ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء پڑھنی چاہی تو آپ باہر نکلے ہی نہیں یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی (اس کے بعد نکلے) اور فرمایا: تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو، ہم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے نماز پڑھ لی اور اپنی خواب گاہوں میں جا کر سو رہے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک کہ تم نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزور کی کمزوری، اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرتا ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : We observed the prayer after nightfall with the Messenger of Allah ﷺ , and he did not come out till about half the night had passed. He then said: Take your places. We then took our places. Then he said: The people have prayed and gone to bed, but you are still engaged in prayer as long as you wait for the prayer. Were it not for the weakness of the weak and for the sickness of the sick. I would delay this prayer till half the night had gone.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٢٠ (٥٣٩)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٣١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز صبح (فجر) ادا فرماتے، پھر عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی واپس لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
Aishah reported: The Messenger of Allah ﷺ would say the Fajr prayer after which the women would depart wrapped up their woolen garments, being unrecognizable because of the darkness before dawn.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ١٣ (٣٧٢)، المواقیت ٢٧ (٥٧٨)، والأذان ١٦٣ (٨٦٧)، ١٦٥ (٨٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٤٠ (٦٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢ (١٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٦٩)، سنن النسائی/المواقیت ٢٤ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة ١(٤)، مسند احمد (٦/٣٣، ٣٦، ١٧٩، ٢٤٨، ٢٥٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠ (١٢٥٢) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر (نماز صبح) اس وقت پڑھو جب اچھی طرح صبح (صادق) ہوجائے، کیونکہ یہ چیز تمہارے ثوابوں کو زیادہ کرنے والی ہے (یا کہا: ثواب کو زیادہ کرنے والی ہے) ١ ؎۔
Rafi bin Khadij reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Offer Fajr prayer at dawn, for it is most productive of rewards to you or most productive of reward.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فجر طلوع صبح کے وقت پڑھو کیونکہ اصبح الرجل اس وقت کہا جاتا ہے جب آدمی صبح کرے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے أسفروا بالفجر کی روایت کی ہے، وہ روایت بالمعنی ہے اور یہ غلس میں پڑھنے کی فضیلت کی دلیل ہے نہ کہ اسفار کی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣ (١٥٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٦ (٥٥٠)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٢)، تحفة الأشراف (٣٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٠، ٤/١٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١ (١٢٥٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن صنابحی نے کہا کہ ابومحمد کا کہنا ہے کہ وتر واجب ہے تو اس پر عبادہ بن صامت ؓ نے کہا: ابومحمد نے غلط کہا ١ ؎، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے پانچ نماز فرض کی ہیں، جو شخص ان کے لیے اچھی طرح وضو کرے گا، اور انہیں ان کے وقت پر ادا کرے گا، ان کے رکوع و سجود کو پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اسے بخش دے گا، اور جو ایسا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اس کو بخش دے، چاہے تو عذاب دے ۔
Narrated Abdullah ibn Sunabihi (RA) : Abu Muhammad fancies that witr prayer is essential. (Hearing this) Ubadah ibn as-Samit said: Abu Muhammad was wrong. I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Exalted, has made five prayers obligatory. If anyone performs ablution for them well, offers them at their (right) time, and observes perfectly their bowing and submissiveness in them, it is the guarantee of Allah that He will pardon him; if anyone does not do so, there is no guarantee for him on the part of Allah; He may pardon him if He wills, and punish him if He wills.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان سے غلطی ہوئی ہے نہ کہ انہوں نے جان بوجھ کر جھوٹ کہا ہے ( اور یہ ابومحمد کا اجتہادی فتویٰ تھا جس کی تردید عبادہ نے اس حدیث سے کی )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصلاة ٦ (٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠١)، مسند احمد (٥/٣١٧) (صحیح )
