Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 21 of 265

402Sunan Abu Dawood

نماز ظہر کا وقت

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ: بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈی کر کے پڑھو، (ابن موہب کی روایت میں فأبردوا عن الصلاة کے بجائے فأبردوا بالصلاة ہے) ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the heat is violent, offer (the Zuhr) prayer when it becomes fairly cool, for the violent heat comes from the bubbling over the Hell.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسے حقیقی اور ظاہری معنی میں لینا زیادہ صحیح ہے، کیونکہ بخاری و مسلم کی (متفق علیہ) حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ نے اللہ رب العزت سے شکایت کی کہ میرے بعض حصے گرمی کی شدت اور گھٹن سے بعض کو کھا گئے ہیں، تو اللہ رب العزت نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک جاڑے کے موسم میں، اور ایک گرمی کے موسم میں، جہنم جاڑے میں سانس اندر کو لیتی ہے، اور گرمی میں باہر کو، اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنا جلدی پڑھنے سے بہتر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک مثل کے بعد پڑھے، اس سے مقصود صرف اتنا ہے کہ بہ نسبت دوپہر کے کچھ ٹھنڈک ہوجائے اور جب سورج زیادہ ڈھل جاتا ہے تو دوپہر کی بہ نسبت کچھ ٹھنڈک آ ہی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧)، سنن النسائی/المواقیت ٤ (٥٠١)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٤ (٦٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٦، ١٥٢٣٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٨، ٢٩)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣)، الرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) (صحیح )
403Sunan Abu Dawood

نماز ظہر کا وقت

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ ظہر کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔

Jabir bin Samurah reported that Bilal used to call for the noon prayer when the sun had declined.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢١٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦١٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٣ (٦٧٣)، مسند احمد (٥/١٠٦) (حسن صحیح )
404Sunan Abu Dawood

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا (عصر پڑھ کر) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔

Anas bin Malik (RA) said the Messenger of Allah ﷺ used to say the Asr prayer when the sun was high and bright and living, then one would go off to al-Awali and get there while the sun was still high.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢١)، سنن النسائی/المواقیت ٧ (٥٠٨)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ١٣ (٥٥٠)، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٩)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(١١)، مسند احمد (٣/٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥ (١٢٤٤) (صحیح )
405Sunan Abu Dawood

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: أَوْ أَرْبَعَةٍ.

زہری کا بیان ہے کہ عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا۔

Al-Zuhri said: Al-Awali is situated at a distance of two miles or three (from Madina). He (the narrator) said: I think he said: or four miles.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٣٧٨) (صحیح )
406Sunan Abu Dawood

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا.

خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔

Khaythamah said: By the life of the sun is meant that you may find heat in it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٦١٨) (صحیح )
407Sunan Abu Dawood

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے کمرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ would offer the Zuhr prayer while the sunlight was present in her apartment before it ascended (the walls).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢)، ١٣ (٥٤٤)، والخمس ٤ (٣١٠٣)، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٦ (١٠٩)، سنن النسائی/المواقیت ٧ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٥ (٦٨٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(٢) (صحیح )
408Sunan Abu Dawood

نماز عصر کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً.

علی بن شیبان ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔

Narrated Ali ibn Shayban (RA) : We came upon the Messenger of Allah ﷺ in Madina. He would postpone the afternoon prayer as long as the sun remained white and clear.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٩) (ضعیف) (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں )
409Sunan Abu Dawood

صلوٰة وسطی کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے (یعنی کافروں نے) نماز وسطیٰ (یعنی عصر) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے ۔

Ali (may Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying on the day of Battle of Khandaq (Trench). They (the unbelievers) prevented is from offering the middle prayer i. e. Asr prayer. May Allah fill their houses and their graves with Hell-fire.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٨ (٢٩٣١)، والمغازي ٢٩ (٤١١١)، و تفسیر البقرة (٤٥٣٣)، والدعوات ٥٨ (٦٣٩٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، ٣٦ (٦٢٧)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة ٤٢ (٢٩٨٤)، سنن النسائی/الصلاة ١٤ (٤٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٤)، مسند احمد (١/٨١، ٨٢، ١١٣، ١٢٢، ١٢٦، ١٣٥، ١٣٧، ١٤٤، ١٤٦، ١٥٠، ١٥١، ١٥٢، ١٥٣، ١٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٨ (١٢٨٦) (صحیح )
410Sunan Abu Dawood

صلوٰة وسطی کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0، ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ ؓ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين ١ ؎ ٢ ؎، پھر عائشہ ؓ نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

