عمرو بن امیہ ضمری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: اس جگہ سے کوچ کر چلو ، پھر آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ ﷺ نے انہیں فجر پڑھائی۔
Narrated Amr ibn Umayyah ad-Damri (RA) : We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ during one of his journeys. He overslept abandoning the morning prayer until the sun had arisen. The Messenger of Allah ﷺ awoke and said: Go away from this place. He then commanded Bilal to call for prayer. He called for prayer. They (the people) performed ablution and offered two rakahs of the morning prayer (sunnah prayer). He then commanded Bilal (to utter the iqamah, i. e. to summon the people to attend the prayer). He announced the prayer (i. e. uttered the iqamah) and he led them in the morning prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩١، ١٣٩) (صحیح )
ذی مخبر حبشی ؓ (خادم رسول اللہ ﷺ ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال ؓ سے کہا: نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ ﷺ نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة ہے اور عبید کی روایت میں يزيد بن صليح کے بجائے يزيد بن صالح. ہے۔
Dhu Mikhbar al-Habashi, who used to serve the Prophet ﷺ , reported a version of the previous tradition. The Prophet ﷺ performed ablution in such a way that there is no mud on the earth. He then commanded Bilal (to call for prayer). He called for prayer. The Prophet ﷺ stood and offered two rakahs of prayer unhurriedly. This is narrated by Hajjaj on the authority of Yazid bin Sulaih from Dhu Mikhbar from a person of al-Habashah (Ethiopia). Ubaid (a narrator) said: Yazid bin Salih (instead of Yazid bin Sulaih).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٨)، وقد أخرجہ: (٤/٩٠) (صحیح )
اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔
This tradition has also been transmitted through another chain of narrators by Dhu Mikhbar, the nephew of the Negus. This version adds: He (Bilal) called for prayer unhurriedly.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٨) (شاذ) (ولید بن مسلم مدلس ہیں اور دیگر رواة کی مخالفت کرتے ہوے اذان کی بابت بھی وھو غیر عجل بڑھا دیا ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟ ، بلال ؓ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے ۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں: چناچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We proceeded with the Messenger of Allah ﷺ on the occasion of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah ﷺ said: Who will keep watch for us? Bilal said: I (shall do). The overslept till the sun arose. The Prophet ﷺ awoke and said: Do as you used to do (i. e. offer prayer as usual). Then we did accordingly. He said: Anyone who oversleeps or forgets (prayer) should do similarly.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المواقیت ٥٤ (٦٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٦، ٣٩١، ٤٦٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I was not commanded to build high mosques. Ibn Abbas said: You will certainly adorn them as the Jews and Christians did.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٢ (٧٤٠) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں ١ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: The Last Hour will not come until people vie with one another about mosques.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک دوسرے پر فخر کرے گا کہ میری مسجد بلند، عمدہ اور مزین ہے، ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش اور زیادہ روشنی شرعاً ممنوع اور ناپسندیدہ ہے، مسجد کی اصل زینت اور آرائش یہ ہے کہ وہاں پنچ وقتہ اذان و اقامت اور سنت کے مطابق نماز اپنے وقت پر ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٢ (٦٩٠)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٢ (٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٤، ١٧٥، ٢٣٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر ؓ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر ؓ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ ﷺ کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں عمده خشبا کے الفاظ ہیں، پھر عثمان ؓ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ (چونا) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں وسقفه الساج کے بجائے وسقفه بالساج ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( قصة ) کے معنی گچ کے ہیں۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: The mosque (of the Prophet) during his lifetime was built with bricks, its roof with branches of the palm-tree, and its pillars with palm-wood, as Mujahid said: Abu Bakr did not add anything to it. But Umar added to it; he built as it was built during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ with bricks and branches, and he changed its pillars. Mujahid said: Its pillars were made of wood. Uthman changed it altogether with increasing addition. He built its walls with decorated stone and lime. And he built the pillars with decorated stone and its roof with teak. Mujahid said: Its roof was made of teak. Abu Dawud said: Al-Qassah means lime used as mortar.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٢ (٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کردیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر ؓ کی خلافت میں بوسیدہ ہوگئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان ؓ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہوگئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔
Ibn Umar reported: The pillars of the mosque of the Prophet ﷺ during the life time of the Messenger of Allah ﷺ were made of the trunks of the palm-tree; they covered from the above by twigs of the palm-tree; they decayed during the caliphate of Abu Bakr. He built it afresh with trunks and twigs of the palm-tree. But they again decayed during the caliphate of Uthman. He, therefore, built it with bricks. That survives until today.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٥) (ضعیف) (اس کے ایک راوی عطیہ عوفی ضعیف ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ ﷺ چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس ؓ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر ؓ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ ﷺ کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب ؓ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آجاتا آپ ﷺ نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ ﷺ نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، (وہ آئے) تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس ؓ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ ﷺ نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کردیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