ام فروہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا ۔ خزاعی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے (قاسم نے) اپنی پھوپھی (جنہیں ام فروہ کہا جاتا تھا اور جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی) سے روایت کی ہے، اس میں سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم کی بجائے أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل ہے۔
Narrated Umm Farwah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked: Which of the actions is best? He replied: Observing prayer early in its period. Al-Khuzai narrated in his version from his aunt named Umm Farwah who took the oath of allegiance to the Prophet ﷺ : He was questioned.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٣(١٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٥، ٣٧٤، ٤٤٠) (صحیح) (اس کے راوی قاسم مضطرب الحدیث اور عبداللہ بن عمر سیٔ الحفظ ہیں، نیز بعض أمھاتہ مجہول راوی ہیں) لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر اس باب میں صحیح ہے، عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں ہے
فضالہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نماز پر محافظت کرو، میں نے کہا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں، آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے کا حکم دیجئیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہوجائے، آپ ﷺ نے فرمایا: عصرین پر محافظت کرو ، عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا، اس لیے میں نے پوچھا: عصرین کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو نماز: ایک سورج نکلنے سے پہلے، اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے (فجر اور عصر) ١ ؎۔
Narrated Fudalah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught me and what he taught me is this: Observe the five prayers regularly. He said: I told (him): I have many works at these times; so give me a comprehensive advice which, if I follow, should be enough for me. He said: Observe the two afternoon prayers (al-asrayn). But the term al-asrayn (two afternoon prayers) was not used in our language. Hence I said: What is al-asrayn? He said: A prayer before the sunrise and a prayer before the sunset (i. e. the dawn and the afternoon prayers).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بہت زیادہ مصروف ہو اس کے لئے فقط دو وقت کی نماز کافی ہوجائے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کم سے کم ان دو وقتوں کی نماز کو اول وقت پر پابندی سے پڑھ لیا کرے (بیہقی، عراقی)۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٤) (صحیح )
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی ، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسے فرماتے سنا ہے۔
Narrated Umarah ibn Ruwaybah (RA) : A man from Basrah said: Tell me what you heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: No one will enter Hell who has prayed before the rising of the sun and before its setting (meaning the dawn and the afternoon prayers). He said three times: Have you heard it from him? He replied: Yes, each time saying: My ears heard it and my heart memorised it. The man then said: And I heard him (the Prophet) say that.
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو (دوبارہ) پڑھ لیا کرو ١ ؎، یہ تمہارے لیے نفل ہوگی ۔
Abu Dharr said: The Messenger of Allah ﷺ asked me: How will you act, Abu Dharr, when you are under rulers who kill prayer or delay it (beyond its proper time) ? I said: Messenger of Allah, what do you command me ? He replied: Offer the prayer at its proper time, and if you say it along with them, say it, for it will be a supererogatory prayer for you.
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، اور بعض لوگوں نے اس حدیث کو ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب کو دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤١ (٦٤٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (١٧٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠)، ٥٥ (٨٦٠)، مسند احمد (٥/١٦٨، ١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٥ (١٢٦٤) (صحیح )
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہوگئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ (تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں) چناچہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟ ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Amr ibn Maymun al-Awdi said: Muadh ibn Jabal, the Messenger of the Messenger of Allah ﷺ came to us in Yemen, I heard his takbir (utterance of AllahuAkbar) in the dawn prayer. He was a man with loud voice. I began to love him. I did depart from him until I buried him dead in Syria (i. e. until his death). Then I searched for a person who had deep understanding in religion amongst the people after him. So I came to Ibn Masud and remained in his company until his death. He (Ibn Masud) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: How will you act when you are ruled by rulers who say prayer beyond its proper time? I said: What do you command me, Messenger of Allah, if I witness such a time? He replied: Offer the prayer at its proper time and also say your prayer along with them as a supererogatory prayer. Abu al-Darda reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: There are five thing, if anyone observe them with faith, he will enter Paradise. He who prays the five times prayer regularly, with the ablution for them, with their bowing, with their prostration and their (right) times ; keeps fast during Ramadan ; performs Hajj (pilgrimage) to the House (Kabah), provided he has the ability for its passage; pays Zakat happily ; and fulfills the trust (he will enter Paradise). People said: Abu al-Darda, what is fulfilling the trust ? He replied: Washing because of sexual defilement.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ نماز اوّل وقت میں پڑھنا افضل ہے، دوسرے یہ کہ جماعت کے لئے اسے مؤخر کرنا جائز نہیں، تیسرے یہ کہ جو نماز پڑھ چکا ہو اس کا اسی دن اعادہ (دہرانا) جائز ہے بشرطیکہ اس اعادہ کا کوئی سبب ہو، ایک ہی نماز کو ایک ہی دن میں دوبارہ پڑھنے کی جو ممانعت آئی ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کا کوئی سبب نہ ہو، چوتھے یہ کہ پہلی نماز فرض ہوگی اور دوسری جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہے نفل ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، سنن النسائی/الإمامة ٢ (٧٨٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٥٠ (١٢٥٥)، مسند احمد (١/٣٧٩، ٤٥٥، ٤٥٩) (حسن صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کردیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو ۔ سفیان نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو اگر تم چاہو ۔
Narrated Ubadah ibn as-Samit: After me you will come under rulers who will be detained from saying prayer at its proper time by (their) works until its time has run out, so offer prayer at its proper time. A man asked him: Messenger of Allah, may I offer prayer with them? He replied: Yes, if you wish (to do so). Sufyan (another narrator through a different chain)said: May I offer prayer with them if I get it with them? He said: Yes, if you wish to do so. Narrated Abu Qatadah ibn Ribiyy: Allah, the Exalted said: I made five times prayers obligatory on your people, and I took a guarantee that if anyone observes them regularly at their times, I shall admit him to Paradise; if anyone does not offer them regularly, there is no such guarantee of Mine for him.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٥١ (١٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٠٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٥، ٣٢٩) (صحیح )
قبیصہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہوگی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ١ ؎۔
Narrated Qabisah ibn Waqqas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: After me you will be ruled by rulers who will delay the prayer and it will be to your credit but to their discredit. So pray with them so long as they pray facing the qiblah.
Notes · وضاحت
١ ؎: قبلہ رخ وہی نماز پڑھتا ہے جو مسلمان ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ نماز پڑھتے اور اسے قائم کرتے رہیں وہ مسلمان ہیں، نیک کاموں میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ ﷺ نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال ؓ سے فرمایا: (تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا ، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے نہ بلال ؓ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: اے بلال! انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ١ ؎، پھر نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ ﷺ نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے ۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی للذکرى لیکن مشہور قرأت:أقم الصلاة للذکرى (سورۃ طہٰ: ١٢) ہے) ۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں للذکرى کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: الكرى نعاس (اونگھ) کو کہتے ہیں۔
Abu Hurairah reported: When the Messenger of Allah ﷺ returned from the Battle of Khaibar, he travelled during the night. When we felt sleep, he halted for rest. Addressing Bilal he said: Keep vigilance at night for us. But Bilal who was leaning against the saddle of his mount was dominated by sleep. Neither the Prophet ﷺ nor Bilal nor any of his Companions could get up till the sunshine struck them. The Messenger of Allah ﷺ got up first of all. The Messenger of Allah ﷺ was embarrassed and said: O Bilal! He replied: He who detained your soul, detained my soul, Messenger of Allah, my parents be sacrificed for you. Then they drove their mounts to a little distance. The Prophet ﷺ perfumed ablution and commanded Bilal who made announcement for the prayer. He (the Prophet) led them in the Fajr prayer. When he finished prayer, he said: If anyone forget saying prayer, he should observe it when he recalls it, for Allah has said (in the Quran): Establish prayer for my remembrance. Yunus said: Ibn Shihab used to recite this verse in a similar way (i. e. instead of reciting the word li-dhikri - for the sake of My remembrance - he would recite li-dhikra - when you remember). Ahmad (one of the narrator) said: Anbasah (a reporter) reported on the authority of Yunus the word li-dhikri (for the sake of my remembrance). Ahmad said: The word nuas (occurring in this tradition) means drowsiness.
