Sunan Abu Dawood 441

نماز کا بیان

441Sunan Abu Dawood

بھول سے یا سونے کی بناء پر نماز ترک ہو جانا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ أَنْ تُؤَخِّرَ صَلَاةً حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ أُخْرَى.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔

Abu Qatadah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no remissness in sleep, it is only when one is awake that there is remissness when you delay saying the prayer till the time for the next prayer comes.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٦ (١٧٧)، سنن النسائی/المواقیت ٥٣(٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٨٥) (صحیح )