کس دن سفر کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ.
کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں (یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے) ۔
Narrated Kab ibn Malik: It was rarely that the Messenger of Allah ﷺ set out on a journey on any day but on a Thursday.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٠٣ (٢٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٤، ٤٥٥، ٦/٣٨٦، ٣٨٧، ٣٩٠) (صحیح) (اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے )