Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 24 of 265

464Sunan Abu Dawood

مسجد میں عورتوں کا مردوں سے الگ رہنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُدْخَلَ مِنْ بَابِ النِّسَاءِ.

نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ (مردوں کو) عورتوں کے دروازہ سے داخل ہونے سے منع کرتے تھے۔

Nafi said: Umar bin al-Khattab used to prohibit (men) to enter through the door reserved for women

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٨٨) (صحیح ) .
465Sunan Abu Dawood

مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ.

ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم ﷺ پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: اللهم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: اللهم إني أسألک من فضلک اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔

Abu Usaid al-Ansari reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when any of you enters the mosque he should invoke blessing on the prophet ﷺ and then he should say: O Allah, open to me the gates of thy mercy. And when he goes out, he should say: O Allah, I ask thee out of Thine abundance.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٠ (٧١٣)، سنن النسائی/المساجد ٣٦ (٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٩٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٣ (٧٧٢)، مسند احمد (٥/ ٤٢٥) سنن الدارمی/الصلاة ١١٥ (١٤٣٤)، والاستئذان ٥٦ (٧٧٢) (صحیح )
466Sunan Abu Dawood

مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ حَدَّثْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، قَالَ: أَقَطُّ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ، قَالَ الشَّيْطَانُ: حُفِظَ مِنِّي سَائِرَ الْيَوْمِ.

حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے: أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم (میں اللہ عظیم کی، اس کی ذات کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں) تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کرلیا گیا۔

Haiwah bin Shuraih reported: I met Uqbah bin Muslim and said to him: it has been reported to me that someone has narrated to you from the prophet ﷺ that when he entered the mosque, he would say: I seek refuge in Allah, the Magnificent, and in His noble face, and in his eternal domain, from the accursed Devil. He asked: is it so much only? I said: Yes. He said: when anyone says so. The devil says: he is protected from me all the day long.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٠) (صحیح )
467Sunan Abu Dawood

مسجد میں داخل ہونے کے بعد نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) پڑھ لے ۔

Abu Qatadah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; when any one of you enters the mosque, he should pray two RAKAHS before sitting down.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٠ (٤٤٤)، والتھجد ٢٥ (١١٦٣)، صحیح مسلم/ المسافرین ١١ (٧١٤)، سنن الترمذی/ الصلاة ١١٩ (٣١٦)، سنن النسائی/ المساجد ٣٧ (٧٣١)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ٥٧ (١٠١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٨(٥٧)، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣)، سنن الدارمی/الصلا ة ١١٤ (١٤٣٣) (صحیح )
468Sunan Abu Dawood

مسجد میں داخل ہونے کے بعد نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، زَادَ: ثُمَّ لِيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ، أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ.

اس سند سے بھی ابوقتادہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔

This tradition has been narrated by Abu Qatadah through a different chain of transmitters to the same effect from the prophet ﷺ . This version adds: then he may remain sitting (after praying two RAKAHS) or may go for his work.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٣) (صحیح )
469Sunan Abu Dawood

مسجد میں بیٹھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُمْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے، فرشتے کہتے ہیں: اللهم اغفر له اللهم ارحمه اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; The angels invoke blessings on any of you who remains sitting at the place where he says his prayers so long as he is defiled (needs ablution) or stands up, saying: O Allah, forgives him; O Allah, have mercy on him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٧٦)، والصلاة ٦١ (٤٤٥)، ٨٧ (٤٧٧)، والأذان ٣٠ (٦٤٧)، ٣٦ (٦٥٩)، والبیوع ٤٩ (٢٠١٣)، وبدء الخلق ٧ (٣٢٢٩)، سنن النسائی/المساجد ٤٠ (٧٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٤٩ (٦٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٩ (٣٣٠)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٩ (٧٩٩)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٨ (٥١)، مسند احمد (٢/٢٦٦، ٢٨٩، ٣١٢، ٣٩٤، ٤١٥، ٤٢١، ٤٨٦، ٥٠٢) (صحیح )
470Sunan Abu Dawood

مسجد میں بیٹھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ.

اسی سند سے ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; one is considered to be at prayer so long as one is detained by prayer: Nothing prevents one from going home to one’s family except prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٦ (٦٥٩)، صحیح مسلم/المساجد ٤٩ (٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٧) (صحیح )
471Sunan Abu Dawood

مسجد میں بیٹھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ، فَقِيلَ: مَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے ۔ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (حدث یہ ہے کہ وہ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے (یعنی وضو توڑ دے) ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; The servant (of Allah) is considered to he at prayer so long as he remains at the place of prayer waiting for prayer. The angels say: O Allah, forgive him? O Allah, take mercy on him, until he turns away, or he is defiled. He was asked: what is meant by defilement? He replied: he breaks wind gently or loudly.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٩ (٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥١)، مسند احمد (٢/٤١٥، ٥٢٨) (صحیح )
472Sunan Abu Dawood

مسجد میں بیٹھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیب ہے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; one shall have the thing the for which one comes to the mosque.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جیسی نیت ہوگی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٢٧٩) (حسن )
473Sunan Abu Dawood

مسجد میں گم شدہ چیز ڈھو نڈ نے کے لئے اعلان نہ کرے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے (اس گمشدہ چیز کو) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔

Abu Hurairah reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying; if anyone hears a man crying out in the mosque about something he has lost, he should say: May Allah not restore it to you, for the mosque were not built for this.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٨ (٥٦٨)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١١ (٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٨ (١٤٤١) (صحیح )
474Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ، ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے (مٹی) میں چھپا دو ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying: Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle.

Notes · وضاحت
١ ؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آ ہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔
Takhrij · تخریج
حدیث مسلم بن إبراہیم عن ہشام وأبان تفرد بہ أبو داود، تحفة (١١٣٧، ١٣٨٣)، وحدیث مسلم بن إبراہیم عن شعبة، صحیح البخاری/الصلاة ٣٧ (٤١٥)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، مسند احمد (٣/١٧٣، ٢٣٢، ٢٧٤، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٥) (صحیح )
475Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو ۔

Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٥٥٢)، سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨) (صحیح )
476Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ...، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting phlegm in the mosque. . . The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٩، ٢٠٩، ٢٣٤) (صحیح )
477Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ، فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کردینا چاہیئے، اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے ۔

Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah ﷺ said: if anyone enters the mosque, and spits in it, or ejects phlegm, he should remove some earth and bury it there. If he does not do so, then he should spit in his clothes and not come out with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨ و ٤٠٩)، ٣٥ (٤١٠ و ٤١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٨)، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٠ (٧٢٤)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٣٢٤، ٤٧١، ٥٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٨) (حسن صحیح) (مؤلف کی سند میں ابن أبی حدرد لین الحدیث ہیں جن کی متابعت حمید بن عبدالرحمن نے کی ہے اس لئے یہ حدیث حسن صحیح ہے )
478Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ.

طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن (اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے ۔

Narrated Abdullah al-Muharibi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When a man stands with the intention of saying prayer, or if any of you says prayer, he should not spit before him, nor at his right side; but he should do so at his left side, if there is a place for it; or he should spit under his left foot and then rub it off.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧١)، سنن النسائی/المساجد ٣٣ (٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦١ (١٠٢١)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٦) (صحیح )
479Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ ﷺ نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ ﷺ نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ١ ؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) خلوق (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔

Ibn Umar reported: One day while the Messenger of Allah ﷺ was giving sermon he suddenly saw phlegm on the wall towards the qiblah (the direction to which Muslims turn in prayer) of the mosque. So he became angry at people. He then scraped it and sent for saffron and stained with it. He then said: When any one of you prays, Allah, the Exalted, faces him: he, therefore, should not spit before him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے فإن الرحمة تواجهه۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، والأذان ٩٤ (٧٥٣)، والعمل في الصلاة ٢ (١٢١٣)، والأدب ٧٥ (٦١١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٨) وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٠ (٧٢٤)، موطا امام مالک/القبلہ ٣ (٤)، مسند احمد (٢/٣٢، ٦٦، ٨٣، ٩٦) سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٧) (صحیح )
480Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ، وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ: أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، (ایک روز) آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ ﷺ نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے ۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔

Abu Saeed Al-khudri said: The Prophet ﷺ liked the twigs of the date-palm, and he often had one of them in his hand. He entered the mosque and saw phlegm in the wall towards qiblah and he scraped it. He then turned towards people in anger and said: Is any one of you is pleased to spit in his face? When any of you faces qiblah, he indeed faces his Lord, the Majestic the Glorious: the angels are at right side. Therefore, he should not spit on his right side or before him towards qiblah. He should spit towards his left side or beneath his foot. If he is in a hurry, he should do so-and-so. Describing it Ibn ‘Ajlan said: He should spit in his cloth and fold a part of it over the other.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨، ٤٠٩)، ٣٥ (٤١٠، ٤١١)، ٣٦ (٤١٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٠)، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٠ (٧٦١)، مسند احمد (٣/٦، ٢٤، ٥٨، ٨٨، ٩٣) (حسن صحیح )
481Sunan Abu Dawood(485)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ابن طاب ١ ؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟ ، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آجائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے ، پھر آپ ﷺ نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے عبير ٢ ؎ لا کر دو ، چناچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق ٣ ؎ لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر ؓ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں خلوق لگایا کرتے ہو۔

Narrated Abu Sahlah as-Saib ibn Khallad (RA) : A man led the people in prayer. He spat towards qiblah while the Messenger of Allah ﷺ was looking at him. The Messenger of Allah said to the people when he finished his prayer: He should not lead you in prayer (henceforth). Thenceforth he intended to lead them in prayer, but they forbade him and informed him of the prohibition of the Messenger of Allah ﷺ . He mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ who said to him: Yes. The narrator said: I think he (the Prophet) said: You did harm to Allah and His Messenger.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔ ٢ ؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔ ٣ ؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٤) (صحیح )
482Sunan Abu Dawood(481)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: لَا يُصَلِّي لَكُمْ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ابو سہلہ سائب بن خلاد ؓ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ ﷺ یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) ، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ۔

Abu al-Ala reported on the authority of his father: I came to the Messenger of Allah ﷺ who was saying prayer. He spat beneath his left foot.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٥٦) (حسن )
483Sunan Abu Dawood(482)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن شخیر بن عوف ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔

Abu al-Ala reported this tradition on the authority of his father to the same effect with a different chain of narrators. This version adds: “He then rubbed it with his shoe.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد ٣٤ (٧٢٨)، مسند احمد (٤/٢٥، ٢٦) (صحیح )