: اس کے متعلق جس نے احرام کے وقت سر کے بالوں کو جما لیا اور احرام کھولتے وقت سر منڈوا لیا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر ؓ نے کہ حفصہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ نے عمرہ کرلیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں (اپنے ساتھ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کرلوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔

Narrated Ibn Umar (RA): Hafsah (RA) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What is wrong with the people; they finished their Ihram after performing Umra, but you have not finished it after your Umra?" He replied, "I matted my hair and have garlanded my Hadi. So, I cannot finish my Ihram till I slaughter (my Hadi). " ________

1726Sahih Bukhari

باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ نَافِعٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔

Narrated Ibn Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ (got) his head shaved after performing his Hajj.

1727Sahih Bukhari

باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ ؟ قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَوَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ: وَالْمُقَصِّرِينَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ ؓ نے عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ نبی کریم ﷺ نے اب بھی دعا کی اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! صحابہ ؓ نے پھر عرض کی اور کتروانے والوں پر؟ اب آپ ﷺ نے فرمایا اور کتروانے والوں پر بھی، لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ نے سر منڈوانے والوں پر رحم کیا ایک یا دو مرتبہ، انہوں نے بیان کیا کہ عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ کتروانے والوں پر بھی۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "O Allah! Be merciful to those who have their head shaved." The people said, "O Allahs Apostle ﷺ ! And (invoke Allah for) those who get their hair cut short." The Prophet ﷺ said, "O Allah! Be merciful to those who have their head shaved." The people said, "O Allahs Apostle ﷺ ! And those who get their hair cut short." The Prophet ﷺ said (the third time), "And to those who get their hair cut short." Nafi said that the Prophet ﷺ had said once or twice, "O Allah! Be merciful to those who get their head shaved," and on the fourth time he added, "And to those who have their hair cut short."

1728Sahih Bukhari

باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ.

ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ ؓ نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی (یہی دعا فرمائیے) لیکن نبی کریم ﷺ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔ پھر صحابہ ؓ نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "O Allah! Forgive those who get their heads shaved." The people asked. "Also those who get their hair cut short?" The Prophet ﷺ said, "O Allah! Forgive those who have their heads shaved." The people said, "Also those who get their hair cut short?" The Prophet ﷺ (invoke Allah for those who have their heads shaved and) at the third time said, "also (forgive) those who get their hair cut short." ________

1729Sahih Bukhari

باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: حَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ.

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے بہت سے اصحاب نے سر منڈوایا تھا لیکن بعض نے کتروایا بھی تھا۔

Narrated Abdullah (RA): The Prophet ﷺ and some of his companions got their heads shaved and some others got their hair cut short. Narrated Muawiyah: I cut short the hair of Allahs Apostle ﷺ with a long blade.

1730Sahih Bukhari

باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ.

ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ اور ان سے معاویہ ؓ نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال قینچی سے کاٹے تھے۔

Narrated Muawiyah (RA): I cut short the hair of Allahs Messenger ﷺ with a long blade.

1731Sahih Bukhari

باب: تمتع کرنے والا عمرہ کے بعد بال ترشوائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطُوفُوا بالبيت وَبِالصَّفَا والمروة، ثُمَّ يَحِلُّوا وَيَحْلِقُوا أَوْ يُقَصِّرُوا.

ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں کریب نے خبر دی، ان سے ابن عباس ؓ نے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ مکہ میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیں پھر سر منڈوا لیں یا بال کتروا لیں۔

Narrated Ibn Abbas (RA): When the Prophet ﷺ came to Makkah, he ordered his Companions to perform Tawaf round the Ka’bah and between Safa and Marwa, to finish their Ihram and get their hair shaved off or cut short.