باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, " Every nation has an extremely trustworthy man, and the trustworthy man of this (i.e. Muslim) nation is Abu Ubaida bin Al-Jarrah."
باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
(نوٹ: امام بخاری رحمہ اللہ کو اپنی شرائط کے مطابق کوئی حدیث نہیں ملی، اس لیے حدیث ذکر نہیں کی، دوسری کتب میں آپ کے فضائل والی احادیث موجود ہیں)۔
نبی کریم ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام ؓ کو شوق ہوا لیکن آپ ﷺ نے ابوعبیدہ ؓ کو بھیجا۔
Narrated Hudhaifa: The Prophet said to the people of Nijran, I will send you the most trustworthy man. (Every one of) the companions of the Prophet was looking forward (to be that person). He then sent Abu 'Ubaida.
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، عَنْ الْحَسَنِ، سَمِعَ أَبَا بَكْرَةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ إِلَى جَنْبِهِ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً، وَيَقُولُ: ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیا، ان سے حسن نے، انہوں نے ابوبکرہ ؓ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن ؓ آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن ؓ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔
Narrated Abu Bakra (RA):
I heard the Prophet ﷺ talking at the pulpit while Al-Hasan was sitting beside him, and he (i.e. the Prophet) was once looking at the people and at another time Al-Hasan, and saying, "This son of mine is a Saiyid (i.e. chief) and perhaps Allah will bring about an agreement between two sects of the Muslims through him."
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عنهما، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، أَوْ كَمَا قَالَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ انہیں اور حسن ؓ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے اللهم إني أحبهما فأحبهما اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔ أو كما قال.۔
Narrated Usama bin Zaid (RA):
That the Prophet ﷺ used to take him and Al-Hasan, and used to say, "O Allah! I love them, so please love them," or said something similar.
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ: فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ.
مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ جب حسین ؓ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا (کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا) اس پر انس ؓ نے کہا حسین ؓ رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے وسمة. کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔
Narrated Muhammad (RA):
Anas bin Malik (RA) said, "The head of Al-Husain was brought to Ubaidullah bin Ziyad and was put in a tray, and then Ibn Ziyad started playing with a stick at the nose and mouth of Al-Husains head and saying something about his handsome features." Anas then said (to him), "Al-Husain resembled the Prophet ﷺ more than the others did." Anas added, "His (i.e. Al-Husains) hair was dyed with Wasma (i.e. a kind of plant used as a dye)."
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسن ؓ آپ کے کاندھے مبارک پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ۔
Narrated Al-Bara (RA):
I saw the Prophet ﷺ carrying Al-Hasan on his shoulder an saying, "O Allah! I love him, so please love him."
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَمَلَ الْحَسَنَ وَهُوَ، يَقُولُ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ، لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ، وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ابوبکر ؓ کو دیکھا کہ آپ حسن ؓ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم ﷺ سے مشابہ ہیں، علی سے نہیں اور علی ؓ مسکرا رہے تھے۔
Narrated Uqba bin Al-Harith (RA):
I saw Abu Bakr (RA) carrying Al-Hasan and saying, "Let my father be sacrificed for you; you resemble the Prophet ﷺ and not Ali," while Ali was laughing at this.
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَصَدَقَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ.
مجھ سے یحییٰ بن معین اور صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں واقد بن محمد نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ (کی خوشنودی) کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ (محبت و خدمت کے ذریعہ) تلاش کرو۔
Narrated Ibn Umar (RA):
Abu Bakr (RA) used to say, "Please Muhammad (i.e. the Prophet) by doing good to his family."
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے اور انہیں انس ؓ نے، اور عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ حسن بن علی ؓ سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم ﷺ سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔
Narrated Anas (RA):
None resembled the Prophet ﷺ more than Al-Hasan bin Ali did.
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو قتل کرچکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین ؓ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
Narrated Ibn Abi Num (RA):
A person asked Abdullah bin Umar whether a Muslim could kill flies. I heard him saying (in reply). "The people of Iraq are asking about the killing of flies while they themselves murdered the son of the daughter of Allahs Apostle ﷺ . The Prophet ﷺ said, They (i.e. Hasan and Husain) are my two sweet basils in this world."
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ،يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَايَعْنِي: بِلَالًا..
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ ؓ نے خبر دی کہ عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر ؓ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی ؓ سے تھی۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
Umar used to say, " Abu Bakr (RA) is our chief, and he manumitted our chief," meaning Bilal (RA) .
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ بِلَالًا، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي، وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبید نے کہا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ان سے قیس نے کہ بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔
Narrated Qais (RA):
Bilal (RA) said to Abu Bakr, "If you have bought me for yourself then keep me (for yourself), but if you have bought me for Allahs Sake, then leave me for Allahs Work."
باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَقَالَ: عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، حَدَّثَنَامُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ مِثْلَهُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے کہ ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ نے سینے سے لگایا اور فرمایا اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
Once the Prophet ﷺ embraced me (pressed me to his chest) and said, "O Allah, teach him wisdom (i.e. the understanding of the knowledge of Quran)."
باب: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا، وَجَعْفَرًا، وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ: أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب اسلامی علم کو زید ؓ لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کردیئے گئے، اب جعفر ؓ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، اب ابن رواحہ ؓ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید ؓ) نے علم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔
Narrated Anas (RA):
The Prophet ﷺ had informed the people about the death of Zaid, Jafar and Ibn Rawaha before the news of their death reached them. He said with his eyes flowing with tears, "Zaid took the flag and was martyred; then Jafar took the flag and was martyred, and then Ibn Rawaha took the flag and was martyred. Finally the flag was taken by one of Allahs Swords (i.e. Khalid bin Al-Walid) and Allah gave them (i.e. the Muslims) victory."
باب: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سالم رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأُبَيٍّ أَوْ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے مسروق نے کہ عبداللہ بن عمرو ؓ کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود، آپ ﷺ نے ابتداء عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل ؓ کا۔
Narrated Masruq (RA):
Abdullah (bin Masud) was mentioned before Abdullah bin Amr (RA). The latter said, "That is a man I continue to love because I heard Allahs Apostle ﷺ saying, Learn the recitation of the Quran from (any of these) four persons: Abdullah bin Masud, Salim the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai bin Kab (RA) , and Muadh bin Jabal." I do not remember whether he mentioned Ubai first or Muadh.
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا.
وَقَالَ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے ابو وائل سے سنا، کہا کہ میں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ ﷺ کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔
وَقَالَ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ .
Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA):
Allahs Apostle ﷺ neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. He used to say, "The most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." He added, " Learn the Quran from (any of these) four persons. Abdullah bin Masud (RA), Salim the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai bin Kab (RA), and Muadh bin Jabal."
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا، فَرَأَيْتُ شَيْخًا مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا، قُلْتُ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اسْتَجَابَ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَفَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمُ الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ؟ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ ؟ فَقَرَأْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى 1 وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى 2 سورة الليل آية 1-2، 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0، قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونِي.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی (نیک) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چناچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آگئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہوگئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں صاحب النعلين والوساد والمطهرة (عبداللہ بن مسعود ؓ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے (اللہ کی) پناہ مل چکی ہے۔ (یعنی عمار بن یاسر ؓ) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا (پھر دریافت فرمایا) ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) آیت والليل کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذکر والأنثى آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
Narrated Alqama (RA):
I went to Sham and was offering a two-Rakat prayer; I said, "O Allah! Bless me with a (pious) companion." Then I saw an old man coming towards me, and when he came near I said, (to myself), "I hope Allah has given me my request." The man asked (me), "Where are you from?" I replied, "I am from the people of Kufa." He said, "Werent there amongst you the Carrier of the (Prophets) shoes, Siwak and the ablution water container? Werent there amongst you the man who was given Allahs Refuge from the Satan? And werent there amongst you the man who used to keep the (Prophets) secrets which nobody else knew? How did Ibn Um Abd (i.e. Abdullah bin Masud (RA)) use to recite Surat-al-lail (the Night:92)?" I recited:--
"By the Night as it envelops By the Day as it appears in brightness. And by male and female." (92.1-3) On that, Abu Darda said, "By Allah, the Prophet ﷺ made me read the Verse in this way after listening to him, but these people (of Sham) tried their best to let me say something different."
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ، عَنْ رَجُلٍ قَرِيبِ السَّمْتِ وَالْهَدْيِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم ﷺ سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔
Narrated Abdur-Rahman bin Yazid (RA):
We asked Hudhaifa to tell us of a person resembling (to some extent) the Prophet ﷺ in good appearance and straight forward behavior so that we may learn from him (good manners and acceptable conduct). Hudhaifa replied, "I do not know anybody resembling the Prophet ﷺ (to some extent) in appearance and conduct more than Ibn Um Abd.
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِيالْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری ؓ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے گھر میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA):
My brother and I came from Yemen, and for some time we continued to consider Abdullah bin Masud (RA) as one of the members of the family of the Prophet ﷺ because we used to see him and his mother going in the house of the Prophet ﷺ very often.
باب: معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍفَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کہا ہم سے حسن بن بشیر نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے اور ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس ؓ کے مولیٰ (کریب) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (امیر معاویہ ؓ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اٹھائی ہے۔
Narrated Ibn Abu Mulaika (RA):
Muawiyah offered one Raka Witr prayer after the Isha prayer, and at that time a freed slave of Ibn Abbas (RA) was present. He (i.e. the slave) went to Ibn Abbas (RA) (and told him that Muawiyah offered one Raka Witr prayer). Ibn Abbas (RA) said, "Leave him, for he was in the company of Allahs Apostle."