Abu Yunus, the freed slave of Aisha (RA) said: Aisha (RA) commanded me to write for her come passage from the Quran. She also added: When you reach the following verse, inform me: Be guardian of your prayers and of the midmost prayer (2: 238). When I reached it, I informed her. She asked me to write: Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer, and of the Asr prayer, and stand up with devotion of Allah (2: 238). Aisha (RA) then said: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز وسطیٰ ( درمیانی نماز) نماز عصر نہیں کوئی اور نماز ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے اس سے استدلال صحیح نہیں، یا یہ عطف عطف تفسیری ہے۔ ٢ ؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٦ (٦٢٩)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٢)، سنن النسائی/الصلاة ١٤ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٥)، مسند احمد (٦/٧٣) (صحیح )
411Sunan Abu Dawood

صلوٰة وسطی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَيُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَنَزَلَتْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے، اور کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى ١ ؎ زید نے کہا: بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں (ایک عشاء کی، دوسری فجر کی) اور اس کے بعد دو نماز ہیں (ایک عصر کی دوسری مغرب کی) ۔

Zaid bin Thabit said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer the Zuhr prayer in midday heat; and no prayer was harder on the Companions of the Messenger of Allah ﷺ that this one. Hence the revelation came down: Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer (2: 238). He (the narrator) said: There are two prayers before it and two prayers after it.

Notes · وضاحت
١ ؎: نماز وسطی سے مراد کون سی نماز ہے اس سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے عصر مراد ہے، اکثر علماء کا رجحان اسی جانب ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٣)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٧ موقوفا) (صحیح )
412Sunan Abu Dawood

جس نماز کی ایک رکعت پائی تو اس نے گویا پوری نماز پائی

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says a rakah of the Asr prayer before sunset, he has observed (the Asr prayer), and if anyone performs a rakah of the Fajr prayer, he has observed (the Fajr prayer).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر اور عصر دونوں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضا، اس سے معلوم ہوا کہ فجر کا وقت سورج نکلنے تک، اور عصر کا وقت سورج ڈوبنے تک رہتا ہے، البتہ دھوپ میں زردی آجانے کے بعد وقت مکروہ ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٨)، سنن النسائی/المواقیت ١٠ (٥١٥)، ٢٨ (٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٨ (٥٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥ (١٨٦)، سنن النسائی/١١ (٥١٦، ٥١٧)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١١ (١١٢٢)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(٥)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٢٦٠، ٢٨٢، ٣٤٨، ٣٩٩، ٤٦٢، ٤٧٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٨) (صحیح )
413Sunan Abu Dawood

نماز عصر کو سورج کے زرد ہونے تک موئخر کرنے پر وعید

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا.

علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک ؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہوجائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہوجائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہوجائے ١ ؎ تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگالے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے ۔

Ala bin Abdur-Rahman said: We came upon Anas bin Malik (RA) after the Zuhr prayer. He stood for saying the Asr prayer. When he became free from praying, we mentioned to him about observing prayer in its early period or he himself mentioned it. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray: He sits (watching the sun), and when it becomes yellow and is between the horns of the devil, or is on the horns of the devil, he rises and prays for rakahs quickly, remembering Allah only seldom during them.

Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ شیطان سورج ڈوبنے کے وقت اپنا سر سورج پر رکھ دیتا ہے کہ سورج کے پجاریوں کا سجدہ اسی کو واقع ہو اور بعض نے کہا ہے کہ شیطان کی سینگ سے مراد اس کے وہ پیروکار ہیں جو سورج کو پوجتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٤ (٦٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٦ (١٦٠)، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ١٠(٤٦)، مسند احمد (٣/١٠٢، ١٠٣، ١٤٩، ١٨٥، ٢٤٧) (صحیح )
414Sunan Abu Dawood

عصر کی نماز فوت ہوجانے پر وعید

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أُتِرَ، وَاخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ فِيهِ، وقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وُتِرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی عصر چھوٹ گئی گویا اس کے اہل و عیال تباہ ہوگئے اور اس کے مال و اسباب لٹ گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ بن عمر نے وتر (واؤ کے ساتھ) کے بجائے أتر (ہمزہ کے ساتھ) کہا ہے (دونوں کے معنی ہیں: لوٹ لیے گئے) ۔ اس حدیث میں وتر اور أتر کا اختلاف ایوب کے تلامذہ میں ہوا ہے۔ اور زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے وتر فرمایا ہے۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who loses his Asr prayer is like a person whose family has perished and whose property has been plundered. Abu Dawud said: Abdullah bin Umar (RA) narrated the word utira (instead of wutira, meaning perished). The dispute on this point goes back to Ayyub. Al-Zuhri reported from Salim on the authority of this father from the Prophet ﷺ the word wutira.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٤ (٥٥٢)، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٦)، سنن النسائی/الصلاة ١٧ (٤٧٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٦ (٦٨٥)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٥ (٢١)، مسند احمد (٢/٨، ١٣، ٢٧، ٤٨، ٦٤، ٧٥، ٧٦، ١٠٢، ١٣٤، ١٤٥، ١٤٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٧ (١٢٦٧) (صحیح )
415Sunan Abu Dawood

عصر کی نماز فوت ہوجانے پر وعید

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ: وَذَلِكَ أَنْ تَرَى مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الشَّمْسِ صَفْرَاءَ.