Notes · وضاحت
١ ؎: وہاں سے سواریوں کو ہانک کرلے جانے اور کچھ دور جا کر نماز پڑھنے کی وجہ کیا تھی؟ اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، اصحاب رائے کا کہنا ہے کہ ایسا اس وجہ سے کیا تھا کہ سورج اوپر چڑھ آئے اور وہ وقت ختم ہوجائے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے، ان کے نزدیک فوت شدہ نماز بھی ان وقتوں میں پڑھنی جائز نہیں لیکن ائمہ دین: مالک، اوزاعی، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ کے نزدیک چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہر وقت جائز ہے، ممنوع اوقات میں نماز پڑھنے کی ممانعت نفل نماز کے ساتھ خاص ہے، چناچہ اس کی تاویل ان لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ آپ ﷺ اس جگہ سے ہٹ کر نماز پڑھنی چاہتے تھے جہاں آپ کو غفلت و نسیان لاحق ہوا ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٢٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ٢٠ (٣١٦٣)، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٩، ٦٢٠)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٦(٢٥ مرسلاً ) (صحیح )
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ إِسْحَاقَ، لم يذكر أحد منهم الأذان في حديث الزهري هذا ولم يسنده منهم أحد، إلا الأوزاعي، وأبان العطار، عَنْ مَعْمَرٍ.
ابوہریرہ ؓ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ١ ؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ٢ ؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah reported: Another version of the above tradition adds: The Messenger of Allah ﷺ said: Go away from this place of yours where inadvertence took hold of you. He then commanded Bilal who called for prayer and announced that the prayer in congregation was ready (i. e. he uttered the iqamah) and he observed prayer. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Malik, Sufyan bin Uyainah, al-Awzai, and Abd al-Razzaq from Mamar and Ibn Ishaq, none of them made a mention of the call for prayer (adman) in this version of the tradition narrated by al-Zuhri, and none of them attribute (this tradition) to him except al-Awzai and Aban al-Attar on the authority of Mamar.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں اذان کا اضافہ ہے، یونس والی روایت میں اذان کا ذکر نہیں، چھوٹی ہوئی نماز کے لئے اذان دی جائے گی یا نہیں اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، امام احمد کی رائے میں اذان اور اقامت دونوں کہی جائے گی، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے، امام شافعی کا مشہور قول یہ ہے کہ صرف تکبیر کہی جائے گی اذان نہیں۔ ٢ ؎: یہی واقعہ ہشام نے حسن کے واسطے سے عمران بن حصین ؓ سے بیان کیا ہے اس میں بھی اذان کا ذکر ہے، اور ابوقتادہ ؓ کی روایت میں بھی اذان اور اقامت دونوں کا ذکر ہے (اور ان دونوں کی روایتیں آگے آرہی ہیں) یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، نیز دیگر صحابہ کرام سے بھی ایسے ہی مروی ہے، اور احادیث و روایات میں ثقہ راویوں کے اضافے اور زیادات مقبول ہوتی ہیں۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو، (یہ کون آ رہے ہیں) ؟ ، اس پر میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ہماری نماز کا (یعنی نماز فجر کا) خیال رکھنا ، اس کے بعد انہیں نیند آگئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چناچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال ؓ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے ۔
Abu Qatadah reported: The Prophet ﷺ was on a journey. The Prophet ﷺ took a turn and I also took a turn with him. He said: Look! I said: This is a rider; these are two riders; and these are three until we became seven. He then said: Guard for us our prayer, i. e. the Fajr prayer. But sleep dominated them and none could awaken them except the heat of the sun. They stood up and drove away a little. Then they got down (from their mounts) and performed ablution. Bilal called for prayer and they offered two rakahs of (Sunnah) of Fajr and then offered the Fajr prayer and mounted (their mounts). Some of them said to others: We showed negligence in prayer. The Prophet ﷺ said: There is no negligence in sleep. The negligence is in wakefulness. If any of you forget saying prayer, he should offer it when he remembers it and next day (he should say it) at its proper time.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٠ (٦٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥٣ (٦١٨)، مسند احمد (٥/٣٠٥) (صحیح )