Anas bin Malik (RA) reported: Messenger of Allah ﷺ came over to Madina and encamped at the upper side of Madina among the tribe known as Banu Amr bin Awf. He stayed among them for fourteen days. He then sent someone to call Banu al-Najjar. They came to him hanging their swords from the necks. Anas then said: As if I am looking at the Messenger of Allah ﷺ sitting on his mount and Abu Bakr seated behind him, and Banu al-Najjar standing around him. He descended in the courtyard of Abu Ayyub. The Messenger of Allah ﷺ would say his prayer in the folds of the sheep and goats. He commanded us to build a mosque. He then sent for Banu al-Najjar and said to them: Banu al-Najjar, sell this land of yours to me for some price. They replied: By Allah, we do not want any price (from you) except from Allah. Anas said: I tell what this land contained. It contained the graves of the disbelievers, dung-hills, and some trees of date-palm. The Messenger of Allah ﷺ commanded and the graves of the disbelievers were dug open, and the trees of the date-palm were cut off. The wood of the date-palm were erected in front of the mosque ; the door-steps wre built of stone. They were reciting verses carrying the stones. The Prophet ﷺ also joined them (in reciting verses) saying: O Allah, there is no good except the good of the Hereafter. So grant you aid to the Ansar and the Muhajirah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٨ (٤٢٨)، و فضائل المدینة ١ (١٨٦٨)، و فضائل الأنصار ٤٦ (٣٩٠٦)، صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٤)، سنن النسائی/المساجد ١٢ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٣ (٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٩١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٤٢ (٣٥٠)، مسند احمد (٣/١١٨، ١٢٣، ٢١٢، ٢٤٤) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ فانصر کی جگہ لفظ فاغفر ہے (یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے) ۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث خرث کے بجائے خرب (ویرانے) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
Anas bin Malik (RA) said: The Mosque (of the Prophet) was built in the land of Banu al-Najjar which contained crops, palm trees and graves of the disbelievers. The Messenger of Allah ﷺ said: Sell it to me for some price. They (Banu al-Najjar) replied: We do not want (any price). The palm-trees were cut off, and the crops removed and the graves of the disbelievers dug opened. He then narrated the rest of the tradition. But this version has the word forgive in the verse, instead of the word help. Musa said: Abd al-Warith also narrated this tradition in a like manner. The version of Abd al-Warith has the word dung-hill (instead of crop), and he asserted that he narrated this tradition to Hammad.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded us to build mosques in different localities (i. e. in the locality of each tribe separately) and that they should be kept clean and be perfumed.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٩ (٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٩١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٦٤ (٥٩٤)، مسند احمد (٥/١٢، ٢٧١) (صحیح )
سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے (سلیمان) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
Samurah reported that he wrote (a letter) to his sons: After (praising Allah and blessing the Prophet) that: The Messenger of Allah ﷺ used to command us to build mosques in our localities and keep them well and clean.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، مسند احمد (٥/١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٦) (صحیح )
نبی اکرم ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو ، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جاسکے ۔
Narrated Maymunah ibn Saad (RA) : I said: Messenger of Allah, tell us the legal injunction about (visiting) Bayt al-Muqaddas (the dome of the Rock at Jerusalem). The Messenger of Allah ﷺ said: go and pray there. All the cities at that time were effected by war. If you cannot visit it and pray there, then send some oil to be used in the lamps.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٦ (١٤٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٣ ) ( ضعیف) (زیاد اور میمونہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن ابن ماجہ کی سند میں یہ واسطہ عثمان بن أبی سودة ہے، اس حدیث کی تصحیح بوصیری نے کی ہے، اور نووی نے تحسین کی ہے، البانی نے صحیح أبی داود (٦٨) میں اس کی تصحیح کی ہے، اور اخیر خبر میں نکارت کا ذکر کیا ہے، ناشر نے یہ نوٹ لگایا ہے کہ البانی صاحب نے بعد میں صحیح أبی داود سے ضعیف أبی داود میں منتقل کردیا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر اپنے فیصلے کو تبدیل کریں، جبکہ آخری حدیث میں ذہبی سے نکارت کی وجہ بیان کردی ہے، کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، تو حجاز سے اس کو وہاں بھیجنے کا کیا مطلب، اور یہ کہ یہ تیل نصارے کے لئے وہ بھیجیں کہ وہ صلیب و تمثال پر اس کو جلائیں، یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے )
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہوگئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: کتنا اچھا کام ہے یہ ۔
Abu al-Walid said: I asked Ibn Umar about the gravel spread pin the mosque. He replied: One night the rain fell and the earth was moistened. A man was bringing the gravel (broken stones) in his cloth and spreading it beneath him. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said: How fine it is!
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالولید مجہول ہیں )
ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے ۔
Abu Hurairah reported (Abu Bakr said that in his opinion he narrated this tradition from the Prophet): The gravels adjure the person when removes them from the mosque.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٨٣٧) (ضعیف) (اس میں قاضی شریک ضعیف راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: The rewards of my people were presented before me, so much so that even the reward for removing a mote by a person from the mosque was presented to me. The sins of my people were also presented before me. I did not find a sin greater than that of a person forgetting the Quranic chapter or verse memorised by him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٩ (٢٩١٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٢) (ضعیف) ( ابن جریج اور مطلب دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، دونوں کے مابین انقطاع ہے، نیز مطلب اور انس کے درمیان انقطاع ہے مطلب کا کسی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ١ ؍ ١٦٤)۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو بہتر ہے) ١ ؎۔ نافع کہتے ہیں: تو ابن عمر ؓ تاحیات اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کے بجائے) یہ عمر ؓ کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If we left this door for women (it would have been better). Nafi said: Ibn Umar did not enter (the door) until his death. The other except Abd al-Warith said: This was said by Umar (and not by Ibn Umar) and that is more correct.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس سے مسجد میں آنے جانے میں عورتوں کا مردوں سے اختلاط اور میل جول نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٨٨)، ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (٥٧١) (صحیح )
نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہ بات کہی اور یہی زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
This tradition has been reported by Umar bin al-Khattab through a different chain of narrators. He narrated it to the same effect and that is more correct.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ عمر بن خطاب ؓ کا اپنا قول ہے، یہی صحیح روایت ہے۔