Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 130 of 265

2587Sunan Abu Dawood

تیرلے کر مسجد میں جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ كَفَّهُ أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے ، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے ۔

Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ When one of you passes our Masjid or our market with an arrow, he should hold its head or hold it with its hand (the narrator is doubtful) so that no harm may be done to any Muslim. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٧ (٤٥٢)، والفتن ٦ (٧٠٧٥)، صحیح مسلم/البر (٢٦١٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥١ (٣٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩١، ٣٩٢، ٣٩٧، ٤١٠، ٤١٣) (صحیح )
2588Sunan Abu Dawood

ننگی تلوار دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ننگی تلوار (کسی کو) تھمانے سے منع فرمایا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ prohibited to hand the drawn sword.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسی طرح کوئی بھی ایسا ہتھیار لے کر راستہ میں یا مجمع میں چلنا جس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو ممنوع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥ (٢١٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٠، ٣٦١) (صحیح )
2589Sunan Abu Dawood

ننگی تلوار دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُقَدَّ السَّيْرُ بَيْنَ أُصْبَعَيْنِ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنے سے منع فرمایا۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited to cut a piece of leather between two fingers.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٥٧٧) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے )
2590Sunan Abu Dawood

ایک ساتھ کئی زرہیں پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ يَذْكُرُ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ أَوْ لَبِسَ دِرْعَيْنِ.

سائب بن یزید ؓ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔

Narrated as-Saib ibn Yazid: as-Saib reported on the authority of a man whom he named: The Messenger of Allah ﷺ put on two coats of mail during the battle of Uhud as a double protection. (The narrator is doubtful about the word zahara or labisa. )

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٨ (٢٨٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٩) (صحیح )
2591Sunan Abu Dawood

جھنڈے اور نشان کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدِ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كَانَتْ، فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ.

محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: Yunus ibn Ubayd, client of Muhammad ibn al-Qasim, said that Muhammad ibn al-Qasim sent to al-Bara ibn Azib to ask him about the standard of the Messenger of Allah ﷺ . He said: It was black and square, being made of a woollen rug.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ١٠ (١٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٧) (صحیح) (لیکن مربعة۔ چوکور۔ کا لفظ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم ثقفی کوفی میں ضعف ہے ان کی توثیق ابن حبان نے کی ہے، اور اس لفظ کی روایت میں ان کا کوئی شاہد یا متابع نہیں ہے )
2592Sunan Abu Dawood

جھنڈے اور نشان کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَهُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ لِوَاؤُهُ يَوْمَ دَخَلَ مَكَّةَ أَبْيَضَ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس دن مکہ میں داخل ہوئے آپ کا پرچم سفید تھا۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : When the Prophet ﷺ entered Makkah his banner was white.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٩ (٢٨٦٦)، سنن النسائی/الحج ١٠٦ (٢٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٠ (٢٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٨٩) (صحیح )
2593Sunan Abu Dawood

جھنڈے اور نشان کا بیان

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ آخَرَ مِنْهُمْ، قَالَ: رَأَيْتُ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ.

سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کا پرچم زرد دیکھا۔

Narrated Simak ibn Harb (RA) : Simak reported on the authority of a man from his people, on the authority of another man from them: I saw that the standard of the Messenger of Allah ﷺ was yellow.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٣) (ضعیف) (اس کی سند میں دو مبہم راوی ہیں )
2594Sunan Abu Dawood

کمزور اور بے بس آدمیوں کا وسیلہ سے مدد مانگنا

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ابْغُونِي الضُّعَفَاءَ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ أَخُو عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو ۔

Narrated Abud Darda: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Seek for me weak persons, for you are provided means of subsistence and helped through your weaklings. Abu Dawud said: Zaid bin Artat is the brother of Adi bin Artat.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٢٤ (١٧٠٢)، سنن النسائی/الجھاد ٤٣ (٣١٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٨) (صحیح )
2595Sunan Abu Dawood

جنگ میں کو ڈورڈ (خفیہ اشارہ) استعمال کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ عَبْدَ اللَّهِ، وَشِعَارُ الأَنْصَارِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار (کوڈ) ١ ؎ عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔

Samurah bin Jundub said “The war-cry of the Emigrants was Abdullah and that of the helpers Abd Al Rahman. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتادیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جاسکے، اسے ” پر دل “ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٠١) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ” عنعنہ “ سے ہے) (ضعیف )
2596Sunan Abu Dawood

جنگ میں کو ڈورڈ (خفیہ اشارہ) استعمال کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ أَمِتْ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر ؓ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار أمت أمت ١ ؎ تھا۔

Ilyas bin Salamah (bin Al Akwa) said on the authority of his father “We went on an expedition with Abu Bakr (Allaah be pleased with him) in the time of the Messenger of Allah ﷺ and our war cry was “Put to death” “Put to death”. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الجہاد ٣٠ (٢٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦)، سنن الدارمی/السیر ١٥(٢٤٩٥)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٦٣٨) (حسن صحیح )
2597Sunan Abu Dawood

جنگ میں کو ڈورڈ (خفیہ اشارہ) استعمال کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَن سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ.

مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار (کوڈ) حم لا ينصرون ١ ؎ ہونا چاہیئے ۔

Narrated A man who heard the Prophet: Al-Muhallab ibn Abu Sufrah said: A man who heard the Prophet ﷺ say: If the enemy attacks you at night, let your war cry be Ha-Mim. They will not be helped.

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی قسم دشمنوں کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل نہیں ہوگی بلکہ وہ مغلوب رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ١١ (١٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (٨٨٦١)، الیوم واللیلة (٦١٧)، مسند احمد (٤/٦٥، ٥/٣٧٧) (صحیح )
2598Sunan Abu Dawood

سفر میں روانگی کے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بک من وعثاء السفر وکآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر اے اللہ! تو (میرے) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر (دیکھنے سے) سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ proceeded on journey, he would say: O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family; O Allah, I seek refuge in Thee from the difficulty of travelling, finding harm when I return, and unhappiness in what I see coming to my family and property. O Allah, make the length of his journey short for us, and the journey easy for us.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٧٥ (١٣٤٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٢ (٣٤٣٨)، سنن النسائی/الاستعاذة ٤٣ (٥٥١٦)، مسند احمد (٢/٤٠١، ٤٣٣) (حسن صحیح )
2599Sunan Abu Dawood

سفر میں روانگی کے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الأَزَدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بِعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14 سورة الزخرف آية 13-14، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْبُعْدَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُيُوشُهُ إِذَا عَلَوْا الثَّنَايَا كَبَّرُوا وَإِذَا هَبَطُوا سَبَّحُوا فَوُضِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى ذَلِكَ.

علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: { سبحان الذي سخر لنا هذا وما کنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألک في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال پاک ہے وہ اللہ جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کردیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے، اے اللہ! ہمارے لیے مسافت کو لپیٹ دے، اے اللہ! تو ہی رفیق سفر ہے، اور تو ہی اہل و عیال اور مال میں میرا قائم مقام ہے ، اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے: آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون ہم امن و سلامتی کے ساتھ سفر سے لوٹنے والے، اپنے رب سے توبہ کرنے والے، اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنے والے ہیں ، نبی اکرم ﷺ اور آپ کے لشکر کے لوگ جب چڑھائیوں پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے، پھر نماز بھی اسی قاعدہ پر رکھی گئی ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ sat on his camel to go out on a journey, he said: Allah is Most Great three times. Then he said: Glory be to Him Who has made subservient to us, for we had not the strength for it, and to our Lord do we return. O Allah, we ask Thee in this journey of ours, uprightness, piety and such deeds as are pleasing to Thee. O Allah, make easy for us this journey of ours and make its length short for us. O Allah, Thou art the Companion in the journey, and the One Who looks after the family and property in our absence. When he returned, he said these words adding: Returning, repentant, serving and praising our Lord. The Prophet ﷺ and his armies said: Allah is Most Great when they went up to high ground; and when armies said: Allah is most Great when they went up to high ground; and when they descended, they said: Glory be to Allah. So the prayer was patterned on that.

Notes · وضاحت
١ ؎: چناچہ رکوع میں سبحان ربي العظيم اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى اور اٹھتے وقت الله أكبر کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٥ (١٣٤٢)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٧ (٣٤٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٤، ١٥٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٢ (٢٧١٥) (صحیح) (مؤلف کے سوا کسی کے یہاں وکان النبي ﷺ وجیوشہ الخ کا جملہ نہیں ہے، اور یہ صحیح بھی نہیں ہے، ہاں اوپر چڑھنے اور نیچے اترنے کی دعا کی موافقت دوسری صحیح احادیث سے موجود ہے )
2600Sunan Abu Dawood

رخصت کرتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: هَلُمَّ أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ.

قزعہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عمر ؓ نے کہا: آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رخصت کیا تھا: أستودع الله دينک وأمانتک وخواتيم عملک میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

Qaza’ah said Ibn Umar told me “Come, I see off you as the Messenger of Allah ﷺ saw me off. I entrust to Allaah your religion what you are responsible for and your final deeds. ”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٤٤ (٣٤٤٣)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٤ (٢٨٢٦)، مسند احمد (٢/٧، ٢٥، ٣٨، ١٣٦) (صحیح )
2601Sunan Abu Dawood

رخصت کرتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ، قَالَ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ.