ابوعمرو یعنی اوزاعی کا بیان ہے کہ عصر فوت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو دھوپ ہے وہ تمہیں زرد نظر آنے لگے۔

Al-Awzai said: Delaying the Asr prayer means that the sunshine becomes yellow on the earth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٩٦٥) (ضعیف ) (ولید مدلس راوی ہیں، نیز یہ اوزاعی کا اپنا خیال ہے )
416Sunan Abu Dawood

مغرب کا وقت

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَرْمِي، فَيَرَى أَحَدُنَا مَوْضِعَ نَبْلِهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر تیر مارتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔

Anas bin Malik (RA) said: We used to offer the Maghrib prayer with the Prophet ﷺ and then shoot arrows, one of us could see the place where arrow would fall.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٤) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٧٠) (صحیح )
417Sunan Abu Dawood

مغرب کا وقت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مغرب سورج ڈوبتے ہی پڑھتے تھے جب اس کے اوپر کا کنارہ غائب ہوجاتا۔

Salamah bin al-Akwa said: The Prophet ﷺ used to say the Maghrib prayer immediately after the sun had set when its upper side would disappear.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٨ (٥٦١)، صحیح مسلم/المساجد ٣٨ (٦٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٨ (١٦٤)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٧ (٦٨٨)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٥٤)، دی/الصلاة ١٦(١٢٤٥) (صحیح )
418Sunan Abu Dawood

مغرب کا وقت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ.

مرثد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب ابوایوب ؓ ہمارے پاس جہاد کے ارادے سے آئے، ان دنوں عقبہ بن عامر ؓ مصر کے حاکم تھے، تو عقبہ نے مغرب میں دیر کی، ابوایوب نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: عقبہ! بھلا یہ کیا نماز ہے؟ عقبہ نے کہا: ہم مشغول رہے، انہوں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں ۔

Narrated Abu Ayyub (RA) : Marthad ibn Abdullah said: When Abu Ayyub came upon us to fight the infidels and in those days Uqbah ibn Amir was the Governor of Egypt, he (Uqbah) delayed the sunset prayer. Hence Abu Ayyub stood and said: What kind of prayer is this, Uqbah? He said: We were busy. He said: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: My community will remain well, or he said: will remain on its natural condition, so long as it would not delay the evening prayer until the stars shine brightly just like a network.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٧) (حسن صحیح )
419Sunan Abu Dawood

عشاء کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ اس نماز یعنی عشاء کے وقت کو جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ یہ نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے کے وقت پڑھتے تھے۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: I am the one who is best informed of the time of this prayer, i. e. the night prayer. The Messenger of Allah ﷺ used to offer it at the hour when the moon went down on its third night.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٩ (١٦٥)، سنن النسائی/المواقیت ١٨ (٥٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨ (١٢٤٧) (صحیح )
420Sunan Abu Dawood

عشاء کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ ؟ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کی آمد کا انتظار کرتے رہے، آپ ﷺ اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ ﷺ کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی، جس وقت آپ ﷺ نکل کر آئے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا ، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔

Abdullah bin Umar (RA) said: We remained one night waiting for the Messenger of Allah ﷺ to offer the Isha prayer. He came out to us when one-third of the night has passed or even after it. We did not know whether anything kept him occupied or there was some other matter. When he came out, he said: Are you waiting for this prayer ? Were it not that it would impose a burden on my people, I would normally pray with them at this time. He then gave orders to the muadhdhin who declared that the time of the prayer had come.

Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢٠ (٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٢٤ (٥٧١)، مسند احمد (٢/٢٨، ٩٥، ١٢٦) (صحیح )
421Sunan Abu Dawood

عشاء کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، يَقُولُ: ارْتَقَبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ فَأَخَّرَ حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ، وَالْقَائِلُ مِنَّا، يَقُولُ: صَلَّى، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ، حَتَّى خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا، فَقَالَ لَهُمْ: أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عشاء میں نبی اکرم ﷺ کا انتظار کیا لیکن آپ نے تاخیر کی، یہاں تک کہ گمان کرنے والوں نے گمان کیا کہ آپ ﷺ نہیں نکلیں گے، اور ہم میں سے بعض کہنے والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں، ہم اسی حال میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ نکلے، لوگوں نے آپ سے بھی وہی بات کہی جو پہلے کہہ رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو دیر کر کے پڑھو، کیونکہ تمہیں اسی کی وجہ سے دوسری امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : We waited for the Prophet ﷺ to offer the night prayer. He delayed until people thought that he would not come out and some of us said that he had offered the prayer. At the moment when we were in this condition the Prophet ﷺ came out. People said to him as they were already saying. He said: Observe this prayer when it is dark, for by it you have been made superior to all the peoples, no people having observed it before you.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٧) (صحیح )