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری ؓ نے جو رسول اللہ ﷺ کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا (اور پھر یہی قصہ بیان کیا) ، اس میں ہے: تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو، ٹھہرو، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں ، چناچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، اذان دی گئی پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے ۔
Khalid bin Sumair said: Abdullah bin Rabah al-Ansari, whom the Ansar called faqih (juries), came to us from Madina, and reported us on the authority of Abu Qatadah al-Ansari, the horseman of the Messenger of Allah ﷺ saying: The Messenger of Allah ﷺ sent a military expedition consisting of the chief Companions. He then narrated the same story, saying Nothing awakened us except the rising sun. We stoop up in bewilderment, for our prayer. The Prophet ﷺ said: Wait a little, wait a little. When the sun rose high, the Messenger of Allah ﷺ said: Those who sued to observer the two rakahs of Fajr prayer (sunnah prayer before obligatory prayer) should observe them. Then those who used to observe and those who would not observe stood up and said prayer. Then the Messenger of Allah ﷺ commanded to call for prayer; the call for prayer was made accordingly. The Messenger of Allah ﷺ stood and led us in prayer. When he turned away (from the prayer) he said: We thank Allah for the fact that we were not engaged in any wordily affairs which detained us from our prayer. Instead our souls were in the hands of Allah. He released them whenever He wished. If any one of you gets morning prayer tomorrow at its proper time, he should offer a similar prayer as an atonement.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٩) (شاذ) (اس کے راوی خالد بن سمیر وہم کے شکار ہوجاتے تھے اور اس حدیث میں ان سے کئی جگہ وہم ہوا ہے جو بقیہ احادیث سے واضح ہے )
ابوقتادہ ؓ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، چناچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
This tradition has also been reported by Abu Qatadah through a different chain of narrators. He said: Allah detained your should how He wished and returned when He wished. Stand up and call for prayer. They (the Companions) stood and performed ablution. When the sun rose high, the Prophet ﷺ stood and led the people in prayer.
ابوقتادہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے: تو آپ ﷺ نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی ۔
This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Qatadah to the same effect. This version adds: He performed ablution when the sun had arisen high and led them in prayer.
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔
Abu Qatadah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no remissness in sleep, it is only when one is awake that there is remissness when you delay saying the prayer till the time for the next prayer comes.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ۔
Anas bin Malik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying: If any one forgets a prayer or oversleeps, he should observe it when he remembers it ; there is no expiation for it except that.
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر (کی فرض نماز) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر (مؤذن نے) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔
Imran bin Husain said: The Messenger of Allah ﷺ was on his journey. They (the people) slept abandoning the Fajr prayer. They awoke by the heat of the sun. Then they travelled a little until the sun rose high. He (the Prophet) commanded the muadhdhin (one who called for prayer) to call for prayer. He then offered two rakahs of prayer (sunnah prayer) before the (obligatory) fajr prayer. Then he (the muadhdhin) announced for saying the prayer in congregation (i. e. he uttered iqamah). Then he led them in the morning prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التیمم ٦ (٣٤٤)، صحیح مسلم/المساجد ٥٥ (٦٨٢) (کلا ھما من غیر طریق الحسن)، مسند احمد (٤/٤٣١، ٤٤١، ٤٤٤) (صحیح )