عبداللہ خطمی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: أستودع الله دينكم وأمانتکم وخواتيم أعمالکم میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔

Narrated Abdullah al-Khutami (RA) : When the Prophet ﷺ wanted to say farewell to an army, he would say: I entrust to Allah your religion, what you are responsible for, and your final deeds.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٦٧٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٥٠٧) (صحیح )
2602Sunan Abu Dawood

سواری پر چڑھتے وقت کیا دعا پڑھے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14 سورة الزخرف آية 13-14، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي.

علی بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ میں علی ؓ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم الله کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو الحمد الله کہا، اور سبحان الذي سخر لنا هذا وما کنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون کہا، پھر تین مرتبہ الحمد الله کہا، پھر تین مرتبہ الله اکبر کہا، پھر سبحانک إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: Ali ibn Rabiah said: I was present with Ali while a beast was brought to him to ride. When he put his foot in the stirrup, he said: In the name of Allah. Then when he sat on its back, he said: Praise be to Allah. He then said: Glory be to Him Who has made this subservient to us, for we had not the strength, and to our Lord do we return. He then said: Praise be to Allah (thrice); Allah is Most Great (thrice): glory be to Thee, I have wronged myself, so forgive me, for only Thou forgivest sins. He then laughed. He was asked: At what did you laugh? He replied: I saw the Messenger of Allah ﷺ do as I have done, and laugh after that. I asked: Messenger of Allah, at what are you laughing? He replied: Your Lord, Most High, is pleased with His servant when he says: Forgive me my sins. He know that no one forgives sins except Him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٤٧ (٣٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری / (٨٧٩٩)، الیوم واللیلة (٥٠٢)، مسند احمد (١/٩٧، ١١٥، ١٢٨) (صحیح لغیرہ) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧/٣٥٤ )
2603Sunan Abu Dawood

جب آدمی کسی منزل پر اترے تو کیا کہے؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ: يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے اور رات ہوجاتی تو فرماتے: يا أرض ربي وربک الله أعوذ بالله من شرک وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساکن البلد ومن والد وما ولد اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے (انسانوں اور جنوں) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ was travelling and night came on, he said: O earth, my Lord and your Lord is Allah; I seek refuge in Allah from your evil, the evil of what you contain, the evil of what has been created in you, and the evil of what creeps upon you; I seek refuge in Allah from lions, from large black snakes, from other snakes, from scorpions, from the evil of jinn which inhabit a settlement, and from a parent and his offspring.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٢، ٣/١٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی زبیر بن ولید لین الحدیث ہیں )
2604Sunan Abu Dawood

شروع رات میں چلنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فواشی ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔

Jabir bin Abd Allaah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Do not send out your beasts when the sun has set till the darkness of the night prevails, for the devils grope about in the dark when the sun has set till the darkness of the night prevails. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے پیدل یا جانوروں کی سورای والے سفر میں مغرب کے وقت ٹھہر جانا چاہیے، پھر اندھیرا ہونے پر چلنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الأشربة ١٢ (٢٠١٣)، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣١٢، ٣٦٢، ٣٧٤، ٣٨٦، ٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٣) (صحیح )
2605Sunan Abu Dawood

کس دن سفر کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ.

کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں (یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے) ۔

Narrated Kab ibn Malik: It was rarely that the Messenger of Allah ﷺ set out on a journey on any day but on a Thursday.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٠٣ (٢٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٤، ٤٥٥، ٦/٣٨٦، ٣٨٧، ٣٩٠) (صحیح) (اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے )
2606Sunan Abu Dawood

اول صبح میں سفر کرنا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ.

صخر غامدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللهم بارک لأمتي في بکورها اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے اور جب بھی آپ ﷺ کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ (عمارہ کہتے ہیں) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہوگئے اور ان کا مال بہت ہوگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔

Narrated Sakhr al-Ghamidi (RA) : The Prophet ﷺ said: O Allah, bless my people in their early mornings. When he sent out a detachment or an army, he sent them at the beginning of the day. Sakhr was a merchant, and he would send off his merchandise at the beginning of the day; and he became rich and had much wealth. Abu Dawud said: He is Sakhr bin Wadaah.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٦ (١٢١٢)، سنن ابن ماجہ/ التجارات ٤١ (٢٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤١٧، ٤٣٢، ٤/٣٨٤، ٣٩٠، ٣٩١)، دی/ السیر ١(٢٤٧٩) (صحیح) ( حدیث کا پہلا ٹکڑا اللهم بارک لأمتي في بکورها شواہد کی وجہ سے صحیح ہے اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق ابن حبان نے کی ہے جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے ” الضعیفہ ( ٤١٧٨) “ میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے )